سکول فیسوں کے معاملہ پر سٹیک ہولڈرز مل کر رولز بنائیں،جسٹس عامر فاروق

  سکول فیسوں کے معاملہ پر سٹیک ہولڈرز مل کر رولز بنائیں،جسٹس عامر فاروق

  



اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کہاہے کہ استاد کا معاشرے میں منفرد مقام تھا،ہمیں اساتذہ سے مار بھی پڑتی تھی مگر کبھی کلاس روم سے باہر بات نہیں نکلتی تھی،پتہ نہیں ہم کدھر جا رہے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق نے یہ ریمارکس نجی سکولز کی فیسوں کے معاملے پر کیس کی سماعت کے دوران دئے۔سماعت کے دوران نجی سکولز کے وکیل ارشد حنیف نے کہا کہ والدین کا اساتذہ کیساتھ رویہ انتہائی افسوسناک ہے، بچوں کے ہاتھوں میں اساتذہ کیخلاف مافیا کے پوسٹر دے کر والدین کونسی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔جسٹس عامر فاروق نے پیرا وکیل سے استفار کیا کہ پیرا کے رولز بنانے میں رکاوٹ کیا ہے؟،کیا رولز پیرا نے خود بنانے ہیں یا وزارت تعلیم نے؟جس پر وکیل پیرا ارشد حنیف نے کہا کہ رولز پیرا نے ہی بنانے ہیں۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایکٹ 2013 کے تحت حاصل اختیارات میں کیا پیرا سکولز کو ریگولیٹ کر سکتا ہے؟تمام سٹیک ہولڈر کیساتھ مل کر رولز بنائیں اور معاملات چلائیں جس پر وکیل پیرا نے کہا کہ کیس سی اے ڈویڑن بینچ میں زیر سماعت ہے اس کا انتظار ہے۔ بعد ازاں کیس کی سماعت 20 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔

سٹیک ہولڈرز

مزید : صفحہ آخر