مقبوضہ کشمیر،فوجی محاصرے کو 3ماہ مکمل، کشمیری پنڈت پینتھرس پارٹی بھی سراپا احتجاج 

  مقبوضہ کشمیر،فوجی محاصرے کو 3ماہ مکمل، کشمیری پنڈت پینتھرس پارٹی بھی ...

  



سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی،این این آئی) مقبوضہ کشمیر میں تین ماہ سے فوجی محاصرہ اور انٹرنیٹ کی معطلی مسلسل جاری ہے۔بھارت نے 5 اگست سے جاری کرفیو اور لاک ڈاؤن کے دوران 2خواتین سمیت 38 نوجوانوں کو شہید کیا اور 853 کو زخمی کیا گیا، کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ  کے مطابق مقبوضہ وادی میں کرفیو اور لاک ڈاؤن کو 4ماہ ہو گئے، دکانیں اور کاروباری مرکز بند ہیں، ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے، تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق متعدد حریت رہنماؤں سمیت 11 ہزار 4 سو سیاسی کارکنوں اور عام افراد کو گرفتار کیا گیا، سری نگر کی جامع مسجد بھی مسلسل بند ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق قابض حکام نے کپواڑہ اور سرینگرمیں دو کشمیری نوجوانوں پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ کرکے ان کو سینٹرل جیل سرینگر منتقل کردیا۔ محمد افضل لون اورفیاض احمد گنائی کوبھارتی پولیس نے بھارت مخالف مظاہروں کا اہتمام اور پتھراؤ کرنے کا الزام لگاکر گرفتارکیا ہے۔ ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی قابض انتظامیہ ایم ایل اے ہوسٹل سرینگر میں نظربند سیاسی رہنماؤں میں سے چند رہنماؤں کو اپنے گھروں میں منتقل کرکے ان کے گھروں میں نظر بند کرے گی۔ بظاہر گھروں میں منتقلی کی وجہ ہوسٹل میں جس کو سب جیل قراردیا گیا ہے، سہولیات کی عدم فراہمی بتایا جارہا ہے۔ رپورٹ میں منتقل کئے جانے والے رہنماؤں کا نام ظاہر کئے بغیر کہاگیا ہے کہ علیل اور بزرگ رہنماؤں کو دسمبر کے پہلے ہفتے میں ان کے گھروں میں منتقل کیا جائے گا۔دوسری جانبمختلف پنڈت تنظیموں کے نمائندوں نے بے گھر کشمیری ہندوؤں کی وطن واپسی اور بحالی کیلئے حکومت پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کشمیر میں بے گھر ہونے والی آبادی کے مستقبل پر مکمل طور پر خاموش ہے۔جموں و کشمیر کے مرکزی علاقہ (UT) بننے کے تقریبا ایک ماہ بعد، پنڈت نمائندوں نے کہا کہ یہاں کوئی یقینی ٹھوس منصوبہ نظر نہیں آرہاہے جو کیمپوں میں مقیم ہزاروں خاندانوں کی مدد کرسکتا ہے۔آل سٹیٹ کشمیری پنڈت کانفرنس (اے ایس کے پی سی)کے ممبروں نے ریاست میں موجودہ سیاسی اور معاشرتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیلئے ایک میٹنگ کا انعقاد کیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کشمیری پنڈتوں نے کہا کہ بھارت کی قیادت کو اپنے طویل مدتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بے گھر ہونے والی برادری کو کشمیر میں دوبارہ آباد کرنا چاہئے۔ اس منصوبے کی تشکیل میں کمیونٹی کو شامل ہونا چاہئے۔شرکاء نے حکومتوں کی طرف سے پنڈتوں کومسلسل نظرانداز کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا، جنھوں نے تقریبا 3.50 لاکھ اقلیتی آبادی کے بے گھر ہونے کے سیاسی زاویے کو نظرانداز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک دہشت گردی سے متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو انصاف نہیں ملا ہے اور مجرم کھلے گھوم رہے ہیں۔ 1990 کی دہائی کے دوران وادی میں لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور اقلیتوں کے قتل میں ملوث افراد کو سزا دینے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر میں پینتھرس پارٹی کے کارکنوں نے موبائل انٹرنیٹ سروسز پر مسلسل پابندی کے خلاف جموں کے نمائش گراؤنڈ میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کی قیادت پارٹی چیئرمین ہرش دیو سنگھ اور دیگر رہنماؤں نے کی۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مشتعل مظاہرین نے قابض حکام کے خلاف اور انٹرنیٹ سروسز کی بحالی کے حق میں نعرے لگائے۔ ہرش دیو سنگھ نے  کہا کہ گزشتہ 118روز سے جموں خطے میں موبائل انٹرنیٹ سروسز کی معطلی پربھارتی حکومت کی مذمت کرتے ہوئے اس کو ظالمانہ اورآمرانہ اقدام قراردیاجس سے لوگوں کو پتھر کے دور میں دھکیلا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب بھارتی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ علاقے میں صورتحال معمول کے مطابق ہے توانٹرنیٹ پر پابندی کا کیا جواز ہے؟ انہوں نے کہاکہ اس پابندی سے صرف یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ موجودہ حکومت میں جموں وکشمیر میں صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔علاوہ ازیں جاپان نے کہاہے کہ ان کا ملک جموں کشمیر کے حوالے سے طویل عرصے سے جاری اختلاف سے آگاہ ہے اور وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور امید کرتا ہے کہ اس مسئلے کا مذاکرات کے ذیعے پرامن طریقے سے حل نکالا جائے گا۔یہ بات نئی دہلی میں بھارت اور جاپان کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع کے درمیان ملاقاتوں کے بعدجاپان کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر

مزید : صفحہ اول