ایڈز کے علاج معالجہ کیلئے ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا،ڈاکٹر ظفر بشیر

    ایڈز کے علاج معالجہ کیلئے ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا،ڈاکٹر ظفر بشیر

  



لاہور(سٹی رپورٹر)محکمہ صحت کے متعلقہ اداروں کو اربوں کی گرانٹس ملتی رہیں مگر اس شرح سے زیادہ HIV ایڈز بھی پھیلتا رہا۔ محکموں کی غفلت کی ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے بیماری کے تدارک و علاج معالجہ کیلئے ٹھوس لائحہ عمل اختیارکیا جائے یہ بات چیئرمین ایکو پاکستان ڈاکٹر ظفر بشیر چوہدی نے لاہور میں ہونے والے ایک پبلک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1981ء کے بعد سے اب تک تقریباً 40 ملین افراد ایڈز کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں اور دنیا بھر میں تقریباً 37 ملین افراد ایڈز HIV کا شکار ہیں حالانکہ اس کا علاج ممکن ہے مگر اس کے باوجود دو ملین افراد ہر سال ایڈز سے لقمہ اجل بنتے ہیں۔ جن میں 250000بچے شامل ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر عابد محمود چوہدری چیف کوآرڈینیٹر ایکو پاکستان نے کہا کہ ان محکمہ جات کا کام ایڈز کے نام پر اربوں کی نیشنل اور ملٹی نیشنل گرانٹس ہی لینا نہیں بلکہ لوگوں کو اس مرض سے مکمل آگاہی اور تعلیم و تربیت بھی شامل ہے۔ ڈاکٹررانا مصطفی نے کہا کہ ایکو کے تحت ایڈز آگاہی مہم کا آغاز کیا جارہا ہے جس میں سرخ ربن، روشن شمع، پوسٹرز نمائش، بروشرز، گیسٹ سپیکرز، پرفارمرز، ای کارڈز، بینرز وغیرہ کا بھر پور استعمال کیا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1