ریفنڈز روکنے سے برآمدی شعبہ بستر مرگ تک جا پہنچا،زاہد حسین 

   ریفنڈز روکنے سے برآمدی شعبہ بستر مرگ تک جا پہنچا،زاہد حسین 

  



ؐکراچی(آن لائن)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ نومبر میں بھی ٹیکس کے اہداف حاصل نہیں کئے جا سکے ہیں جس نے عوام اور کاروباری برادری پر مزید سختی اور منی بجٹ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافہ ٹیکس وصولی کو مزید مشکل بنا دے گا جبکہ پٹرول کی قیمت میں 25 پیسے کی کمی بے مقصد ہے۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلہ میں امسال نومبر کے مہینے میں 334 ارب روپے یا 17فیصد زیادہ محاصل وصول کئے گئے ہیں مگر یہ ہدف سے 48 ارب روپے کم ہیں جس سے سال رواں کا ریونیو شارٹ فال211 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ جولائی سے نومبر تک کا ہدف 1.83 کھرب روپے تھا مگر 1.618 روپے جمع کئے جا سکے ہیں جس نے کاروباری برادری میں مزید خدشات کو جنم دیا ہے۔ گوشواروں کی تعداد میں 16 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے مگر انکم ٹیکس ٹارگٹ کے مقابلے میں 54 ارب روپے کم رہاہے جس میں اضافہ کے لئے گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع کر دی گئی ہے۔ درآمدات کی حوصلہ شکنی کی وجہ سے کسٹم ڈیوٹی کی وصولی ہدف سے 76 ارب کم رہی ہے۔

جبکہ سیلز ٹیکس کا ہدف 754ارب تھا جبکہ وصولی 715 ارب رہی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلہ میں 200 ارب روپے زیادہ ہے تاہم کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ حکومت نے سیلز ٹیکس کی مد میں 350 ارب کے ریفنڈز دبائے ہوئے ہیں جس نے صنعتی شعبہ کو بستر مرگ تک پہنچا دیا ہے۔سیلز ٹیکس ریفنڈ زکے علاوہ کاروباری برادری کے کسٹم ڈیوٹی ڈرا بیک، مقامی ٹیکسوں اور لیویز کی واپسی اور کئی دیگر معاملات التوا ء میں رکھے جا رہے ہیں جبکہ توانائی کی قیمتوں نے بھی صنعتی شعبے کو پریشان کر رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرحکومت تاریخ پر تاریخ دینے کے بجائے 72 گھنٹوں میں ادائیگی کے وعدے کے مطابق تمام ریفنڈز ادا کر دے تو صورتحال مختلف ہو گی ورنہ پیداوار اور برآمدات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے گا۔انھوں نے کہا کہ برآمدکنندگان کے لئے کام جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جبکہ ریکارڈ مہنگائی نے عوام کی قوت خرید ختم کر دی ہے اور بلندشرح سود نے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست نقصان پہنچایا ہے جبکہ رہی سہی کسر منی بجٹ نے پوری کر دینی ہے۔اس پوری صورتحال میں ضروری ہے کہ وزیر اعظم ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے ہنگامی اقدامات کریں تاکہ ملک اقتصا د ی بحران سے نکل سکے۔ 

مزید : کامرس