کیا سٹوڈنٹ یونینوں کی بحالی کا وقت آ گیا؟

کیا سٹوڈنٹ یونینوں کی بحالی کا وقت آ گیا؟
کیا سٹوڈنٹ یونینوں کی بحالی کا وقت آ گیا؟

  



تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس یونیز کی بحالی کا شور پھر اٹھا ہے۔طلبہ و طالبات نے اس مقصد کے لئے چند روز پہلے پورے ملک میں مظاہرے کئے اور اس پابندی کے خلاف آزادی کے نعرے لگائے۔ جاہل بھارتی میڈیا جوہر وقت پاکستان کے خلاف کسی پروپیگنڈے کی تلاش میں رہتا ہے، ان آزادی کے نعروں کو یہ معنی پہناتا رہا کہ طلبہ و طالبات بلوچستان، سندھ اور پاکستانی حصے میں موجود کشمیر کی آزادی کے لئے میدان میں آ گئے ہیں، حالانکہ یہ مظاہرے صرف طلبہ یونینز کی بحالی کے لئے تھے اور سٹوڈنٹس طبقاتی نظامِ تعلیم کے خلاف اپنا حق مانگ رہے تھے۔ لاہور میں کچھ لوگوں کے خلاف جو مقدمہ درج ہوا ہے، وہ بھی میرے نزدیک غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ اگر کچھ شخصیات کا نام لے کر نعرے لگائے گئے تو صرف اس لئے کہ ان سے حق مانگنا مقصود تھا، ان کی توہین ہرگز مقصود نہیں تھی۔ بہرحال ان ایک دن کے مظاہروں سے یہ بحث پھر زندہ ہو گئی کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین ہونی چاہیے یا نہیں؟ خود وزیراعظم عمران خان نے اس کی طرف توجہ دی ہے اور تسلیم کیا ہے کہ طلبہ یونینز کا نئی نسل کی سماجی و سیاسی شعور میں اضافے کے لئے ہونا ضروری ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ طلبہ یونینزماضی میں غنڈہ گردی اور تعلیمی انتشار کا باعث بنی رہی ہیں،جس کے باعث یونیورسٹیوں کا پُرامن تعلیمی ماحول برباد ہوا اور انتشار و افتراق پھیلا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مضبوط ضابطہ ء اخلاق بنانے کے بعد،طلبہ یونینز کی بحالی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اس وقت عملاً صورت حال یہ ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ سیاست کے نام پر بڑی سیاسی جماعتوں کے تعلیمی ونگز پوری طرح موجود ہیں،جو اپنی اپنی چودھراہٹ جمانے کے لئے داؤ پیچ آزماتے رہتے ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ، پی ایس ایف، آئی ایس ایف، ایم ایس ایف، اے ٹی آئی، این ایس ایف، مہاجر طلبہ موومنٹ وغیرہ اس حوالے سے پوری طرح سرگرم ہیں۔ یہ تمام سیاسی جماعتوں کی نرسریاں ہیں اور تعلیمی اداروں میں بطورپریشر گروپ کام کررہی ہیں۔ چونکہ قانونی طور پر ان کا تعلیمی اداروں میں کوئی کردار نہیں، اس لئے یہ مختلف حیلوں اور حربوں سے انتظامیہ پردباؤ ڈال کر اپنا کام جاری رکھتی ہیں۔ اکثر ان میں محاذ آرائی شروع ہو جاتی ہے۔ خاص طورپر داخلوں کے موسم میں ان میں سے ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ نئے آنے والوں کو زیادہ سے زیادہ اپنی اکثریت کا احساس دلایا جائے،

اس لئے نمایاں جگہوں پر استقبالیہ کیمپ لگانا بھی وجہ ء تنازعہ بن جاتا ہے۔ بات لڑائی جھگڑے اور متشدد کارروائیوں تک چلی جاتی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی خاص طور پر اس کا گڑھ بنی رہتی ہے، کیونکہ وہاں اسلامی جمعیت طلبہ نے ایک عرصے سے تسلط قائم کر رکھا ہے اور وہ کسی دوسری تنظیم کے پاؤں نہیں جمنے دیتی۔ یونینیں نہ ہونے کی وجہ سے جب عدم تحفظ کا احساس بڑھا تو نسلی و علاقائی بنیادوں پر سٹوڈنٹس کے گروپ بھی وجود میں آ گئے۔ اب آپ کو بڑے تعلیمی اداروں میں پنجابی، بلوچی، پشتون، سرائیکی، سندھی، پوٹھوہاری اور دیگر علاقائی حوالوں سے متعدد گروپ کام کرتے نظر آئیں گے۔ گویا یونیورسٹیوں میں اس حوالے سے تقسیم در تقسیم ہو چکی ہے اور یکجہتی کا جو احساس کسی زمانے میں طلبہ و طالبات میں پایا جاتا تھا، وہ اب مفقود ہو گیا ہے۔

اس تناظر میں پورے ملک کے شہروں میں طلبہ و طالبات کا یوں اچانک اجتماعی مقصد کے لئے باہر نکلنا حیران کن ہے۔ یہ ایسا ایونٹ ہے، جس کے لئے بہت محنت کرنا پڑتی ہے، لیکن بظاہر یہ کسی بڑی انتظامی کوشش کا نتیجہ نظر نہیں آتا۔ پھر اسے کسی خاص تنظیم نے آرگنائز بھی نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔ خاص طور پر لال رنگ کے پرچار نے بہت سوں کے کان کھڑے کر دیئے۔ ایک زمانے میں سرخا اسے کہتے تھے، جو سوشلزم کا پرچارک ہوتا تھا، جب روس کا طوطی بولتا تھا اور وہ امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کے مقابل کھڑا تھا تو اشتراکی نظریات والے اسی کی طرف دیکھتے تھے۔ اس زمانے میں ”سرخ ہے، سرخ ہے، ایشیا سرخ ہے“ کے نعرے بھی بہت لگتے تھے۔

دوسری طرف جمعیت تھی، جسے امریکہ کا نمائندہ تو نہیں کہا جاتا تھا، البتہ دنیا میں جو تقسیم چل رہی تھی، اس کی وجہ سے اس کا مطلب یہی لیا جاتا کہ جو روس کے خلاف ہے، وہ درحقیقت امریکہ کے ساتھ ہے۔ اس زمانے میں جمعیت والے ”سبز ہے، سبز ہے، ایشیا سبز ہے“ کا نعرہ لگاتے اور کبھی کبھار تو دونوں میں سرخ اور سبز نعروں کا شدید مقابلہ ہو جاتا۔ یہی وہ دور تھا جب ہم جیسے منچلوں نے ان دونوں اقسام کے نعروں سے عاجز آکر تیسری قسم کے نعرے ایجاد کئے، جو بہت مقبول ہوئے…… مثلاً یہ نعرہ کہ ”سرخ ہے نہ سبز ہے، ایشیا کو قبض ہے یا سرخ ہے نہ نیلا ہے، ایشیا رنگیلا ہے“…… ان نعروں سے یہ ہوتا کہ ماحول میں ایک نرمی آ جاتی اور تصادم نہ ہونے پاتا۔ اب پھر لال لال کے نعرے لگے تو خیر یہ ہوئی کہ جمعیت والے بھی اپنے سبز پرچم لے کر پہنچ گئے، تاہم انہوں نے لال لال کے جواب میں سبز سبز یا ہرے ہرے کی گردان نہیں کی، بلکہ اس کاز کا ساتھ دیا کہ تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس یونینز بحال ہونی چاہئیں۔

اب اگر کوئی غیر جانبداری سے یہ تجزیہ کرے کہ تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس یونین پر پابندی کا فائدہ ہوا یا نقصان، تو شائد وہ نقصان کی بات زیادہ کرے۔ اس کی دو تین موٹی موٹی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ سٹوڈنٹس یونینز کے نہ ہونے سے تعلیمی اداروں میں ایک گھٹن سی آ گئی ہے۔ یونین ایک قانونی باڈی ہوتی تھی اور طلبہ کی آواز بنتی تھی، اب اس کی جگہ پریشر گروپوں نے لے لی ہے جو طلبہ کو چونکہ جواب دہ نہیں، اس لئے اپنے مفادات کو اولیت دیتے ہیں اور طلبہ و طالبات کے اجتماعی مسائل حل نہیں کراتے۔ پھر ان کے عہدیدار طلبہ کے منتخب کردہ نہیں ہوتے، بلکہ انہیں سیاسی جماعتوں یا پریشر گروپوں کے سرپرست نامزد کرتے ہیں۔ یوں انتظامیہ پر ان کا دباؤ تو ہوتا ہے، مگر اس کا طلبہ و طالبات کو اجتماعی کوئی فائدہ نہیں ہوتا، اُلٹا وہ مختلف گروپوں کے تعصبات کی زد میں رہتے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تعلیمی اداروں میں طالب علموں کی باقاعدہ منتخب باڈی نہ ہونے کی وجہ سے کئی خرابیوں نے جنم لیا۔

اساتذہ کی بعض کہانیاں بھی سامنے آ چکی ہیں اور خاص طور پر طالبات نے یونیورسٹیوں کی انتظامیہ کو تعلیمی استحصال کے کئی واقعات کی نشاندہی بھی کی ہے، چونکہ اساتذہ کی منتخب باڈیز موجود ہیں، اس لئے وہ اپنی اجتماعی طاقت سے ایسے واقعات کو دبا دیتی ہیں، لیکن تہہِ آب ایک طوفان تو موجود ہے۔ اسی طرح بڑے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کی بڑھتی ہوئی داستانیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ طلبہ یونین کی وجہ سے ایسی سرگرمیاں جڑ نہیں پکڑتی تھیں، خود طلبہ ان کا سدباب کر دیتے تھے۔ یہ دلیل بھی بہت مضبوط ہے کہ طلبہ سیاست کی بحالی سے ہماری عملی سیاست میں جوان خون داخل ہو گا اور پڑھی لکھی قیادت مستقبل میں سامنے آئے گی، تاہم یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ سٹوڈنٹس یونین کے لئے ضابطہ ء اخلاق بنائے بغیر کیا اس کی اجازت دی جانی چاہیے؟

جیسا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ سٹوڈنٹس یونین کے حق میں ہیں، تاہم بے لگام آزادی نہیں دی جا سکتی۔ اس کے لئے حدود و قیود کا تعین کیا جائے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ طلبہ سیاست میں سیاسی جماعتوں کی مداخلت کو روکا جائے۔ جس طرح بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوتے رہے ہیں، اسی طرح سٹوڈنٹس سیاست کو بھی صرف طلبہ و طالبات تک محدود رکھا جائے۔ پھر امیدوار بننے کے لئے کڑی شرائط عائد کی جائیں۔ خاص طورپر اس طالب علم کے تعلیمی ریکارڈ کو اہمیت دی جائے، جو انتخابات میں حصہ لینا چاہتا ہے۔ ماضی میں تو جو پڑھائی میں سب سے نکما ہوتا تھا، وہ یونین میں شامل ہوتا تھا، پڑھے لکھے،محنتی اور ذہین نوجوانوں کے سٹوڈنٹس یونینز میں آنے سے ان کا معیار بہتر ہوگا۔ وہ زیادہ بہتر طور پر طلبہ و طالبات کی نمائندگی کر سکیں گے۔ امیدوار بننے کے لئے مخصوص تعداد میں حاضریوں کی شرط بھی لگائی جا سکتی ہے۔ مثلاً صدر یا جنرل سیکرٹری شپ کا امیدوار بننے کے لئے ضروری ہو کہ کلاس میں حاضری ستر فیصد سے زائد اور امتحان میں نمبرز ساٹھ فیصد سے کم نہ ہوں۔ ایسے اور بہت سے نکات ہیں، جنہیں ضابطہ ء اخلاق میں شامل کرکے تعلیمی اداروں میں یونینز کی بحالی کا دیرینہ مطالبہ پورا کیا جا سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم