شکریہ پاکستان

شکریہ پاکستان
شکریہ پاکستان

  



کالم لکھنے سے پہلے ذہن میں لاتعداد موضوعات گردش کر رہے تھے۔ دل تو چاہ رہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ ہونے والے کھلواڑ پر لکھا جائے…… پچھلے دنوں پوری قوم کو 48گھنٹے تک ٹک ٹکی پر چڑھائے رکھے جانے والے سپریم کورٹ کے فیصلے پر لکھنا چاہیے ایکس ہونے والے چیف کو واپس ایکس ٹینشن دیئے جانے پر لکھا جائے، لیکن پوری قوم کی طرح یہ سوچ کر موضوع بدل رہا ہوں کہ ”میری کون سنتا ہے“؟……لہٰذا کیوں نہ اپنے اخبار اور اپنے کالم ایڈیٹر صاحب کا شکریہ ادا کروں، جن کی وجہ سے یہ خاکسار بہت سی پریشانیوں سے محفوظ رہا ہے۔

کالم کا موضوع دیکھ کر قارئین سمجھے ہوں گے کہ مَیں پاکستان کا شکریہ ادا کر رہا ہوں۔ تو عرض ہے کہ اس پاکستان نے بطور وطن جو کچھ ہم سب کو دیا ہے، اس کا شکریہ ادا کرنے کے ہم قابل ہیں، نہ اس کی قیمت ادا کر سکتے ہیں،بلکہ ہم تو قدم قدم پر اس وطن،اس کو حاصل کرنے والے قائدین اور اس کی راہ میں قربان ہونے والے لاکھوں مسلمانوں کی نا شکری کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ہمیں جو سبق پڑھنے کو علامہ اقبال ؒنے دیا تھا، صداقت اور شجاعت کا،تاکہ ہم سے دنیا کی امامت کا کام لیا جا سکے، ہم نے وہ چھوڑ کر، سبق پڑھ لیا اپنی ذات کا، اپنی دولت کا، اپنی حکومت کا،اپنی اناؤں کا اور بے ایمانی کا……مَیں تو شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اپنے اخبار روزنامہ ”پاکستان“ کا اور اپنے کالم ایڈیٹر صاحب کا جنہوں نے پچھلے سال انہی دنوں میں مجھے پریس کارڈ جاری کیا تھا اور وہ بھی 13 ماہ سے زائد دورانیہ کا، عام طور پر پریس کارڈ کیلنڈر سال کا بنتا ہے اور وہی مجھے دیا گیا جو ایک ماہ کا بنتا تھا۔

جب اس کارڈ سمیت تمام ضروری جملہ کارڈز اور کچھ نقدی سمیت میرا قیمتی پرس چوری ہو گیا……قصہ کچھ یوں ہے۔ کہ 12 روز پہلے بھمبر آزادکشمیر کی انتہائی مہربان اور نامور شخصیت پروفیسر چودھری اصغر شاد مرحوم و مغفور کا انتقال ہوا(پروفیسر صاحب کی تھوڑا عرصہ پہلے پنشن ہو گئی تھی،لیکن مَیں نے ریٹائرڈ نہیں لکھا، کیونکہ میرے مطابق پروفیسر کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتے، علم کا خزانہ بانٹتے رہتے ہیں …… ہم شام کو ان کی تعزیت اور ان کی تدفین کے لئے ان کے عارضی گھر چلے گئے۔ جب ان کے جسد خاکی کو اٹھانے لگے تو تمام تر احتیاط کے باوجود کسی جیب تراش نے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندر سے جسد خاکی اٹھا کر گلی تک پہنچنے کے دوران میری جیب سے میرا پرس نکال لیا۔ پہلے تو سوچا کہ دوڑ بھاگ کر کے چور کو پکڑ لیں، لیکن پھر خیال آیا کہ ہم نے آج جس شخصیت کو کھو دیا ہے، جن دو ضعیف العمر والدین کے سامنے ان کے دوسرے اور آخری بیٹے کا جنازہ اٹھ گیا ہے، جن دو بچوں کا نہایت شفیق باپ اپنے آخری سفر کو چل پڑا ہے۔ ان کے سامنے اپنے بٹوے کی کیا اہمیت ہے؟ لہٰذا چپ کر کے سیدھے نماز جنازہ ادا کرنے پائلٹ سکول کی طرف چل پڑے، لیکن فیس بک پر اپنی درخواست لکھ دی کہ چور صاحب پیسے رکھ لیں، لیکن میرے ضروری کارڈز واپس کر دیں۔

کئی دوستوں نے افسوس کے ساتھ ساتھ مفید مشوروں سے بھی نوازا اور امید بھی دلائی کہ آپ کو پرس واپس مل جائے گا۔ کئی دوستوں نے بتایا کہ پہلے بھی کئی جنازوں میں ایسا ہو چکا ہے اور کچھ چور بہت پروفیشنل ہوتے ہیں، پیسے رکھ لیتے ہیں اور کارڈز وغیرہ واپس بھیج دیتے ہیں، لیکن مجھے اس کی زیادہ امید نہیں تھی، کیونکہ میرے خیال کے مطابق کسی بھی کارڈ پر میرا پاکستان کا پتا درج نہیں تھا۔ تمام کارڈز جن میں میرا 2062ء تک کی مدت کا انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس، میرے ناروے کے بینک اکاؤنٹ کا ویزہ کارڈ، نئی گاڑی کا رجسٹر کارڈ، میرا پاکستان کا آئی ڈی کارڈ (اس پر بھی ایڈریس ناروے کا ہی تھا) میرے دوسرے کریڈٹ کارڈ سمیت میرا پریس کارڈ بھی تھا۔ مَیں نے اسی روز اے ٹی ایم سے اچھی خاصی رقم بھی نکلوا کر پرس میں رکھی تھی، لیکن زندگی میں پہلی بار مجھ سے یہ عقل مندی سرزد ہو گئی کہ 20 ہزار روپے الگ کر کے اپنی بیوی کے پاس رکھ دیئے کہ اگر پرس کہیں کھو جائے یا بھول جاؤں تو پاس کچھ رقم تو ہونی چاہیے۔

اب دوست تو مجھے امید دلا رہے تھے اور اسی امید پر مَیں نے اپنے بینک کارڈ بلاک بھی نہ کئے، لیکن مجھے امید اس لئے نہیں تھی کہ میرے کسی کارڈ پر میرا پتہ ہی نہیں تو مجھے واپس کیسے ملیں گے، لیکن تین دن پہلے مجھے میرے بھتیجے نے گاؤں سے فون کر کے خوشخبری دی کہ میرے سارے کارڈ ہمارے گھر کے ساتھ ہی موجود ڈاک خانے میں آگئے ہیں۔ وہ بھی کسی لفافے میں نہیں، بلکہ ایک دھاگے میں لپٹے ہوئے۔ مَیں نے اپنے بھتیجے حسن سے پہلا سوال یہی پوچھا کہ اس چور کو میرا ایڈریس کہاں سے ملا؟ تو جواب ملا کہ میرے پریس کارڈ پر میرے آبائی گاؤں کا پتہ لکھا ہوا ہے،وہی کارڈ سب سے اوپر ہے۔ تب اس پریس کارڈ کی قدر یاد آئی، ساتھ ہی اس ایماندار، ذمہ دار اور پروفیشنل چور کی قدر کا احساس بھی ہوا، ورنہ اپنے وطن میں تو ایسے ایسے لٹیرے بھی ہیں جو اربوں۔ وہ بھی روپے نہیں ڈالر، کھا گئے اور ہماری پہچان کے تمام کارڈز بھی لے گئے اور ڈکار کر بیرون ملک لئے۔

مزید : رائے /کالم