آٹو موبائل سیکٹر کا شدت اختیار کرتا بحران

آٹو موبائل سیکٹر کا شدت اختیار کرتا بحران
آٹو موبائل سیکٹر کا شدت اختیار کرتا بحران

  



موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے یوں تو ہر شعبہ ء زندگی بری طرح متاثر ہو رہا ہے،جس کا ایک ثبوت سٹیٹ بینک آف پاکستان کی نئی مانیٹری پالیسی ہے، جس میں ملک کی معاشی صورت حال کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ مہنگائی کی رفتار اب بھی بلند سطح پر ہے، جبکہ مالی سال 2019-20ء میں مہنگائی کی شرح 11 سے 12 فیصد تک رہنے کی توقع ہے…… حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں متاثر ہونے والے کاروباروں میں آٹو موبائل، یعنی گاڑیوں کی تیاری، خرید و فروخت اور ان کے سپیئر پارٹس کی تیاری یا درآمد کا شعبہ بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے حالات کس قدر ابتر ہو چکے ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران چھوٹی گاڑیوں کی سیل میں 39 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ اسی عرصے میں ٹرکوں اور بسوں کی فروخت بالترتیب 2049 اور 267 یونٹس سے کم ہو کر 874 اور 196 رہ گئی ہے۔

مالی سال 2018ء میں 216786 کاریں فروخت ہوئیں، لیکن گزشتہ مالی سال میں یہ تعداد گھٹ کر 209630 پر آگئی۔ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ جاری مالی سال کے دوران یہ تعداد مزید کم ہو جائے گی، کیونکہ ملکی مسائل کے بڑھنے کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید میں کمی آئی ہے۔ ویسے بھی گاڑی ہر بندہ نہیں خریدتا، صرف وہی اس طرف آتا ہے جس کا بجٹ اسے گاڑی خریدنے، رکھنے اور اس کے اخراجات برداشت کرنے کی اجازت دیتا ہو۔ موٹرسائیکلوں کی سیل کے حوالے سے بھی صورت حال اس سے مختلف نہیں۔ ہنڈا موٹر سائیکل کی سیل 12 فیصد کم ہو گئی ہے، جبکہ سوزوکی کی فروخت میں 11 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آٹو سیکٹر کی سیلز میں کمی کی وجہ سے گاڑیوں کی اسمبلنگ کرنے والوں نے گاڑیوں کے پرزہ جات اور دوسری چیزوں کی درآمد میں کمی کر دی ہے۔

درآمدات میں کمی کے اس رجحان کی بنیاد پر حکومت بڑا فخر محسوس کرتی ہے کہ اس نے بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پا لیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ درآمدات، خصوصی طور پر آٹو سیکٹر کے لئے خام مال کی درآمدات میں کمی کے دو منفی پہلو سامنے آ رہے ہیں۔ پہلا یہ کہ اس کے نتیجے میں ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں اور حکومت کے ریونیو اکٹھا کرنے کا عمل بھی سست پڑ رہا ہے، جو درآمد شدہ مال پر ڈیوٹی اور کسٹم کی صورت میں اسے ملتا تھا۔ پاکستان میں گزشتہ چند ماہ کے دوران گاڑیوں کی خرید و فروخت میں نمایاں کمی کی کئی وجوہات ہیں …… پہلی وجہ روپے کی قدر میں کم و بیش ایک تہائی کمی اور اس کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اتنا ہی اضافہ ہے۔

علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے درآمدی ڈیوٹی بڑھانا، لیوی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا اطلاق بھی گاڑیوں کی قیمتیں بڑھنے کا باعث بنا ہے۔ ہماری ہی نہیں، ہر ملک کی سڑکوں پر دو طرح کی گاڑیاں نظر آتی ہیں، ماسوائے ان ممالک کے جو گاڑیاں خود تیار کرتے ہیں۔ یہ دو طرح کی گاڑیاں درآمدی گاڑیاں اور مقامی طور پر اسمبل یا تیار کی جانے والی گاڑیاں ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ درآمدی گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی ان کی قیمت کے حساب سے عائد ہوتی ہے، جبکہ جو گاڑیاں مقامی طور پر اسمبل (بیرون ملک سے پارٹس درآمد کر کے مقامی سطح پر ان پرزوں کو جوڑنا) کی جاتی ہیں، ان اسمبل شدہ 60 سے 70 فیصد پرزہ جات بھی بیرون ملک سے ہی درآمد کئے جاتے ہیں، چنانچہ یہ واضح ہے کہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ اور نئی ڈیوٹی وغیرہ عائد ہونے کے باعث پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے۔ اسی لئے گاڑیاں اسمبل شدہ ہوں یا درآمد شدہ، دونوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

اس حوالے سے صورت حال کس قدر خراب ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ ایک برس کے دوران 660 سے 800 سی سی گاڑیوں کی قیمتیں 60 ہزار، جبکہ 1800 سے 2000 سی سی گاڑیوں کی قیمتوں میں دو لاکھ روپے تک اضافہ ہو چکا ہے۔گاڑیوں کی طلب اور رسد میں اگر فرق اسی طرح قائم رہا تو ان قیمتوں میں مزید اضافے کے اندیشے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک رپورٹ کے مطابق ٹویوٹا اور ہنڈا، دونوں کمپنیاں مل کر سالانہ دو لاکھ 70 ہزار سے دو لاکھ 80 ہزار گاڑیاں اسمبلی کرتی تھیں، جبکہ ملک میں 60 سے 70 ہزار گاڑیاں درآمد کی جاتی تھیں۔ اب یہ تعداد کم ہو رہی ہے۔ ڈیلرز کے مطابق سوزوکی کمپنی مقامی سطح پر سالانہ اوسطاً 70 ہزار گاڑیاں تیار کرتی ہے،جبکہ مارکیٹ میں گاڑیوں کی سالانہ طلب دس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

پھر حکومت کی جانب سے گاڑیوں کی درآمد پر کچھ پابندیوں نے بھی آٹو موبائل سیکٹر کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہ ساری صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ حکومت آٹو موبائل سیکٹر کو تباہ ہونے سے بچانے کے لئے ٹھوس پالیسی وضع کرے۔ ایک پالیسی ساز کے طور پر حکومت، جہاں اور جب کبھی ضرورت ہو، صنعت کی جامع اور مسلسل ترقی کے لئے متعدد اقدامات کے توسط سے معیشت کی صورت حال کو گرنے نہ دینے اور اس میں رفتار لانے کی ہمیشہ کوشش کرتی ہے، اسی طرح آٹو سیکٹر پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے، کیونکہ یہ ہزاروں افراد کے روز گار کا معاملہ ہے اور لاکھوں افراد کو سستی نجی ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کا ایشو بھی ہے۔

مزید : رائے /کالم