پنجاب میں خواتین سے بد اخلاقی اور قتل کے واقعات میں اضافہ

پنجاب میں خواتین سے بد اخلاقی اور قتل کے واقعات میں اضافہ

  



رپورٹ: یو نس باٹھ

پنجاب میں خواتین کے قتل اوربد اخلاقی کے واقعات کم ہونے کی بجائے ہر سال بڑھنے لگے ہیں اور پولیس کی اپنی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 سال کے دوران خواتین پر تشدد، بد اخلاقی، قتل اور تیزاب پھینکنے کے 15 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسی طرح کا ایک واقعہ حال ہی میں 21نومبر کو پنجاب کے سب سے بڑے شہر لاہور کے علاقے گلبرگ میں پیش آیا جہاں ایک جواں سال لڑکی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا، مقتولہ کی 3 روز بعد شادی تھی۔ پہلے دن تو پولیس کو ملزمان کا علم نہ ہو سکا اور والد کی جانب سے مقامی پولیس کو جو تحریر دی گئی ایف ٖ آئی آر کے مطابق نامعلوم ملزمان نے اس کی بیٹی کو قتل کر دیا ہے مقتولہ کا مو بائل فون بھی غائب جبکہ اس کی لاش گھر سے کچھ فاصلے پر ایک قبر ستان کے قر یب پڑی تھی اس افسوس ناک واقعہ کے بعد پو لیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقد مہ درج کر کے مقتولہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔ مقتولہ کے موبائل فون کا ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا۔جبکہ حرا کے فیملی ارکان کے فون نمبر حاصل کر کے ان کا ریکارڈ بھی نکلوایا گیا۔ یہ پولیس کی پہلے دن کی کا رروائی تھی دوسرے روز مقتولہ کو پوسٹ مارٹم کے بعد مقامی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔اس دوران مقتولہ کے والد دودھ فروش ریاض حسین نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا کہ اس کی بے گناہ بیٹی کو قتل کر دیا گیا ہے اور ملزمان فرار ہو گئے ہیں وزیر اعلی پنجاب نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہو ئے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ڈاکٹر انعام وحیدکونامعلوم ملزمان کو ٹریس کرنے اور انھیں فی الفور گرفتار کرنے کا حکم دیا جس پر ڈی آئی جی انوسٹی گیشن نے اپنی نگرانی میں ا یس ایس پی انوسٹی گیشن ذیشان اصغراور مقامی ایس پی اسد مظفر پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی جس نے دن رات کام کر کے مو بائل فون کے ڈیٹا کی مدد سے شادی سے تین روز قبل قتل کی جانے والی لڑکی حرا کے قتل کے الزام میں اس کے بہنوئی ایمن آباد گو جرانوالہ کے رہائشی احسن کو گرفتار کر لیا۔ دوران تفتیش معلوم ہوا کہ ملزم احسن مقتولہ حرا کو پسند کر تا تھا جبکہ حرا کی رواں ہفتے شادی تھی جس کا ملزم کو رنج تھا۔ احسن نے واقعہ کی شام حرا کوفون کرکے گھر کے پاس قریبی پارک میں بلایا۔دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اورملزم نے پہلے سے تیار منصوبے کے تحت مقتولہ کو سیدھے فائرمارکر قتل کر دیا۔ملزم احسن نے مقتولہ حرا کوچار فائر مارے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی۔حرا کو قتل کرنے کے بعد وہ واپس ایمن آباد فرار ہو گیا۔ بتایا گیا ہے کہ حراگجر فیملی سے تعلق رکھتی تھی اس کا رشتہ گجر فیملی میں ہی طے ہوا تھا، وہ مزید پڑھنا چاہتی تھی لیکن اس کی ایف اے کے بعد تعلیم ختم کروا کر اس کا رشتہ کر دیا گیا،مقتولہ کی چار بہنیں شادی شدہ تھیں۔ احسن دوسرے نمبر کی بہن کا شوہر ہے۔پولیس نے والد سمیت تمام رشتے داروں کو شامل تفتیش کیا جس میں مقتولہ کے چاروں بہنوئی احسن،علی ریاض،اشرف،کاشف،ماموں بشیر،چچا غلام حیدر شامل تھے، پولیس نے رات گئے تک تفتیش کی اور بعدازاں پولیس نے میڈیا کو کنفرم کر دیا کہ اصل ملزم احسن ہے جس کی میڈیا کو تصویر بھی جاری کر دی گئی۔ملزم کے چچا غلام حیدر نے’روز نامہ پاکستان‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یقین نہیں آرہا کہ احسن قتل کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں ایف آئی آر کا گواہ ہوں احسن نے یہ قتل کر کے سخت زیادتی کی ہے۔ملزم احسن نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے تکرار ہونے کے بعد طیش میں آکر حرا پر گولی چلادی تھی۔احسن نے کہا کہ اس نے مقتولہ حرا کو شادی سے تین روز قبل بلایا تھا، مگر اس کے ساتھ تکرار ہونے کی وجہ یہ قتل کی واردات سر زد ہو گئی۔ملزم احسن نے اپنے بیان میں کہا کہ حرا کو پہلی گولی لگنے کے بعد اس لیے قتل کیا کہ وہ بچ گئی تو مجھے مروادے گی۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کے فون ریکارڈ کے مطابق ملزم کے ساتھ ساڑھے 12 ہزار میسجز ہوئے، جبکہ ملزم احسن نے مقتولہ کے ساتھ تعلقات کا اعتراف بھی کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ 3ماہ کے دوران ملزم اور مقتولہ کے فون کی موجودگی پانچ بار ایک ہی جگہ پائی گئی، جبکہ قتل ہونے سے چار روز پہلے بھی حرا ملزم سے ملنے گئی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے مقتولہ کی قابل اعتراض ویڈیو بھی بنائی تھی جو بعد میں ڈیلیٹ کردی تھی جبکہ گرفتارملزم احسن کا فون فرانزک کے لیے بھجوادیا گیا ہے۔مقتولہ حرا کو لاہور کے علاقے گلبرگ میں 22 نومبر کو گھر سے بلاکر قتل کیا گیا تھا جبکہ اسے تین دن بعد دلہن بننا تھا۔حرا کے والد دودھ فروش ریاض حسین نے لاہور کے گلبرگ تھانے میں بیٹی کے قتل کی ایف آئی آر نا معلوم افراد کے خلاف درج کروا رکھی ہے۔ ملزم گرفتار ہو نے پر وزیر اعلی پنجاب نے انوسٹی گیشن لا ہور پولیس کے سر براہ ڈاکٹر انعام وحید اور ان کی پوری ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے ملزم کو قرار سزا دلوانے کے لیے اس کا چالان مرتب کر کے جلد سے جلد مقامی عدالت کے حوالے کر نے کا حکم دیا ہے۔

پنجاب پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے باوجود صوبے میں خواتین کے ساتھ بداخلاقی اور قتل کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا جارہا ہے۔پنجاب پولیس کے ریکارڈ کے مطابق ان 5 برسوں میں خواتین پر تشدد، عصمت دری، قتل اور تیزاب پھینکنے کے 15 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔پولیس ریکارڈ کے مطابق 2014 میں خواتین سے زیادتی کے 2 ہزار 281، 2015 میں 2 ہزار 618 اور 2016 میں 2 ہزار 746 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔اسی طرح 2017 میں 2 ہزار 998 جب کہ سال 2018 میں 2 ہزار 937 خواتین سے بداخلاقی اور قتل کے مقدمات مختلف تھانوں میں درج ہوئے۔ریکارڈ کے مطابق 2019کے 10 ماہ کے دوران خواتین سے بداخلاقی کے تین ہزار 387 واقعات رپورٹ ہوئے جب کہ غیرت کے نام پر 149 خواتین کو بے دردی سے قتل کردیا گیا، اسی عرصے میں تیزاب پھینکنے کے 36 واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی ٹی وی چینلز پر پیش کردہ ڈراموں میں سے اکثریت کے موضوعات عورت، محبت، شادی اور طلاق تک ہی محدود ہوتے ہیں میڈیا کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ اپنی نشریات اور خبروں سے عوام کو یہ باور کروائیں کہ خواتین دوسرے درجے کی شہری نہیں ہیں، ان کو بھی وہ سارے حقوق حاصل ہیں جو مردوں نے اپنے نام کر لیے ہیں۔خواتین ہمارے معاشرے کا ایک فعال حصہ ہیں اور ان کا کام شادی کر کے بچے پیدا کرنا اور ان کو پالنا ہی نہیں وہ ایک باشعور شہری بھی ہیں اور اقتصادی طور پر بہت کچھ کر سکتی ہیں۔میڈیا کی بھی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ وہ خواتین سے متعلق خبریں، ڈرامے، تصاویر وغیرایسی پیش کریں جس کے معاشرے پر اثرات مثبت مرتب ہوں۔اگر ہمارا میڈیا اس بات کو بھی عوام کے سامنے پوری سچائی کے ساتھ سامنے لائے کہ قانوناً جو عمل خواتین کے لیے نامناسب یا غیر قانونی ہے وہ مردوں پر بھی اسی طرح سے لاگو ہونا چاہیے۔ عزت اور غیرت دونوں پر لاگو ہوتے ہیں۔ دونوں کو ہی اس کی پاسداری کرنی چاہیے۔ اگر ہمارا ہمسایہ ملک خواتین کے مسائل پر فکر انگیز فلمیں بنا سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم یہ سب نہیں کر سکتے؟چلیں فلموں کو چھوڑیں کیا ہم اپنے ڈراموں میں کوئی سدھار نہیں لا سکتے؟ کیا میڈیا، خواتین کو دوسرے درجے کی شہری، ایک بوجھ یا ایک جنس کے طور پر پیش کرنے سے گریز نہیں کر سکتا ہے؟ یا پھر ان ہی مذموم، پدرشاہی رویوں کو بار بار دکھا کر میڈیا ان رویوں کو معاشرے میں پنپنے کا موقع دیتا رہے گا؟ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے معاشرے میں سیمینار کروائے جائیں جس میں عورت کی فضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا جائے کہ 'عورت‘ کاقتل درحقیقت ماں، بہن، بیوی، بھابھی اور معاشرے کے ایک اہم رکن کی ہلاکت ہے۔

مزید : ایڈیشن 1