”عالمی یوم معذور میں اسلامی فلاحی ریاست کا کردار“

”عالمی یوم معذور میں اسلامی فلاحی ریاست کا کردار“

  



دنیا بھر میں 3دسمبر کو عالمی سطح پر معذور افراد کا دن اس مناسبت سے منایا جاتا ہے کہ ریاستیں اور رعایا خصوصی افراد پر توجہ مرکوز کر کے ان کی معاشی،اخلاقی وسماجی سطح پر معاونت کرتی ہیں تا کہ وہ زندگی کی آخری سانس تک احساس محرومی کا شکار نہ ہو سکیں۔ رحمتہ ا للعالمین حضرت محمدؐ نے مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست میں ناداروں، یتیموں، بیواؤں، مسکینوں،معذور افراد کی کفالت کا ایسا رول ماڈل بنایا کہ خلفائے راشدین کے دور خلافت کے بعد آج کے دور تک کئی مسلمان اورغیرمسلم ممالک کی حکومتوں اور رفاعی تنظیموں نے معذور اور دیگر انسانی رحم کے قابل طبقات کے لئے ایسے اقدامات ترتیب دئیے ہیں کہ رشک آتا ہے۔ الحمدللہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مالی وسائل کی کوئی کمی نہیں، اہل پاکستان کی جانب سے رمضان المبارک اور دیگر اسلامی ایام پر ایثار و قربانی کے ایسے ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں دل خوش ہو جاتاہے کہ پاکستان کے عوام میں خدمت خلق کا جذبہ غیر ملکی خوشحال ریاستوں اور وہاں کے رئیسوں سے بڑھ کرہے۔

ہماری موجودہ حکومت، جو ملک کو مدینہ کی فلاحی ریاست کا رول ماڈل بنانا چاہتی ہے، وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں سے گزارش ہے کہ وہ معذور افراد کی کفالت،انہیں روز گار فراہم کرنے اور اندرون و بیرون ملک بنیادی سہولتیں،جن کی سرکاری سطح پر منظوری ہو چکی ہے، کے حوالے سے آگاہی مہم چلائے۔ پاکستان میں قابل قدر فلاحی تنظیمیں الخدمت فاؤنڈیشن، ایدھی، چھیپا،اخوت اپنی اپنی سطح پر خدمت انسانیت میں بے لوث خدمت سرانجام دے رہی ہیں۔الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان نے ”آغوش“کے نام سے ملک بھر میں یتیم بچوں،بچیوں کی تعلیم و تربیت،صحت، ان کے قیام و طعام کا جو پروگرام شروع کررکھا ہے، وہ بہت ہی لائق تحسین ہے اور یہ منصوبہ ملت اسلامیہ پاکستان اور دیارغیر میں بیٹھے پاکستانیوں کی طرف سے دی گئی مالی امداد کا مرہون منت ہے۔ہم الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے ذمہ داران سے بھی اس ضمن میں گزارش کریں گے کہ وہ معذور افراد کی تعلیم و صحت اور کفالت کا بھی منصوبہ بنائیں، انشاء اللہ پاکستان کے عوام انہیں دل کھول کر عطیا ت دیں گے۔

پاکستا ن اور دنیا کے دیگر ممالک میں آنے والی قدرتی آفات میں الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکاروں کی خدمت خلق کا جذبہ اور متاثر کن دادرسی کا عالمی سطح پر وہاں کی حکومتوں سمیت ہر کوئی معترف ہے،لہٰذاء حکومت پاکستان اس سلسلے میں مندرجہ ذیل اقدامات سے معذور افراد کی بحالی اور بہتری کا فریضہ بآسانی نبھا سکتی ہے:

1۔ملک بھر میں ہر یونین کونسل کی سطح پر معذور افراد کی مختلف کیٹگری کا ڈیٹا مرتب کرے۔

2۔جن معذور افراد کا ڈیٹا نادرا رجسٹریشن سنٹر پر موجود و محفوظ ہے۔ ان میں مستحق افراد کی فہرست مرتب کی جائے۔

3۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان بیت المال،محکمہ زکوٰۃ و عشر میں حکومت معذور افراد کے لئے الگ الگ رجسٹریشن و ڈیسک قائم کئے جائیں۔

4۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جو 130 ارب روپے سالانہ قومی بجٹ کا حصہ ہے، اس میں جسمانی معذور اور نابینا افراد کو ماہانہ 20 ہزار روپے کفالت کے لئے وقف کر دے تو یہ اقدام دنیا بھر کو نظر آئے گا تو اس کی ہر سطح پر تحسین ہو گی۔ حکومت کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔

5۔معذور افراد اور ان کے اہلخانہ کا سرکاری و نیم سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کا قانون نافذ ہو چکا ہے،لیکن انہیں آگاہی نہیں، لہٰذا قومی پرنٹ، الیکٹرانک،سوشل میڈیا پر اس کی سرکاری سطح تشہیر کی جائے۔

6۔تمام جسمانی و ذہنی معذور افراد کو انصاف صحت کارڈ کے قومی پروگرام میں شامل کر کے انہیں صحت کارڈ دئیے جائیں،تاکہ وہ بھی مفت علاج کی سہولت سے مستفید ہو سکیں۔

7۔ میٹرو بس سروس،سپیڈو بس سروس میں معذور افراد کو مفت سفری کارڈ دئیے جائیں، کیو نکہ لاہور میں ایل ٹی سی بس سروس حکومت پنجاب نے معذور افراد کو مفت سفر کی رعایت دے رکھی ہے، لہٰذا اورنج لائن ٹرین،میٹرو،سپیڈو بس سروس میں موجودہ حکومت معذور افراد کو مفت سفر کی سہولت فراہم کرے۔ یہ حکومت کا آئینی،قانونی،انسانی حقوق پر مبنی فرض ہے۔

8۔معذور افراد کو ٹیوٹا کے فنی تربیتی پروگرام میں شامل کیا جائے، تاکہ وہ گھر میں بیٹھ کر بھی اپنے اور اپنے خاندان کی کفالت کا بندوبست کر سکیں۔

9۔معذور افراد کو خصوصی قومی شناختی کارڈ فراہم کر رہا ہے، حکومت پاکستان فی الفور تمام یوٹیلٹی سٹورز کو ہدایت جاری کرے کہ معذور افراد کو ان یوٹیلٹی سٹورز پر اشیائے خورو نوش 40 فیصد رعایت پر ملیں گی۔

10۔ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں، سکولز، کالجوں،یونیورسٹیوں میں معذور افراد کو مفت تعلیم مہیا کی جائے۔ نجی تعلیمی اداروں کو ہر ڈگری، ڈپلومہ پروگرام میں خاص فیصد تک معذور افراد کو مفت تعلیم دینے کا پابند کیا جائے اور انہیں اسکالر شپ بھی دیئے جائیں۔

11۔انٹر سٹی بس سٹینڈ پر معذور افراد کو 50فیصد رعایت کا قانون بن چکا ہے، لہٰذا ٹرانسپورٹ کمپنیاں اپنے اپنے سٹینڈز پر اس حوالے سے آگاہی بورڈز لگائیں۔

12۔تمام ڈپٹی کمشنرز آفس میں معذور افراد کے لئے فرنٹ ڈیسک قائم کیے جائیں،تاکہ معذور افراد کو مالی امداد، میرج گرانٹ اور ان کے لواحقین کو ڈیتھ گرانٹ بآسانی مل سکے۔

13۔معذور افراد کے لئے ہوٹلوں، ریسٹورانوں میں کھانے پینے، تقریبات اور کرایہ داری میں 50 فیصد رعایت دی جائے۔

14۔ سرکاری،نیم سرکاری اداروں میں 3 فیصد کوٹے پر عملدر آمد، نیز نجی اداروں کو بھی معذور افراد کا کوٹہ مقرر کرنے کا پابند کیا جائے۔

15۔انٹر نیشنل ٹریولنگ میں معذور افراد کو کرایہ میں 30 فیصد کمی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔

16معذور افراد کی قومی و صوبائی اسمبلیوں اورسینیٹ میں ایک ایک سیٹ مختص کی جائے۔

مزید : رائے /کالم