آرڈیننسز جاری کرنے کا گورنر پنجاب کا اقدام لاہورہائیکورٹ میں چیلنج

 آرڈیننسز جاری کرنے کا گورنر پنجاب کا اقدام لاہورہائیکورٹ میں چیلنج

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان پنجاب اسمبلی نے آرڈیننسز جاری کرنے کے گورنر پنجاب کے اقدام کولاہورہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔اس سلسلے میں مسلم لیگ(ن) کے ارکان پنجاب اسمبلی عظمیٰ بخاری،سمیع اللہ خان اور پیپلز پارٹی کے ایم پی اے سید حسن مرتضیٰ کی طرف سے دائر مشترکہ درخواست چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے مسٹر جسٹس شاہد وحید کو سماعت کے لئے مارک کردی ہے،امکان ہے کہ وہ کل 4دسمبر کو اس کیس کی سماعت کریں گے،درخواست گزاروں نے اسامہ خاور گھمن ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ آرڈیننس جاری کرنے کی شرائط آئین میں طے ہیں،آئین کے آرٹیکل 128کے تحت آرڈیننس جاری کرنے کا گورنر کا اختیار لامحدود نہیں ہے،قانون سازی کا اختیار پنجاب اسمبلی کو ہے،اسمبلی کا اجلاس نہ ہورہا ہوتو خاص اور ناگزیر حالات میں ہی آرڈیننس جاری کیاجاسکتاہے جبکہ گورنر پنجاب کی طرف سے 2019ء میں بلاجواز16آرڈیننسز جاری کئے گئے،اس آئینی اختیار کو اندھا دھند استعمال نہیں کیا جاسکتا،درخواست میں آرڈیننسز جاری کرنے سے متعلق گورنر پنجاب کے احکامات کو کالعدم کرنے اور انہیں آئینی دائرہ میں رہتے ہوئے یہ اختیار استعمال کرنے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

چیلنج

مزید : صفحہ آخر