پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس: فیصلہ موجودہ  چیف الیکشن کمشنر کی مدت میں نہ ہونیکا امکان

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس: فیصلہ موجودہ  چیف الیکشن کمشنر کی مدت میں نہ ہونیکا ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی مدت ملازمت کے دوران ہونے کے امکانات دم توڑ گئے، سکروٹنی کمیٹی نے درخواست گزار کے دلائل پر جواب کیلئے تحریک انصاف کے وکلا کو 4دسمبر کو دوبارہ طلب کر لیا ہے جبکہ چیف الیکشن کمشنرسردار محمد رضا کی مدت ملازمت 5دسمبر کوختم ہو جائیگی۔ الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی میں درخواست گزار اکبر ایس بابر کے وکلا ء نے اپنے ثبوتوں پر دلائل مکمل کر لئے۔لیکشن کمیشن میں پاکستان تحریک انصاف کی مبینہ ممنوعہ پارٹی فنڈنگ کی تحقیقات کے لیے قائم ا سکرونٹی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں درخواست گزار اکبر ایس بابر اپنے وکلاء کے ہمراہ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے وکلاء پیش ہوئے، اجلاس کے دوران درخواست گزار اکبر ایس بابر کے وکلاء نے اپنے ثبوتوں پر دلائل مکمل کئے، سکروٹنی کمیٹی نے درخواست گزار کے دلائل پر جواب کیلئے تحریک انصاف کے وکلا کو 4 دسمبر کو دوبارہ طلب کر لیا، اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ سکروٹنی کمیٹی کا 45 اجلاس تھا،کمیٹی مارچ2018ء میں تشکیل دی گئی تھی، اکبر ایس بابر نے کہا کہ ہم پہلے بھی الیکشن کمیشن کے سامنے ثبوت سامنے رکھ چکے ہیں،ہم نے دوبارہ ثبوت تفصیل سے دیئے ہیں، تحریک انصاف ان پر دوبارہ جواب جمع کرائے گی، اکبر ایس بابر نے کہا کہ جوبینک اکاؤنٹس ظاہر ہوئے ہیں،ہم نے درخواست کی ہے کہ یہ قومی معاملہ ہے ان اکاؤنٹس کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ اکبر ایس بابر نے کہا کہ جتنے اکاؤنٹس کھولے گئے ان کے ثبوت دیئے ہیں،اکبر ایس بابر نے کہا کہ تحریک انصاف نے انصاف کے راہ میں رکاوٹ ڈالی، حامد خان جیسے وکیل کو پارٹی سے بے دخل کیا جارہا ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں، ہم پی ٹی آئی کی تجدید کریں گے، عوام ان سے مایوس ہو رہے یہ تحریک انصاف نہیں اس کی کاپی ہے، تحریک انصاف کو ان اصولوں پر لانا ہے جن اصولوں پر یہ بنی تھی۔

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس

مزید : صفحہ آخر