خواتین فٹبال ریفریز کی تیاری،ہر ممکن تعاون کو تیار ہوں، اکھونہ ماکیلا

      خواتین فٹبال ریفریز کی تیاری،ہر ممکن تعاون کو تیار ہوں، اکھونہ ماکیلا

  



لاہور (سپورٹس رپورٹر) پاکستان میں خواتین فٹبال ریفریز کی تیاری کیلئے ہر ممکن تعاون کرنے کیلئے تیار ہوں، خواتین کو کھیلوں میں شرکت کے ساتھ ساتھ اس سے وابستہ ٹیکنیکل شعبہ میں بھی آگے آنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی فیفا کی ایلیٹ پینل ریفری اکھونہ ماکیلاما نے سجال آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پنجاب یونیورسٹی کی ڈائریکٹر سپورٹس طاہرہ سلیم اور گلیکسی سپورٹس اکیڈمی کی چیف آپریٹنگ آفیسر رابعہ قادر بھی موجود تھیں۔ اکھونہ کی پاکستان آمد کا مقصد خواتین کو کھیل کے ذریعے کیرئیر بنانے بارے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ اکھونہ ماکیلاما کا کہنا تھا کہ خواتین کی کھیلوں میں شرکت کے حوالہ سے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے حالات زیادہ مختلف نہیں تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران کھلاڑی خواتین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلوبل سپورٹس مینٹورنگ پروگرام ایلومینائی ایکسچینج کے تحت گلیکسی سپورٹس نے مجھے پاکستان مدعو کیا جس پر سی ای او رابعہ قادر کی بے حد مشکور ہوں جبکہ پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے دی جانے والی سہولیات بین الاقوامی میعار کی ہیں۔ ڈائریکٹر سپورٹس طاہرہ سلیم کا کہنا تھا کہ ہمارا ادارہ کھیلوں کے فروغ کیلئے ہر سطح پر تعاون فراہم کررہا ہے اکھونہ کی آمد سے یونیورسٹی سمیت دیگر اداروں کے کھلاڑیوں کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرمحمد نیاز اختر کی رہنمائی میں ہم کھیلوں کے شعبہ میں بہتر سے بہتر کارکردگی دکھانے کیلئے کوشاں ہیں اور یہ پروگرام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ رابعہ قادر نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار خواتین نے مل کر کھیلوں کے فروغ کا بیڑہ اٹھایا ہے۔

اس پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ٹریننگ، میزبانی اور سہولیات فراہم کرنے والی تینوں خواتین ہیں جی ایس ایم پی ایلومینائی ایکسچینج پروگرام کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ خواتین سپورٹس کے میدان میں لیڈر شپ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر اعتبار سے با اختیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے تعاون کے بغیر یہ پروگرام ممکن نہ تھا جس پر میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد نیاز اختر اور ڈائریکٹر سپورٹس طاہرہ سلیم کی بے حد مشکورہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں بھی پنجاب یونیورسٹی کے تعاون سے کھیلوں کے غیر ملکی ماہرین کو پاکستان مدعو کیا جائے گا تاکہ ہمارے کھلاڑی بین الاقوامی معیار کی تربیت حاصل کرسکیں۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی