ندا ڈار کوانگلینڈ کے خلاف قومی ویمنز ٹیم سے بہتر کارکردگی کی امید

  ندا ڈار کوانگلینڈ کے خلاف قومی ویمنز ٹیم سے بہتر کارکردگی کی امید

  



لاہور(سپورٹس رپورٹر)قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ میں شامل تین ایک روزہ میچوں کی میزبانی کرنی ہے۔9 دسمبر سیملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں شروع ہونے والی سیریز میں پاکستان کا مقابلہ انگلینڈ سے ہوگا۔ قومی ویمنز ٹیم آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر پانچویں اور انگلینڈ کی خواتین کرکٹ ٹیم دوسرے نمبر پر موجود ہے۔سیریز میں کامیابی قومی ویمنز ٹیم کو نیوزی لینڈ میں شیڈول آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈکپ 2021 میں رسائی کا براہ راست موقع فراہم کرے گی۔ اس حوالے سے قومی ویمنز کرکٹ ٹیم میں شامل نداڈار سمیت سینئر کھلاڑیوں سے سیریز میں بہتر کارکردگی کی توقع ہے۔ ندار ڈار نے نو سال قبل پاکستان کی جانب سے انٹرنیشنل ڈیبیو کیا۔آلراؤنڈر ندا ڈار اب تک پاکستان کی جانب سے کل 167 ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی میچوں میں شرکت کرچکی ہیں۔ندا ڈار ویمنز بگ بیش لیگ میں شرکت کرنے والی واحد پاکستانی خاتون کرکٹر ہیں۔

گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے ندا ڈار نے ویمنز بگ بیش لیگ کے حالیہ ایڈیشن میں سڈنی تھنڈر کی نمائندگی کی۔ایونٹ میں دس سے زائد وکٹیں حاصل کرنے والی باؤلرز میں ندا ڈار نے 14.7کے اسٹرائیک ریٹ کے علاوہ 16.92کی اوسط سے باؤلنگ کی۔

جو ویمنز بگ بیش لیگ کے حالیہ ایڈیشن میں کسی بھی خاتون باؤلر کی دوسری بہترین اوسط رہی۔11 میچوں میں 13وکٹیں حاصل کرنیوالی ندا ڈار ایک روزہ سیریز میں بہترین کارکردگی دکھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ندا ڈار کاکہنا ہیکہ ویمنز بگ بیش لیگ میں شرکت ایک بہترین تجربہ تھا اور وہ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمعہ معروف سے اس مفید تجربے کا تبادلہ ضرور کریں گی۔ندا ڈار نے کہا کہ سب سے اہم چیز میچ میں بدلتی صورتحال کو بھانپنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انگلینڈ کی خواتین ٹیموں میں زیادہ فرق نہیں ہے تاہم انٹرنیشنل میچ میں کامیابی کے لیے قومی کرکٹرز کو اعصابی مضبوطی درکا ر ہوگی۔ندا ڈار نے کہا کہ جو ٹیم میچ کے روز بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی وہی جیت کی حقدار ٹھہرے گی۔دونوں ٹیمیں اس سے قبل 8 مرتبہ ایک دوسرے کے مدمقابل آچکی ہیں۔ تمام میچوں میں انگلینڈ نے کامیابی حاصل کی تاہم دونوں ٹیموں کے درمیان 2017 میں کھیلے گئے آخری ایک روزہ میچ میں ندا ڈار نے 5وکٹیں حاصل کی تھیں۔32سالہ خاتون کرکٹر پرامید ہیں کہ قومی خواتین کرکٹ ٹیم اس مرتبہ انگلینڈ کے خلاف تاریخ بدل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ویمنز ٹیم کی فیلڈنگ میں بہتری آئی ہے جبکہ کھلاڑیوں کے فٹنس لیول میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ندا ڈار کا کہنا ہے کہ قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی اکثریت اس سے قبل انگلینڈ کے خلاف میدان میں نہیں اتری جس کے باعث پاکستان ایک روزہ سیریز میں حریف ٹیم کو سرپرائز کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ ثناء میر کی عدم موجودگی میں ندا ڈار کی ذمہ داری میں اضافہ ہوا ہے تاہم 32سالہ آلراؤنڈر نے ا سے چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے۔ ندا ڈار نے کہا کہ ثناء میر قومی کرکٹ ٹیم کا اہم حصہ ہیں اور انہیں ثناء میر سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ 28.53 کی اوسط سے 66 ایک روزہ وکٹیں حاصل کرنے والی آلراؤنڈر ندا ڈار کا کہنا ہیکہ گذشتہ چند سالوں میں کرکٹ میں اسپنرز کا کردار اہمیت اختیار کرگیا ہے۔پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ایک روزہ میچوں پر مشتمل سیریز آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ کے ساتویں راؤنڈ کا حصہ ہے۔9، 12 او ر 14 دسمبر کو شیڈول تینوں میچز کنرارا اوول کوالالمپور میں کھیلے جائیں گے۔ 2017سے 2020 تک جاری رہنے والے تین روزہ سائیکل کے اختتام پر چار بہترین ٹیمیں آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ 2021 میں براہ راست رسائی حاصل کریں گی۔تینوں ایک روزہ میچز پی سی بی کے یوٹیوب چینل پر لائیو اسٹریم کیے جائیں گے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی