نیوائیر پورٹ میٹرومنصوبہ عدم  فنڈز کیوجہ سے تاخیر کا شکارہوا 

 نیوائیر پورٹ میٹرومنصوبہ عدم  فنڈز کیوجہ سے تاخیر کا شکارہوا 

  



 اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات میں حکام نے انکشاف کیا ہے کہ پشاور موڑ سے نیو اسلام آباد ائیر پورٹ تک میٹرو منصوبہ فنڈز کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکا، پہلے منصوبہ اکتوبر 2018میں مکمل ہونا تھا جو بعد میں مئی 2019کیا گیا لیکن پھر بھی مکمل نہ ہو سکا،منصوبے کیلئے بجٹ میں ایک ارب روپیہ  رکھا گیا جبکہ  ہماری ضرورت 3.3 ارب ہے۔رکن کمیٹی سینیٹر احمد خان نے کمیٹی کو بتایا کہ میٹرو بس منصوبہ کے ٹھیکیدار میرے پاس آئے تھے کہ فنڈز دیر سے جاری ہونے کی وجہ سے تاخیر ہوئی، ان کی غلطی نہیں ہے،ٹھیکیدار فنڈز میں تاخیر کی وجہ سے مہنگا سریا خریدنے پر مجبور ہیں، ان کے مسائل دیکھے جائیں۔پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس  چیئرمین ہدایت اللہ کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاوس  میں ہوا۔کمیٹی اجلاس میں کاغان تا باسوسر سڑک اراضی کے معاوضے کی عدم ادائیگی کا معاملہ زیر بحث لایا گیا۔حکام این ایچ اے نے کمیٹی کو بتایا کہ کمیٹی تجاویز کے مطابق اراضی کی رقوم بہت زیادہ ہیں وہ ہم ادا نہیں کر سکتے، این ایچ اے 2سو ملین کا اب 1 اعشاریہ 4 ارب ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں جس پر چیرمین کمیٹی سینیٹر ہدیات اللہ نے اظہا ربرہمی کرتے ہوئے کہاکہ وزارت مواصلات اور نیشنل ہائی وے نے دو مہینے میں کمیٹی کو جواب تک نہیں دیارولز پر عمل کرتے تو مالی بحران کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کرتے۔سینیٹر صلاح الدین ترمذی نے کہاکہ ایسا مایوس کن جواب میں نے کبھی نہیں سنا سترہ سال پہلے لوگوں کی اراضی چھن گئی اور انہیں آج تک معاوضہ نہیں دیاانہوں نے کہاکہ لوگ 17سال سے رو رہے ہیں اب بیس سال بعد کہ رہے ہیں رقم نہیں ہے جواب کمیٹی کی توہین ہے موجودہ ریٹ کے مطابق انہوں معاوضہ دیں تین ہزار کے قریب لوگ متاثرین ہیں انہوں نے کہاکہ مجھے بتایا جائے ایک سال سے معاملہ کمیٹی میں چلتا رہا مسئلہ حل نہ ہوا تو میں سپریم کورٹ جاوں گاقانون کے مطابق آپ کو عمل کرنا ہو گا اور رقوم ادا کرنا ہو گی۔ چیرمین کمیٹی سینیٹر ہدایت اللہ نے کہاکہ ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق وزارت مواصلات اور این ایچ اے متاثرین کو رقم ادا کرنے کے پابند ہیں ایک ہفتے میں طریقہ کار کمیٹی کو بتائے جس طریقے سے بھی ہو قانون کے مطابق ادائیگیاں کی جائیں۔کمیٹی اجلاس میں سی پیک ایسٹرن، ویسٹرن اور کامن روٹس پر سڑکوں کے منصوبوں کے پیش رفت پر حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہزارہ موٹروے اس وقت مکمل ہے مانسہرہ سے اگلا روٹ فروری میں مکمل ہو گا ویسٹرن روٹ پر کل 5 سڑک منصوبے ہیں جن پر آدھے سے زیادہ کام مکمل ہے ویسٹرن روٹ پر بڑا مسئلہ فنڈنگ کا ہے جو حل ہونا چاہئے۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ ان منصوبوں کی تکمیل کی تاریخ میں بھی دیری ہوئی ہے اس لئے فنڈز کا مسئلہ ہوا ہے سی پیک وسٹرن روٹ پرحکام نے تجویز پیش کی کہ ہوشاب سے واران کے درمیان روڈ کے لئے پانچ ارب روپے رکھے گے ہیں جبکہ ابھی تک اس کی ڈیزائنگ بھی نہیں بنی یہ رقم اس سال نہیں خرچ ہو گی۔ 

 نیو ائیر پورٹ منصوبہ

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر