حکمرانی اور بیورو کریسی (1)

حکمرانی اور بیورو کریسی (1)
حکمرانی اور بیورو کریسی (1)

  



پنجاب میں بڑے پیمانے پر بیورو کریسی میں اکھاڑ پچھاڑ کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ 100سے زائد افسروں کو ٹرانسفر کیا گیا ہے۔ بعض کو ”کھڈے لائن“ لگا دیا گیا ہے ] اس کا مہذب نام ’آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی‘ (OSD) ہے[۔ ان میں کئی سیکرٹری، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر شامل ہیں۔ پولیس آفیسرز کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا ہے۔ درجن بھر افسروں کی تعداد وفاق کے حوالے کر دی گئی ہے کہ ان کی ضرورت صوبے (پنجاب) کو نہیں۔

ان تبادلوں کا سونامی بلاوجہ نہیں آیا۔ حال ہی میں ملک میں یکے بعد دیگرے ایسے حالات رونما ہوئے جو حیرت انگیز تھے۔ پہلے مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اور دھرنا اور اس میں مولانا کا الٹی میٹم……اور اس سے بھی پہلے اپوزیشن کے بعض سرکردہ رہنماؤں کی طرف سے یہ خبریں بریک کی گئیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت بس چند روز ہی کی مہمان ہے۔ آزادی مارچ، دھرنا اور ان خبروں کی بریکنگ میں ایک بات مشترک تھی کہ ”تبدیلی“ آنے والی ہے۔

جس تیقّن کے ساتھ یہ مہم لانچ کی گئی وہ بھی بڑی حیران کرنے والی تھی۔ ملک بیرونی دشمنوں کے حصار میں تھا۔ اس برس فروری میں لائن آف کنٹرول کو کراس کرنا اور پھر فضائی حملہ کر دینا بڑے عجیب و غریب سانحات تھے۔ فوج (بالخصوص آرمی) اور حکومت (بالخصوص عمران خان) کو یک جان دو قالب ہونے کا بار بار اعلان کرنا پڑا۔ پھر داخلی صورتِ حال بھی نہائت دگرگوں ہو گئی۔ نوازشریف کا کیس اور اس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ میں میڈیا کا کردار ہمارے سامنے ہے۔ یہ تمام واقعات ایسے انہونے تھے کہ حکومت سرپکڑ کر بیٹھ گئی کہ یہ دھواں سا کہاں سے اٹھ رہا ہے۔ فوجی اور سویلین انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی سربگریباں تھیں کہ ایک کے بعد ایک سانحات کہاں سے جنم لے رہے ہیں۔ ایک کی گَرد ابھی بیٹھتی نہیں کہ دوسرے کے بگولے شروع ہو جاتے ہیں۔

فوج نے بارہا کہا کہ ہم سویلین حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جمہوری نظام میں یہی ہوتا ہے۔ لیکن بعض لوگوں نے اعتراض کیاکہ پی ٹی آئی سے پہلے نون لیگ اور اس سے پہلے پی پی پی کی حکومتیں بھی جمہوری حکومتیں تھیں۔ اس عرصہ میں فوج نے یہ اعلان کیوں نہ کیا کہ ہم، حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اسی وجہ سے وزیراعظم کو الیکٹڈ کی بجائے سلیکٹڈ قرار دیا گیا۔فوج اور حکومت کے اس ”گٹھ جوڑ“ کو توڑنا اب اپوزیشن کا سب سے بڑا چیلنج بن گیا۔ مولانا کے دھرنے اور آزادی مارچ وغیرہ اپوزیشن کا گویا پلان A تھا اور جب یہ پلان ناکام ہوا تو پلان B تیار تھا جو پلان A سے زیادہ خوفناک تھا۔ پنجابی زبان میں اس کو ”بُکّل میں چور“ بھی کہا جاتا ہے۔ حکومت کو معلوم ہوا کہ  بُکّل کا یہ چور دراصل مولانا کے ڈاکو پن سے زیادہ خطرناک تھا۔مولانا تو چونکہ دن دیہاڑے وار کر رہے تھے اس لئے ڈاکو تھے جبکہ ”بُکّل“ کا چور چھپا ہوا تھا…… خبریں اور افواہیں یہ بتا رہی تھیں کہ اس چور کا نام ”بیورو کریسی“ ہے! چنانچہ یہ اکھاڑ پچھاڑ کی گئی۔

بیورو کریسی کسی بھی جمہوری حکومت کی پشت پناہ تصور ہوتی ہے۔ روزمرہ حکومتی کاروبار کا سارا بوجھ اسی بیورو کریسی پر آن پڑتا ہے۔ کسی بھی محکمے کو لے لیجئے اس کا سارا ریکارڈ اس بیورو کریسی ہی کے پاس ہوتا ہے۔وہی مروجہ قوانین و ضوابط جانتی، سمجھتی اور سمریاں تیار کرتی ہے۔ ہر سمری میں زیرِ بحث کیس کی ابتدا اور اس کا تدریجی ارتقاء ضبطِ تحریر میں لایاجاتا ہے اور آخری پیراگراف میں سفارش/ تجویز کی جاتی ہے کہ اس درد کا علاج یہ ہے۔ بعض اوقات ایک سے زیادہ علاج تجویز کر دیئے جاتے ہیں اور متعلقہ وزیر کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ ان میں سے کسی ایک کو منظور کرلے۔ وہ اگر چاہے تو سارے قصے کو ختم کرکے از سرِ نو سمری تیار کرنے کا حکم بھی دے سکتا ہے۔

یہ جمہوری روایات چونکہ ہمیں برطانوی حکومت سے ورثے میں ملیں اس لئے ہم نے من و عن ان کواپنا لیا…… یہی دستور اور یہی چلن فوج (ملٹری) میں بھی رائج تھا(اور آج بھی ہے)۔ فوج میں کمانڈ، سٹاف اور انسٹرکشن کے تین بڑے شعبے ہوتے ہیں۔ ہر آفیسر کو باری باری ان تینوں کی تربیت دی جاتی ہے۔ آج جو آفیسر بٹالین کمانڈ کر رہا ہے، آنے والے کل میں اسے تبدیل کرکے کسی ایسی جگہ (ڈویژن / کور/ جی ایچ کیو) پوسٹ کر دیا جاتا ہے جس میں اس کو ’سٹاف‘ ڈیوٹیز ادا کرنا پڑتی ہیں۔

یہ ڈیسک ورک ہوتا ہے یعنی یونٹ / فارمیشن میں جو اہم کام ہو رہا ہوتا ہے اس کو تحریری شکل دے دی جاتی ہے۔ اور پھر ایک خاص مدت کے بعد یہ تحریریں متعلقہ الماریوں میں بند کرکے آئندہ کی رہنمائی کے لئے رکھ دی جاتی ہیں …… فوج میں سمری کو ”منٹ شیٹ“ (Minute Sheet) کہا جاتا ہے۔ یہ بالعموم درمیانے رینک (میجر) سے شروع کی جاتی ہے۔ اسی لئے اس آفیسر کو جنرل سٹاف آفیسر گریڈ دوم (GSO-2) کا نام دیا جاتا ہے۔ وہ میجر یہ منٹ شیٹ تیار کرکے اپنے سے بالا افسر (کرنل، بریگیڈیئر، جنرل) کو پیش کرتا ہے، اس میں زیر بحث کیس کی ساری تفصیلات (مختصراً) ایک ترتیب کے ساتھ درج کر دی جاتی ہیں اور آخر میں ایک تجویز پیش کر دی  جاتی ہے۔ بالا افسر جس نے آخری فیصلہ کرنا ہوتا ہے، وہ اسی منٹ شیٹ پر Yes یا No لکھ دیتا ہے۔ فرض کیجئے ایک میجر نے کوئی منٹ شیٹ (سمری) آغاز (Initiate) کی۔ یہ منٹ شیٹ کرنل اور بریگیڈیئر سے ہوتی ہوئی جنرل تک گئی۔ کرنل اور بگیڈیئر اگر چاہیں تو اس منٹ شیٹ میں تجویز کردہ سفارش سے اتفاق یا اختلاف کر سکتے ہیں۔ اس منٹ شیٹ کو پیراگرافوں میں تقسیم کرکے ان کو باقاعدہ نمبر شمار دیا جاتا ہے۔ فرض کریں میجر کی سمری کے آخری پیرا گراف کا نمبر12ہے تو کرنل کا 13، بریگیڈیئر کا 14اور جنرل کا 15ہو گا۔

عین مین یہی ترتیب سویلین محکموں میں بھی روا رکھی جاتی ہے۔ ان میں سیکشن آفیسر یاڈپٹی سیکرٹری سمری کا آغاز کرتا ہے۔ یہ سمری ڈپٹی سیکرٹری سے جوائنٹ سیکرٹری (اگر کوئی ہو) کو پیش کی جاتی ہے جس کے ریمارکس کے بعد اسے سیکرٹری کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ وہ سیکرٹری (اگر ضرورت ہو) تو اس پر اپنے ریمارکس لکھ کر متعلقہ وزیر کو بھیج دیتا ہے۔ وزیر اس کو دیکھتا ہے (پڑھتا بھی ہے) اور اپنے دستخط کر دیتا ہے۔ یوں یہ سمری ”حکم“ بن جاتی ہے…… میں نے یہ تفصیل اس لئے لکھی ہے کہ اکثر قارئین شائد ”سمری“ کے نام سے تو آگاہ ہیں، اس کی تولید، ترتیب اور انجام سے کم کم واقف ہیں …… فوجی اور سول طرزِ کار میں الفاظ کا فرق ہے۔ مکرر عرض کرتا ہوں کہ فوج میں سمری Initiateکرنے والے کو سٹاف کہا جاتا ہے جبکہ سویلین سیٹ اپ میں اس کو بیوروکریسی کا نام دیا جاتا ہے۔ فوج کے سٹاف اور سویلین سیٹ اپ کی بیورو کریسی میں ایک بدیہی فرق یہ بھی ہوتا ہے کہ فوج میں آج کا سٹاف آفیسر (میجر/ کرنل وغیرہ) کل کا کمانڈر بن جاتا ہے لیکن سویلین سیٹ اپ میں بیورو کریٹ، بیورو کریٹ ہی رہتا ہے۔ ہاں اس کا گریڈ تبدیل ہوتا رہتا ہے یعنی 19سے 20،20سے 21اور 21سے 22 وغیرہ…… لیکن وہ باس (وزیر) نہیں بن سکتا۔

جمہوری طرز حکمرانی، میں آخری فیصلہ وزیر کرتا ہے۔ وہ اپنے سینئر (وزیراعلیٰ یا وزیراعظم)  سے پوچھتا ہے یا نہیں یہ اس کی صوابدیہ ہے جبکہ فوج میں میجر سے جنرل تک کی سفارشات / احکامات کا تحریری ریکارڈ موجود ہوتا ہے…… پاکستان میں چونکہ جمہوری ادارے تاحال مضبوط نہیں ہوسکے اس لئے کئی وزیر صاحبان اپنے محکمے کی تحریری/ قانونی موشگافیوں اور نزاکتوں کا زیادہ شعور نہیں رکھتے۔ اگر کوئی وزیر پڑھا لکھا اور تجربہ کار ہے تو وہ اپنے سٹاف (بیورو کریسی) کوکنٹرول کرنا جانتا ہے اور اگر نو آموز یا کم تجربہ کار ہے تو بیورو کریسی اس کو کنٹرول کرنا جانتی ہے۔ ان ہر دو صورتوں میں بیورو کریسی،سویلین حکومت کی ایسی پشتیبان ہے جس کے سہارے سارا حکومتی ڈھانچہ ایسّادہ ہے۔ یہی حال پولیس اور دوسرے محکموں کا بھی ہے۔ وہاں بھی تحریری اور تقریری کارِ سرکار کا ایک بندھا ٹکا اصول کار فرما ہوتا ہے۔

امید ہے قارئین اب سمجھ گئے ہوں گے کہ بیورو کریسی کی اصل اہمیت کیا ہے۔ وزراء اور حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن افسر شاہی قائم و دائم رہتی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ بیورو کریسی، حکومتی لیڈروں اور رہنماؤں سے کہیں بڑھ کر ماضی و حال کی رمز آشنا اور واقفِ حال ہوتی ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ فلاں محکمے میں فلاں طریقِ کار میں فلاں خامی ہے جس کو ”بوقتِ ضرورت“ استعمال کیا جا سکتا ہے یا جس کا بوقتِ ضرورت استحصال (Exploit) کیا جا سکتا ہے۔ یعنی جس وزیر نے اپنے سیکرٹری کو یہ باور کرا دیا کہ وہ اس کی پروفیشنلخامیوں اور خوبیوں کو جانتا ہے وہی اس کا اصل باس ہو گا اور جو وزیر نو آموز ہو گا یا واجبی تعلیم و تربیت کا حامل ہو گا وہ ہوشیار اور عیار بیورو کریٹ کے ہاتھوں مارا جائے گا! گزشتہ 15ماہ سے دیکھا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے نوآموز وزیروں اور خود نو آموز وزیراعظم نے یہ مار بہت بُری طرح کھائی۔

وزیراعظم ویسے تو جس موضوع پر بات کرتے ہیں اس کے مائیکرو لیول تک کی چھان پھٹک کرنے کے عادی ہیں لیکن جب آرمی چیف کے از سرِ نو تقرر یا توسیع کے تین سطری نوٹی فیکیشن پر دستخط کر رہے تھے تو ان کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ معاملہ میکرو لیول کا ہے۔ دوسری طرف فروغ نسیم نے بھی پہلی بار کسی وزارت کا قلمدان سنبھالا تھا۔ معلوم ہوتا ہے انہوں نے بھی جب یہ سمری تیار کرکے وزیراعظم کو بھیجی تو ساتھ ہی نوٹی فیکیشن بھی برائے دستخط بھیج دیا ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ وزیرِ قانون نے اس سارے پراسس کی چھان بین کیوں نہ کی۔ اور اگر اس نوٹی فیکیشن کا مسودہ وزارتِ دفاع نے بھجوایا تھا تو وہاں بھی JAGبرانچ کا کوئی نہ کوئی نمائندہ تو بیٹھا ہو گا۔ کیا اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ سکی کہ آرمی ایکٹ یا کسی دوسرے سویلین قانون میں لفظ ”توسیع“ کا سرے سے کوئی مذکور ہی نہیں، اور نہ ہی توسیع کے دورانیئے کا کہیں ذکر ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ جنرل ہیڈکوارٹر کا سٹاف ہویا وزارتِ قانون یا کسی اور وزارت کے بیورو کریٹ، سب کا مضمون واحد ہے اور سب مکھی پر مکھی مارنے کے عادی ہیں۔ جس درخواست گزار نے بھی سپریم کورٹ میں جا کر اس غلطی کی نشاندہی کی اس کی پشت پر کوئی نہ کوئی بیورو کریٹ ضرور ہو گا جو واقفِ اسرارِ خانہ ہو گا۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ اس نے اپنی درخواست واپس لینے کی استدعا کی تھی لیکن فاضل چیف جسٹس نے اپنا پہلا از خود نوٹس (سووموٹو) لیتے ہوئے اسے بٹھا دیا اور اس اہم کیس کی اس طرح شروعات ہو گئیں۔ اس خبر میں کتنا جھوٹ ہے اور کتنا سچ ہے، اس کو کریدنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ سوال پھر بھی وہی رہے گا کہ قانون کے اتنے بڑے سقم کا گزشتہ 72برسوں میں کسی نے بھی نوٹس نہ لیا۔ اور لیا بھی تو فاضل عدالتِ عظمیٰ نے!…… (جاری ہے)

مزید : رائے /کالم