کوہاٹ، اڈہ تہہ بازاری ریکوری میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کا انکشاف

کوہاٹ، اڈہ تہہ بازاری ریکوری میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کا انکشاف

  



کوھاٹ (بیورو رپورٹ) پرانا لاری اڈہ ٹی ایم اے اہلکاروں کے لیے سونے کا انڈہ دینے والی مرغی بن گیا گزشتہ کئی سالوں سے اڈے سے تہہ بازاری کی مد میں ہونے والی ریکوری میں مبینہ طور پر گھپلوں کا انکشاف‘ سستا بازار میں بھی کباڑیوں سے 100 روپے یومیہ لینے کا سکینڈل سامنے آ گیا تفصیلات کے مطابق پرانا لاری اڈہ جہاں پر حکومت نے بیوٹیفیکیشن فنڈ سے کروڑوں روپے خرچ کیے مگر ضلعی انتظامیہ اور ٹی ایم اے افسران کی کمزوری کی وجہ سے یہاں پر ایک سو سے زیادہ چھوٹے بڑے ریڑھے والے مستقل کھڑے رہتے ہیں جن سے یومیہ 100 روپے تہہ بازاری فیس وصول کی جاتی ہے جو کہ ٹی ایم اے کا ایک اہلکار گزشتہ کئی سالوں سے وصول کرتا چلا آ رہا تھا چند ماہ قبل جب پیر ابرار شاہ نامی اہلکار کی اڈہ میں ریکوری انچارج تعیناتی ہوئی تو یکدم ریکوری میں چار سے پانچ ہزار روپے یومیہ اضافہ ہو گیا اور یومیہ ٹی ایم اے کے اکاؤنٹ میں 10 سے 11 ہزار روپے جمع ہونے لگے جو اس سے پہلے لگ بھگ سات ہزار یومیہ جمع ہوتے رہے جو کہ مبینہ طور پر عجب کرپشن کی غضب کہانی ہے نئے اہلکار کی اچھی پرفارمنس کو دیکھتے ہوئے محکمے کی کالی بھیڑوں کو TOR سہیل سدوزئی نے تبادلے کے بعد اس کو کھڈے لائن لگا کر دوبارہ اپنے من پسند اہلکار کو تعینات کر دیا ذرائع کے مطابق ایک بار پھر اڈہ سے ریکوری واپس پرانی جگہ پر آ گئی ہے دوسری جانب گزشتہ روز سستا بازار میں بھی ایک کباڑی نے انکشاف کیا کہ ان سے ٹی ایم اے کے اہلکار دس دنوں کے 1000 روپے وصول کرتے ہیں یہ رقم کہاں جمع ہوئی اس کی بھی کوئی معلومات نہیں اسی طرح بعض ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ٹی ایم اے کا ایک اہلکار جس کا TOR برانچ سے کوئی تعلق بھی نہیں وہ پرانے اڈے میں 52 ایسے ریڑھے ہیں جن سے یومیہ 100 کے علاوہ مبینہ طور پر 3000 روپے ماہانہ الگ یکمشت بھی وصول کر رہا ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے عوامی حلقوں نے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن‘ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوھاٹ اور ڈپٹی کمشنر کوھاٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عجب کرپشن کی غضب کہانی کی خفیہ انکوائری کرواتے ہوئے گزشتہ کئی سالوں سے لاکھوں روپے ماہانہ ٹی ایم اے کو نقصان پہنچانے والے اہلکاروں کی انکوائری کروا کر ان سے لوٹی ہوئی رقم برآمد کر کے ٹی ایم اے کے خزانے میں جمع کروائیں جبکہ ان عناصر کے ذاتی اثاثوں کی بھی جانچ پڑتال کی جائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر