معاشرے کی تباہی کا سبب ہے ؟

معاشرے کی تباہی کا سبب ہے ؟

  



ملکی تاریخ کی بدترین مہنگائی نے ایک ایسی گھمبیر صورتحال پیدا کر دی ہے کہ لوگ دو وقت کی روٹی تو کجا ایک وقت کی روٹی کیلئے بھی ترس رہے ہیں پیٹ کے دوذخ کی آگ ٹھنڈی کرنے کیلئے چوری‘ ڈکیتی‘ راہزنی حتی کہ بداخلاقی بھی عروج پر پہنچ گئی ہے جس معاشرے میں یہ برائی عروج کو پہنچ جائے تو پھر یا تو قہر خداوندی نازل ہوتا ہے یا پھر معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے سفید پوش اور غریب طبقہ کا گزارا بے قدر روپے سے انتہائی مشکل ہو چکا ہے عیاش طبقہ اس صورتحال کا بھر پور فائدہ اٹھارہا ہے تو زخیر ہ اندوز ں کے چہرے بھی اس صورتحال سے تمتا رہے ہیں ہر چیز انسان کی پہنچ سے دور سے دور ہوتی جا رہی ہے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے اب گھر کے بچے سے لیکر بوڑھے‘ جوان اور خواتین بھی کام کاج پر مجبور ہو چکے ہیں اس بدترین صورتحال میں وہی گھرانے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں جن کے بچے دو ہی اچھے ہیں کے فارمولے پر قائم ہیں مگر جہاں گھرانے کی تعداد درجنوں تک پہنچ جاتی ہے وہاں یہ صورتحال انتہائی گھمبیر ہے اخبارات کی یہ خبریں زینت بنتی ہیں کہ ماں نے اپنے بچے نہر میں پھینک دیے بیوی نے خاوند کو قتل کردیا‘ یا پھر خاوند نے بیوی کو طلاق دیدی‘یا پھر غیرت میں آ کر پورے کے پورے گھرانے کو قتل کر کے خود خودکشی کر لی یہاں یہ امر قابل ذ کر ہے کہ بالخصوص گجرات جیسے صنعتی شہر میں وسیع پیمانے پر لوگوں کے بیروزگار ہونے کی وجہ سے حالات دن بدن بدتر ہوتے چلے جا رہے ہیں خواتین کا ایک خاص طبقہ بن سنور کر سر شام ہی سڑکوں پر نکل آتا ہے اور لوگوں کو دعوت گناہ دیتی ہوئی نظر آتی ہیں ان میں سے چند ایک ایسی خواتین بھی شامل ہیں جو اپنے اہل و عیال اور خاوند کو کوئی ضروری کام یا بازار کا کہہ کر گھر سے نکلتی ہیں اور بداخلاقی کر کے گھر واپس جا کر اہلخانہ کیلئے روٹی کا بندوبست کرتی ہیں ایسے سینکڑوں واقعات روزانہ دیکھنے کو ملتے ہیں مگر کہتے ہیں کہ ایسا عمل ہر شخص کا اپنا انفرادی عمل ہوتا ہے خداوند کریم نے بھی پردہ پوشی کا حکم دے رکھا ہے مگر جو شرفا لمبی لمبی گاڑیوں پر ان بے بس‘ لاچار اور بھوک کی ماری خواتین کو گاڑیوں میں بٹھا کر بد کردار ی کیلئے جاتے ہیں وہ خدا کے غیض و غضب سے کبھی بھی نہیں بچ سکیں گے یہ صورتحال حکمرانوں کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ وہ عوام کیلئے روزگار کے وسائل فراہم کریں‘ بجلی‘ گیس اور دیگر بلوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافے کو روکے بند فیکٹریوں کو کھلوائے اور اس بات کا احساس کرے کہ ایک غریب آدمی کے گھر کا بجٹ کتنا ہے اور وہ کتنا کما سکتا ہے کتنی کمائی سے اسکی سفید پوشی کا بھرم قائم رہ سکتا ہے  سرخی‘ پاؤڈر‘ لگا کر کوئی جوان تونہیں بن سکتا مگر شہر میں گندگی پھیلانے کا سبب ضرور بنتی ہیں گجرات کے کچھ علاقے اس قدر بدنام ہیں کہ پولیس ان علاقوں میں چھاپے مار مار کر تنگ آ چکی ہے ان بدکردار خواتین اور مردوں کی فوری ضمانتیں بھی لے لی جاتی ہیں اب تو یہ صورتحال ہے کہ ایسے رونما ہونے والے واقعات سے پولیس بھی اپنی آنکھیں چرا لیتی ہیں  اس صورتحال میں اگر کوئی کہے کہ میری علاقے میں بڑی عزت اور احترام ہے تو پتہ نہیں عزت کا لغوی معنی کیا ہوتا ہے دن بدن فحاشی اور عریانی جو اپنے عروج کو پہنچ رہی ہے ہر شخص ایک دوسرے کو دھوکہ دینے میں مصروف ہے کوئی جنسی تسکین کے لیے کوئی دولت کے حصول کیلئے اور کوئی پیٹ کے دوذخ کی آگ بھرنے کیلئے،اسکا ذمہ دار کون ہے حالات واقعات یا پھر موجودہ حکومت‘ اگر کوئی اس صورتحال میں اپنے بچوں کو قتل کر دے‘ نہر میں پھینک دے‘ خاوند اپنی بیوی کو قتل کرے‘ بھائی اپنی بہن کو غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دے تو اسکی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی اب تو موبائل فون میں اس قدر ایپلی کیشنز موجود ہیں کہ انسان کی عقل دھنگ رہ جاتی ہے کسی کی نقل و حمل‘ فون کالز کی ریکاڈنگ سے لیکر وائٹس ایپ پر ویڈیو کال یا کسی کو بھیجے گئے پیغامات بھی نکلوائے جا سکتے ہیں کسی کو زبردستی برائی کے راستے پر نہیں چلایا جا سکتا جب تک اسکے اندر کا ضمیر زندہ ہو جب ضمیر مردہ ہو جائے تو برائی کے راستے کا انتخاب کرنا کوئی مشکل کام نہیں شیطان تو ہر وقت اپنی باہیں پھیلائے اپنے شکار کی تلاش میں رہتا ہے ہاں البتہ سچے دل سے توبہ کرنیوالوں کو بھی خداوند کریم معاف کردیتا ہے جھوٹی قسمیں اور کلمے پڑھ کر پھر برائی کے راستے کا انتخاب کرنا قہر خداوند ی کو دعوت دینے کے مترادف ہے بعض گھرانوں کے سربراہ بھی اس مشکل ترین دور سے گزرے ہیں اور گزرتے ہیں اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ کر بھی برداشت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے ہیں وہ اپنا گھر تباہ کرنے کی بجائے حالات سے سمجھوتا کر لیتے ہیں کوئی اتنا بے غیرت نہیں ہوتا پیٹ کے دوزخ کی آگ اسے بنا دیتی ہے ا ن دنوں سڑکوں‘ پلوں‘ اور مختلف مقامات پر نوجوان دوشیزائیں خوب پردہ کر کے ہاتھ میں ایک پمفلٹ پکڑ کر بھیک مانگتی ہوئی نظر آتی ہیں اور ایسے بے شمار واقعات منظر عام پر آچکے ہیں کہ کسی خاص گروہ سے تعلق رکھنے والی ان خواتین کو اگر کوئی گاڑی میں بٹھا کر چند قدم آگے لے جائے تو اس گروپ کا سرپرست اس گاڑی کو روک کر نہ صرف بلیک میل کرتا ہے بلکہ جمع پونجی سے بھی محروم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں حکومت نے گداگروں کے خلاف ایک مہم شروع کی تھی کچھ عرصہ تک گداگروں کو گرفتار کر کے جیل بجھوایا گیا مگر یہ مہم فوری طو رپر ختم کر دی گئی اور شہریوں کو فقراء کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ضرورت اس امر کی ہے کہ فحاشی عریانی سے اس قوم کو بچایا جائے اور ان کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کر کے ہر شہری کو عزت کیساتھ زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے۔

مزید : ایڈیشن 1