سی سی پی او لاہورذوالفقار حمیدویلڈن

سی سی پی او لاہورذوالفقار حمیدویلڈن
 سی سی پی او لاہورذوالفقار حمیدویلڈن

  



اسے لا ہور کی خوش قسمتی کہا جا سکتا ہے کہ یہاں ایک ایسے پولیس آفیسر کو سی سی پی او لا ہور کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے جس نے اپنی پوری سروس کے دوران غیر سیاسی آفیسر کے طور پر شہرت پائی۔ذوالفقار حمید ایک ایماندار، بہادر، دیانت دار اور غیر سیاسی پولیس آفیسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

وہ ایک ایسے پولیس آفیسر ہیں جن پر آج تک کرپشن کا الزام نہیں لگا اور نہ ہی کبھی ان کے حوالے سے کسی قسم کا سیاسی ایجنڈا سامنے آیا ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں قائد آعظم محمد علی جناح کی اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے پوری کرتے ہیں جو انہوں نے سول سروس کے آفیسرز سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی۔ ذوالفقار حمیدلاہور پولیس کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ اس سے قبل لا ہور میں بطور ایس پی انوسٹی گیشن، ایس پی سی آئی اے،ایس پی سی آر او، ایس ایس پی انوسٹی گیشن، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن اور سی سی پی او کے عہدوں پر فرائض سر انجام دے چکے ہیں یہ پولسینگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

ان کا تعلق 23ویں کامن سے ہے۔ انھوں نے2001 ؁ء میں ایس پی جبکہ2013 ؁ء میں ڈی آئی جی کے عہدہ پر ترقی پائی یہ آر پی او سرگودھا، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، ڈی آئی جی ویلفیئر، ڈی آئی جی ڈی اینڈ آئی اور سنٹرل پولیس آفس پنجاب میں اہم عہدوں پر اپنے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ ذوالفقار حمید کو میں زاتی طور پرگزشتہ بیس سال سے جا نتا ہوں وہ انتہائی ملن ساز، پیشہ وارانہ مہارتوں کے حامل اور محب الوطن پو لیس آفیسر ہیں انھوں نے ہمیشہ کہا ہے کہ بطور سول سرونٹ میرا کام قوم کی خدمت اور اپنا فرض ادا کرنا ہے۔

مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میری پوسٹنگ کہاں ہوتی ہے۔ میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں اور نہ ہی مجھے اپنی تنخواہ سے زیادہ کی ضرورت ہے۔ انھیں اپنی قابلیت، ایمانداری اور لیڈر شپ کی خوبیوں کی وجہ سے ایک بار پھر سی سی پی او تعینات کیا گیا ہے۔سی سی پی او لا ہور ذوالفقار حمید پولیس ویلفئر اور شہدا کی فیملیز کا خیال رکھنے کے حوالے سے جتنی شہرت رکھتے ہیں اس سے کہیں زیادہ مشہور کرائم فائٹر پولیس آفیسر کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں ہیں۔ انہیں کرائم کنٹرول کرنے میں ملکہ ہے۔

ان کی لیڈر شپ کوالٹی ہی ہے کہ ہم نے دیکھا ہے کہ ان کے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن دور میں یہ لا ہور کے ہر تھانے سے واقف ہوتے تھے اور لاہور بھر کی نگرانی خود کرتے تھے۔ انہیں علم ہوتا تھا کہ شہر کے کس تھانے میں کرائم کے حوالے سے کیا صورت حال ہے اور کہاں کہاں کتنی کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔ ذوالفقار حمید نے جب بھی لاہور سمیت کسی بھی ریجن کی کمان سنبھالی انہوں نے نہ صرف تیزی سے کرائم کنٹرو ل کیا بلکہ ان کے دور میں ریکارڈ اشتہاری ملزمان گرفتار کئے گئے۔

جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پولیس فورس کی صلاحیتوں میں کئی گنا اضافہ کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے والے ذوالفقارحمیدکے دوبارہ سی سی پی اوبننے سے ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ اب ایک بار پھر لا ہور کرائم فری کے طور پر ابھرے گا۔یہ سچ ہے کہ ہم نے ہمیشہ پولیس پر بہت تنقید کی ہے لیکن یہ تنقید مثبت سوچ کے تحت ہوتی تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب ایسا پولیس آفیسر تعینات ہو جو اپنی کارکردگی سے عوام کے دل جیتنا جانتا ہو تو اسے بھرپور سپورٹ کرنا بھی لازم ہے کیونکہ ایسے افسران ہی ہمیں اور ہمارے بچوں کو تحفظ کا احساس دلاتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم