جمہوری مارچ: نتائج کیا نکلتے ہیں؟

جمہوری مارچ: نتائج کیا نکلتے ہیں؟
جمہوری مارچ: نتائج کیا نکلتے ہیں؟

  



جمہوریت میں آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کو بہت اہمیت دی گئی، لیکن بنیادی انسانی حقوق جو آئین پاکستان 1973ء نے پاکستانی شہریوں کو دیئے ہیں،ان کے ساتھ کچھ شرائط بھی رکھی گئی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کئی مارچ حکومتوں کے خلاف ہوئے، ان مارچوں سے ہمیشہ ملک کو نقصان ہی ہوا،اگر حکومت کے خلاف ایسے مارچ کے مقاصد اور سپرٹ کو دیکھا جائے تو سوائے حکومت کو پریشانیوں اور مسائل میں مبتلا کرنے کے کچھ نہیں ہوتا۔ پاکستان میں ایسے مارچ اب رواج بن چکے ہیں اور ایسے مارچ کروانے کے پیچھے عوام نہیں ہوتے، بلکہ کچھ اندرونی اور کچھ بیرونی طاقتیں ہوتی ہیں۔ اظہار رائے اور تنقید جمہوریت کا حسن ہے، لیکن مارچ اس وقت ریاست یا حکومت کے خلاف ہونے چاہئیں،جب عوامی ردعمل اور رائے عامہ حکومت کے مکمل خلاف ہو جائے، لیکن وطیرہ یہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں جب کوئی حکومت اقتدار میں آتی ہے تو ایک سال کے بعد اس کے خلاف سازشیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ان سازشوں کا مقصد حزب اقتدار پارٹی کا خاتمہ ہوتا ہے۔ جمہوریت میں حکومت کو اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے پورا موقع دینا چاہئے، تاکہ ملک کا نظام درہم برہم نہ ہو اور ملک کے استحکام کو نقصان نہ ہو۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی حکومت کے خلاف ایسے احتجاجی مارچ ہوتے ہیں، لیکن ان کے مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں۔ ایسے لانگ مارچ یا آزادی مارچ اصل میں رائے عامہ کو حکومت کے خلاف کروانے اور ان کی ایسی پالیسیوں کے خلاف کئے جاتے ہیں، جس سے حکومت کی کارکردگی کو سامنے لایا جاتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر کیا، حالانکہ اپوزیشن جماعتیں، جن میں بڑی جماعتیں مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی ہیں، کھل کر سامنے نہیں آئیں، بلکہ پس پشت مولانا فضل الرحمن کو سپورٹ کرتی رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ کچھ اسلامی نظریات کی حامل جماعتیں ہیں جو ساتھ دیتی ہیں، لیکن فضل الرحمن کو ہمیشہ حکومتوں کے مہرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ موجودہ حکومت کو اپنے اندر تبدیلیاں لانے کی اشد ضرورت ہے اور کئی بار بیوروکریسی کی تبدیلی سے عوام میں اچھا تاثر نہیں جاتا۔ پنجاب میں کئی آئی جی اور چیف سیکرٹری 15 ماہ میں تبدیل ہوئے ہیں،لہٰذا حکومت کو پہلے ہی سوچ سمجھ کر ایسے بیوروکریٹس کی لسٹ تیار کرنی چاہئے جو ملک کے لئے مثبت سوچ رکھتے ہیں اور ایسے افسروں کی ملک میں قلت نہیں ہے، نہ ہی ایسے پولیس افسروں کی۔

بیوروکریسی کا کچھ حصہ،بظاہر حکومت کے ساتھ نظر نہیں آ رہا،لیکن حکومت کو ملک بھر کے صوبوں میں بیوروکریسی کی تعیناتی میں اپنی پالیسی کو تبدیل کرنا ہو گا۔ مولانا فضل الرحمن نے اب اے پی سی کا شور مچایا ہوا ہے،اے پی سی کیا کرے گی؟ سوائے یہ کہ وہ حکومت کو مشکل وقت دینے کے لئے کوئی لائحہ عمل تیارکرے، عمران خان نے کلین اینڈ گرین انڈیکس پروگرام کی افتتاحی تقریب میں بہت کام کی باتیں کیں اور ملک میں قدرتی وسائل اور انسانی وسائل کا ذکر بھی کیا۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اپوزیشن عوام کی حمایت کھو چکی ہے اور اے پی سی محض شرمندگی مٹانے کی کوشش ہے۔ ملک کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے ہر پاکستانی کو اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔ ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکس کی شرح میں اضافہ کئے بغیر بھی اپنی آمدنی میں اضافہ کرسکتی ہے۔ وزیراعظم اس سلسلے میں ٹیم ورک کے قائل ہیں، لیکن اگر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کابینہ میں اہم تبدیلیوں کی ابھی ضرورت ہے، کیونکہ کابینہ کے بعض وزراء صحیح طریقے، سے ڈلیور نہیں کر پا رہے۔

مسائل کی جڑ تک پہنچنے میں ابھی تک حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ بیرونی ممالک سے ان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ پاکستان کا یہ وطیرہ غلط ہے، بلکہ جو بھی حکومت جمہوری طریقے سے بنتی ہے، اس کو اپنا وقت پورا کرنا چاہئے یا پارلیمنٹ کی مدت پانچ سال کی بجائے 3 سال کر دینی چاہئے، تاکہ جمہوری طریقے سے جلد ملک میں الیکشن ہوں اور دوسری سیاسی پارٹیوں کو بھی موقع مل سکے۔ پاکستان میں سیاسی پارٹیوں کا نظام مضبوط نہیں، جس کی وجہ سے جمہوریت کے لئے خطرات پیدا ہوتے ہیں اور برسر اقتدار پارٹی چند ماہ ہی مکمل کر پاتی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اس کی کمزوریاں اکٹھی کر کے جمہوری مارچ کا شور شرابا کرتی ہیں اور دعویٰ کرتی ہیں کہ حکومت عوام کا اعتماد کھو چکی ہے اور وہ اپوزیشن کے ساتھ ہیں اور ان کے نقطہ نظر کی حمایت کرتی ہیں، حالانکہ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اپوزیشن جماعتیں مارچ یا احتجاجی تحریکوں کے ذریعے جو تنقید برسر اقتدار پارٹی کے خلاف کر رہی ہوں، وہ درست ہوں یا عوامی رائے عامہ ان کی حمایت میں ہو۔

عوامی رائے عامہ برسر اقتدار حکومت کے خلاف ہے یا حق میں؟ اس کو جانچنے کا معیار احتجاجی تحریکیں یا مارچ نہیں ہو سکتا۔ ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف، ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو کے خلاف بھی مارچ ہوئے، لیکن نتائج کیا نکلتے رہے ہیں؟ ایسے مارچ کا مقصد صرف پریشر گروپوں کے ساتھ مل کر حکومت کو دباؤ میں لانا ہوتا ہے۔ ان کی خصوصی طور پر معاشی پالیسیوں، مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور صحت کی پالیسیوں پر منفی تنقید کر کے عوام کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش ہوتی ہے۔ 1947ء کے بعد سے پاکستان میں ایسے بے شمار مارچ، اتحاد اور تحریکوں کے علاوہ آل پارٹی کانفرنسیں ہوئیں،اس سے ملک کی بنیاد بھی مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہوتی ہیں، ترقی یافتہ ممالک میں ایسے اجتماعی مظاہرے یا مارچ مثبت طریقے سے ہوتے ہیں، ان کا مقصد حکومت گرانا نہیں ہوتا،بلکہ صرف عوام کو حکومت کی پالیسیوں سے مطلع کرنا ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں سڑکیں بلاک ہو جاتی ہیں، کاروبار زندگی معطل ہو جاتا ہے، اشیائے ضروریات کی کمی ہو جاتی ہے، ڈالر کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور مہنگائی میں اضافے سے عوام کی نارمل زندگی سے مشکل زندگی ہو جاتی ہے۔ چھوٹی صنعتیں بند ہو جاتی ہیں، مزدور، کسان اور روزانہ کی بنیاد پر کمانے والے افراد کا چولہا بجھ جاتا ہے۔ ملک میں رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں، حکومت کی تمام فورسز فوج، پولیس، رینجرز اور ایجنسیاں اپنی توانائیاں احتجاج یا مارچ کو روکنے اور امن و امان کی صورت حال کو کنٹرول کرنے میں مصروف رہتی ہیں۔

روزانہ کی بنیاد پر حکومت کا خرچ زیادہ ہو جاتا ہے اور ایسی اپوزیشن جماعتوں کے مارچ سے اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ شہریوں کی زندگی تعطل کا شکار ہو جاتی ہے، فیکٹریاں متاثر ہوتی ہیں اور مزدورروں کا روزگار بند ہو جاتا ہے۔ ریاست کی سرکاری مشینری،یعنی تمام ریاستی ادارے مارچ کی روک تھام میں مصروف رہتے ہیں۔ فضل الرحمن جیسے اشخاص اور اپوزیشن جماعتوں کو کوئی اور راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ مفاہمت کا راستہ، بات چیت کا راستہ، یعنی اپوزیشن اگر مثبت کردار ادا کرے تو پھر حزب اقتدار بھی اچھے طریقے سے کارکردگی دکھا سکتی ہے، بلکہ اپوزیشن جماعتوں کو تو ملک کی بقاء اور ترقی کے لئے کام کرنا چاہئے اور مخالفت برائے مخالفت کی پالیسی کو نہیں اپنانا چاہئے، عوامی طاقت اور عوامی ووٹ کے ذریعے اپنی باری کا انتظار کرنا چاہئے۔ یہی مثبت اور ترقی یافتہ اقوام کا وطیرہ ہوتا ہے۔ اگر مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کا تجزیہ کیا جائے تو یہ صرف مفاداتی مارچ تھا۔ اس کو آزادی مارچ تو نہیں کہہ سکتے، کیونکہ مولانا فضل الرحان ہمیشہ دوسروں کے اشاروں پر اپنی توانائیاں ضائع کرتے ہیں اور اپنے کردار کو بھی متنازعہ بناتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم