گزرگاہ کے لئے راستہ کا تنازعہ، 10افراد شدید زخمی 

گزرگاہ کے لئے راستہ کا تنازعہ، 10افراد شدید زخمی 

  



شیخوپورہ۔۔۔                     کرائم سٹوری        محمد ارشد شیخ  بیوروچیف 

دین مبین نے انسانیت کی خدمت پر بار بار زور دے کر یہ ثابت کیا کہ دین اسلام ہی وہ دین ہے جس کی رسی کومضبوطی سے تھامنے سے فلاح ونصرت کے زینے عبور کئے جاسکتے ہیں جس کی قانون سازی کے لیے اللہ کریم نے انسانوں کے اندر علمی،ادبی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے ایک ساز گار ماحول اور دین اسلام پر عمل پیر ا ہونے والوں کے اندر کی انسانیت کوبیدار کیا اور رفتہ رفتہ انسان نے کائنات کو تجرباتی اورفطرتی قوانین پر عمل کرکے خود کو حضرت انسان ثابت کرنے کی کوشش کی،اوران انسانوں کو پتھروں کے زمانوں سے باہر نکالا جن کے پاس نہ تو تعلیم تھی اور نہ ہی روز گار کے مواقعے اگران کے پاس کچھ تھا تووہ تھی سچائی،جرات،حوصلہ،رحم دلی اوروعدہ کی پاسداری،جیسے جیسے انسان ترقی کی منازل کو طے کرکے جدید علوم کی جانب بڑھا ان کے اندر بہتری آنے کے بجائے اندر کا شیطان مزید بے ادب،بے حیا،خود پرست،نفس پرست،لالچی،تکبر،حسد،بغض،لالچ،کینہ اورلاپرواہی جیسی وہ چیزیں جوایک معاشرئے کے لیے زہر قاتل ہیں میدان عمل میں آگئیں اورہنستا بستہ معاشرہ تباہی وبربادی،بے حیائی کا شکار ہوگیا،انسانی قدریں زمین بوس ہوتی گئیں،ہمدری،پیار،محبت انسان کی اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے چھن کر غیروں کی جھولی میں جاپڑا جسکے اصل حقدار وہ لوگ تھے جنہوں نے آخر الزمان بنی ﷺ پر ایمان لاکر دین اسلام میں داخل ہوئے لیکن عملی طور پردین سے ایسی دوری ہوئی کہ آج بھی بھٹکتے پھررہے ہیں جس کی اصل وجہ اخلاق حسنہ،خوف خدا،انسانیت سے محبت واخلاص سے دوری ہے کیونکہ انسان دولت حرص حوس اورلالچ کا ایسا شکار ہوا کہ وہ ایسی حدوں کو بھی توڑتا گیا جس سے نہ صرف دین اسلام نے روکا بلکہ معاشرتی قانون کو بھی حضرت انسان بننے کے بجائے حضرت مجرم کہنے پر مجبور کردیا اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ جدید علوم ہی اس کی جڑ ہے بلکہ اس کی اصل وجہ وہ ذہن سازی ہے جس نے انسان کو ترقی کی دوڑ میں شامل کرکے ایک اللہ اوراسکے رسول ﷺ کی تعلیمات سے دور کردیا،آج ہم ضلع شیخوپورہ کے علاقہ عثمان پور آرائیاں میں ہونے والے رشتوں میں ہونے والی ان خرابیوں اور نئے پاکستان میں ہونے والی پولیس گردی سے نقاب کشائی کررہے ہیں جو کہ انسانیت کے لیے اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے لمحہ فکریہ سے کم نہ ہے،عثمان پور آرائیاں میں تایا زادوں اور چچا زادوں میں جائیداد کی تقسیم کرنے کے بعد گز رگاہ کے لیے راستہ کے تنازعہ پر 4خواتین سمیت10افرادکو شدید زخمی کردیا گیا جن کو ریسکیواہلکاروں نے طبی امداد کے لیے ڈی ایچ کیوہسپتال شیخوپورہ کے ایمرجنسی میں منتقل کیا جہاں پر اپنے پیاروں کی ٹوٹی ہڈیاں اور لہودیکھ کر گھرکی خواتین دھاڑئے مار ما ر کررو رہی تھیں جن کے آنسو اور تڑپ دیکھ کر سخت سے سخت دل انسان بھی موم کی طرح پگل جاتا جب راقم کی آنکھوں کے سامنے معصوم بچیوں کی آہ وگریا زاری کا منظر دیکھا تو رہا نہ گیا اوران کی دکھ بھری کہانی ان کے چچا کی زبانی اپنے قلم میں بند کرکے ٹھان لیا کہ قانون میں موجود کالی بھیڑوں کو بے نقاب کرکے ہی رہے گے،مضروب محنت کش کے بھتیجے  لطیف اور انکی بیٹیوں کے مطابق وہ عثمان پورآرئیاں کی رہایشی ہیں جہاں پر انکے تایاکے ساتھ جائیداد کا بٹوارہ ہوا وہ مکان جس میں ہمارا جنم ہوا جس میں ہم نے20سال گزارئے جو بڑؤں کے فیصلے کے بعد اپنے تایازادوں کو دے دیا گیا اورہم لوگوں نے دوسری جگہ جاکر رہایش رکھ لی لیکن لالچ ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا ہمارئے تایا جی نے ہمارئے والد سے توں تکرار شروع کردی کہ وہ نئی جگہ میں سے گزرنے کے لیے راستہ دیں رات کے وقت ہونے والی توں تکرار جھگڑئے میں تبدیل ہوگئی اورہمارئے اپنوں نے ہی ہمارئے بھائی،چچی سمیت6افراد کوبہیمانہ تشدد کانشانہ بناڈالا غنڈہ گردی کے واقعہ کی اطلاع پولیس کے ایمرجنسی نمبرریسکیو15پر دی،چوکی انچارج اکرم سیان کی طمع نفسانی کی وجہ سے ہمیں فی الفور انصاف کی فراہمی دکھائی نہ دی اورزخمیوں کو طبی امداد کے بعد لاہور کے ہسپتال میں منتقل کردیا گیا جیون پورہ چوکی انچارج اکرم سیان اگر ملزمان کے خلاف رات کو کاروائی کرتا تو ان کی دوبارہ علی الصبح ہمارئے گھر کی چادر اورچاردیواری کو پامال کرنے کی جرات نہ ہوتی ہمارئے اپنے 20سے25ملزمان کے ساتھ آتشیں اسلحہ سے بڑھکے مارتے ہوئے حملہ آوار ہوئے اورپھر 2خواتین سمیت 4افرا د کو ملزمان تایا زاداورملزمان سیف الرحمان،شہزاد،پرویز،یعقوب اورمنیر وغیرہ نے  ہمارئے گھر کے پہلے بیرونی اور پھر اندرونی دروازے کو توڑ نا شرو ع کردئیے،جس کی اطلاع پھر ریسکیو15پر کی گئی جھگڑئے کے آدھے گھنٹے بعد چوکی انچارج جیون پورہ اکرم سیان جس نے مبینہ طو ر پر ملزمان پارٹی سے بھتہ لیکر اپنی موجود گی میں ہمارئے بڑؤں پر تشدد کروایا ہماری چیخ وپکار تک کسی نے نہ سنی ریسکیو1122کے اہلکاروں نے ہمارئے زخمیوں کو ڈی ایچ کیوہسپتال شیخوپورہ کے ایمرجنسی میں منتقل کیا پولیس کی جانب سے تحفظ نہ ملنے اورملزمان کا پولیس کے سامنے مبینہ بہیمانہ تشد د اورانصاف کی فراہمی نہ ہونے پر مضروبان اور انکے ساتھ آنے والوں نے وزیر اعلی پنجاب،آئی جی پنجاب،ڈی آئی جی شیخوپورہ رینج اور ڈی پی اوشیخوپورہ غازی محمد صلاح الدین سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہہ ہماری 4خواتین،بچوں اور مردومیں محمد لطیف،محمد لیاقت،سدرہ بی بی،نسیم اختر،شفاقت،ابوزر اورطابش وغیرہ شدید زخمی ہیں کسی کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے اور کسی کے سرجسم اور دیگر اعضاء زخمی ہیں کو انصاف فراہم کیاجائے۔

قارئین:۔

معاشرتی خرابیوں کو درست کرنے کے لیے ایوانوں میں موجود ہمارئے لیڈروں نے موثر قوانین بنانے کے بجائے ایک دوسرئے پر الزام تراشیوں کو فروغ دیا چکی میں پہلے بھی غریب ہی پسااوراب بھی کیاغریب ہی پسے گا،پاکستان تحریک انصاف کی حکومت دیگر پارٹیوں کی ناقص حکمت عملیوں کی وجہ سے ختم ہوگئیں جس کی سب سے بڑی وجہ حکومت کی وہ دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنا تھا جس کا شعور رفتہ رفتہ عوام میں آرہاتھا جس کی باز گشت ہوتے ہی دیگر پارٹیوں سے نفرت کااظہار کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ووٹ دیکر کامیاب کروایا،حکومت کی جانب سے پنجاب پولیس میں اصلاحات کرنے کے دعوؤں کے انتظار میں 14ماہ گزر گئے،حالیہ دنوں میں سرکاری بڑئے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ تو کردی گئی لیکن پنجاب پولیس میں موجود کالی بھیڑوں نے پولیس کے ان ہونہار،بہادراور ملک وملت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کی روحوں کو بھی تڑپاکررکھ دیا ہے،ضرورت اس امر کی ہے ہے قوانین میں ایسی اصلاحات لائی جائیں جس سے جھوٹی ایف آئی آرز،ناقص تفتیش کرنے والوں سمیت ہر اس شخص کے خلاف کاروائی کی جائے جو قانون کو گھر کی لونڈی سمجھتے ہیں اور کالی بھیڑوں کے لیے ریٹائرڈ پولیس افسران کو انکوائری آفیسر مقرر کیاجائے تاکہ اکرم سیان جیسے پولیس اہلکار مبینہ طور پر ساز باز کرکے ملزمان پارٹی کو چھوٹ نہ دے سکیں۔

مزید : ایڈیشن 1