اچھا ایس ایچ او کون ہے؟

اچھا ایس ایچ او کون ہے؟

  



واربرٹن سے عثمان سندرانہ

سماج میں عام طورپر پولیس کی کارکردگی اور خدمات کے حوالے سے اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں،عوام کی طرف سے پولیس کی کارکردگی پر اٹھائے جانے والے اعتراضات بلاوجہ نہیں ہیں،یہی وجہ ہے کہ پولیس کے ایماندارآفیسر بھی اپنی خدمات اوراعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر خراج تحسین سے محروم رہتے لیکن کچھ نام ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کی تعریف وتوصیف اپنے توکیا پرائے سبھی کرتے ہیں،بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مخالفین بھی ایسے بہادر وجری پولیس افسران کو خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ میں بات کرنے جا رہاہوں ایس ایچ او کی،ایس ایچ او ہے کیا؟؟؟ایس ایچ او مخفف ہے سٹیشن ہاؤس آفیسرکا یہ اس تھانے کو چلاتا ہے جس کے ذریعے ریاست میں امن و امان کو برقرار رکھا جاتا ہے اور عوام کو انصاف کی فراہمی کے عمل کا آغاز کیا جاتا ہے مگر اس ایس ایچ اوکو عمومی طور ایک ڈاکو اور لٹیرا سمجھاجاتا ہے جوتھانے میں آنے والے سائلین کی جیبیں صاف کرتا ہے۔ میں اس تھیوری کا قائل نہیں ہوں کہ ہر شخص ہی برا ہوتا ہے ایک ایماندار ایس ایچ اوبھی آج کے اسی سسٹم میں رہتے ہوئے بھی پولیس کے محکمے میں ایمانداری کیساتھ چل سکتا ہے۔

ایس ایچ او تھانہ واربرٹن حاجی محمد بوٹاڈوگر کا نام بھی بہادر اور ایماندار پولیس افسران میں نمایاں طورپرلیا جاتا ہے، فرض شناس پولیس آفیسر ہیں وہ آنے والے سائلین کے ساتھ انتہائی خوش اخلاقی خوش سلوبی سے پیش آتے ہیں انہوں نے اپنے تقریباًتین ماہ تعیناتی کے دوران پولیس اسٹیشن میں آنے والے سائلین اور عوام کے دل جیت لیے ہیں جس سے محکمہ پولیس کا مورال بلند ہوا ہے۔اپنے دفتر میں عام عوام،بزرگوں،خواتین اور بالخصوص اساتذہ کوجس طرح پروٹوکول دیتے ہیں لوگ ایک وقت کیلئے پریشان ہو جاتے ہیں کہ کیا یہی وہی پولیس ہے جس کے بارے ہم کیا کیا سنتے تھے اور اس سے پہلے جس طرح سے ٹریٹ کیا جاتا تھا۔تھانے میں آنے والے ہر فرد کو اپنا بھائی،دوست،بہن،ماں جی اوربزرگ کا درجہ دینا اور پھر اس مظلوم کی پوری اچھے طریقے سے بات سننااور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کروانا۔

وہ زیادہ تر لین دین اور لڑئی جھگڑے کے معاملات کو صلح صفائی سے حل کروانے یعنی کہہ لیں کہ کمیونٹی پولیسنگ کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں اس بات کا اندازہ انکی حالیہ کارکردگی سے بھی لگایا جاسکتاہے جوکہ انہوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران لاکھوں اور ہزاروں روپے کے لین دین کے معاملات کو دونوں فریقوں کے درمیان صلح صفائی کرواکر نا صرف رقم اصل مالک کے حوالے کی بلکہ انکے درمیان صلح بھی کروائی۔ان کی تھانہ واربرٹن آمد سے ناصرف واربرٹن میں چوری ڈکیتی کی وارداتیں رکیں بلکہ انہوں نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت سے نہ صرف امن و امان قائم رکھا ہے بلکہ اپنے محکمہ کا نام بھی روشن کیے ہوئے ہیں۔

جب بھی ہماری زبان پر پنجاب پولیس کا نام آتا ہے تو ہمارے ذہن میں پنجاب پولیس کا ایک انتہائی منفی سا خاکہ ابھرتا ہے۔جس میں رشوت ستانی، اختیارات سے تجاوز اور شہریوں سے بدتمیزی نمایاں نظر آتی ہے لیکن اسی پولیس میں بہت سے افسران ایسے بھی ہیں جن کی ایمانداری زبان زد عام ہے اور انہی میں سے ایک ایس ایچ او حاجی محمد بوٹا ڈوگر ہیں۔

رشوت ستانی کا انکی زندگی میں کوئی کام نہیں انکا کہنا ہے کہ جتنے انکے وسائل ہیں وہ اسی سے خوش ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ حاجی محمد بوٹا ڈوگر نہ صرف پولیس والوں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی شاندار اور روشن مثال ہیں۔ واضع رہے کہ ننکانہ پولیس کیجانب سے واربرٹن میں انکی تعیناتی کے دوران اب تک 3کھلی کچہریاں لگائی گئیں ہیں ایک بڑی کھلی کچہری سابق ضلعی سربراہ پولیس آفیسر ننکانہ جناب فیصل شہزاد کی سربراہی میں لگائی گئی جس میں صرف دو شکایات پولیس کو موصول ہوئیں اور اس کے بعد بھی جو کھلی کچہریاں اے ایس پی سرکل ننکانہ ارسلان شاہزیب نے لگائیں۔

مزید : ایڈیشن 1