افسران اپنی ذمہ داریایں جہاد، قومی فریضہ سمجھ کر ادا کریں: وزیراعظم، مثبت معاشی رجحان پر اطمینان کااظہار 

افسران اپنی ذمہ داریایں جہاد، قومی فریضہ سمجھ کر ادا کریں: وزیراعظم، مثبت ...

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ پاکستان تاریخ کے اہم دوراہے پر کھڑا ہے، ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے جہاں سیاسی لیڈرشپ نے وژن دینا ہے وہاں بیوروکریسی نے اس وژن کو عملی جامہ پہنانا ہے، آج سیاسی قیادت اور بیوروکریسی نے ملک کے مستقبل کا تعین کرنا ہے،اس کیلئے نئی سوچ اور بہتر طرز حکومت (گڈگورننس) کی ضرورت ہے، ترقی پانیوالے افسران کو اپنی ذمہ داریاں جہاد اور قومی فریضہ سمجھ کر ادا کریں، اللہ تعالی نے پاکستان کو بے پناہ وسائل  اور افرادی قوت سے نوازا ہے،  وزیرِ اعظم نے وفاقی سیکرٹریزکو ہدایت کی کہ بہتر طرز حکومتکے حوالے سے وفاقی بیوروکریسی مثال قائم کرے،سیکرٹریز اپنی توانائیاں اور تجربہ ملک و قوم کی خدمت اور عوامی فلاح و بہبودکیلئے برے کار لائیں۔ پیر کو وزیرِ اعظم عمران خان سے حال ہی ترقی پانیوالے وفاقی سیکرٹریز نے ملاقا ت کی اس دوران وزیرِ اعظم عمران خان نے ترقی پانے والے افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ترقی انکی کارکردگی اور خالصتا میرٹ کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترقی پانے والے افسران اپنی نئی ذمہ داریاں  نہایت فرض شناسی اور ملک و قوم کی خدمت کے بھرپورجذبے کے تحت ادا کریں گے۔ افسران سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج سیاسی قیادت اور بیوروکریسی نے ملک کے مستقبل کا تعین کرنا ہے۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے نئے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء نے بھی ملاقات کی۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے اس عزم کو دہرایا کہ بلاتفریق احتساب حکومت کا بنیادی ایجنڈا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کو کرپشن،سائبر کرائم، معاشی جرائم اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس موقع پر نئے تعینات کئے گئے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء نے وزیراعظم کو بتایا کہ وہ ملک کی خدمت کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ قبل ازیں وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومت کی معاشی ٹیم کا اجلاس بھی منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال، اعلیٰ عدالتوں میں ایف بی آر سے متعلقہ زیر التوا کیسز کے حوالہ سے پیشرفت،  برآمد کنندگان کے ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگیوں، ترکمانستان افغانستان پاکستان انڈیا (تاپی) گیس پائپ لائن منصوبے میں پیشرفت، نان ٹیکس ریونیو بڑھانے کے سلسلہ میں اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں میں پیشرفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی سے نومبر کے مہینوں کیلئے سامنے آنے  والے اعدادوشمارکے مطابق  برآمدات  کے حجم اور ڈالر کے اعتبار سے آمدن میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ برآمدات  میں پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال اکتوبر کے ماہ میں 6 فیصد اضافہ جبکہ نومبر کے مہینے میں 9.6 فیصد اضافہ سامنے  آیاہے۔وزیرِاعظم نے اس مثبت رجحان پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اٹارنی جنرل نے اجلاس کو سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ، لاہور لائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ میں ایف بی  آرسے متعلقہ زیر التواء کیسز پر تفصیلی طور پر بریف کیا۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ایف بی آر سے متعلق1089 کیسز میں سے 551 کا فیصلہ ہو چکا ہے جبکہ 285 مقدمات زیر التواء ہیں، دیگر مقدمات میں یا تو فیصلہ محفوظ ہے یا زیر سماعت ہیں۔وزیرِاعظم نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ زیر التواء  کیسز کے جلد از جلد حل کیلئے کوششیں تیز کی جائیں۔ چیئرمین ایف بی  آر کی جانب سے ایکسپورٹرز کے ریفنڈز کی ادائیگیوں کے حوالہ سے کئے جانے والے اقدامات پر وزیرِاعظم کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِاعظم نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ ریفنڈز کی ادائیگیوں کے سلسلہ میں متعارف کرائے جانے والے نظام کو مزید آسان بنایا جائے تاکہ ایکسپورٹرز خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے ایکسپورٹرز کو بقایا جات کی وصولی میں کسی قسم کی دقت پیش نہ  آئے۔وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں معاشی استحکام آیا ہے اور کاروباری طبقہ کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے نتیجہ میں کارباری برادری کے اعتماد اور مثبت جذبات کو مزید تقویت دینے کیلئے ضروری ہے کہ ایکسپورٹرز اور خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جائے اور ان کیلئے آسانیاں  پیدا کی جائیں تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور ان کو مالی وسائل کی قلت پیش نہ  آئے۔معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے تاپی گیس پائپ لائن کی پیشرفت سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ سیکرٹری خزانہ نے نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ کے حوالہ سے اجلاس کو بریفنگ دی۔ وزیرِاعظم نے نان ٹیکس ریونیو بڑھانے کے سلسلہ میں کوششوں کو سراہا۔ ترقیاتی منصوبوں پر عملدر  آمد اور ان کی پیشرفت پر باقاعدگی سے نظر رکھنے کیلئے سیکرٹری منصوبہ بندی نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں کا پہلا سہ ماہی جائزہ 21 اکتوبرسے یکم نومبر کے دوران لیا گیا جس میں تمام اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر بروقت عملدر آمداور ان کی بلاتعطل روانی کو یقینی بنائیں۔وزیراعظم عمران سے اسلامک ریلیف ورلڈ وائڈ(آئی آر ڈبلیو) کے سربراہ ناصر ہیگ مڈ نے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے پاکستان کی  سماجی واقتصادی ترقی میں آئی آرڈبلیو کے کردار کی تعریف کی اور ناصر ہیگ مڈ کو احساس پروگرام میں شراکت داری کی دعوت دی۔ آئی آرڈبلیو کے سربراہ ناصر ہیگ مڈ نے وزیراعظم عمران خان کے وژن کو سراہا اور کہا کہ آئی آرڈبلیو پاکستان کی بہتری کیلئے اپنا کردارادا کرتا رہے گا۔ وزیر اعظم سے مصر کے سرمایہ کار نجیب ساویرس نے ملاقات کی جس میں ہاؤسنگ منصوبے اور سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری پر مشاورت کی گئی۔وزیراعظم سے قبل نجیب ساویرس کی معاون خصوصی زلفی بخاری سے اہم ملاقات ہوئی، وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے نجیب ساویرس کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور اپنے ٹویٹ میں لکھا پاکستان آپ کا دوسرا گھر ہے، نیا پاکستان بنانے میں آپ کا کردار بھی اہم ہوگا۔زلفی بخاری کے ٹویٹ کے جواب میں نجیب ساویرس نے کہا پاکستان میرا دوسرا گھر ہے، پاکستان کے لوگ محنتی، ثقافت پسند اور روایات کے امین ہیں۔ نجیب ساویرس کے اثاثوں کی کل مالیت 2.8 ارب ڈالرز ہے۔

وزیراعظم 

مزید : صفحہ اول