تم کسی کو گرفتار نہیں کرپارہے،سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو کیا کچھ کہا جاتا رہا ؟ عمر چیمہ نے دعویٰ کردیا

تم کسی کو گرفتار نہیں کرپارہے،سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو کیا کچھ کہا ...
تم کسی کو گرفتار نہیں کرپارہے،سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو کیا کچھ کہا جاتا رہا ؟ عمر چیمہ نے دعویٰ کردیا

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومت نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل عہدے سے فارغ کرتے ہوئے ان کی جگہ واجد ضیاءکو قلمدان سونپ دیاہے جس کے بعد میڈیا میں کئی طرح کی خبریں گردش کر رہی ہیں اور اسی معاملے پر سینئر صحافی ” عمر چیمہ “ نے بھی ایک آرٹیکل شائع کیا ہے،

جس میں ان کا کہناتھا کہ  بشیر میمن 22؍ گریڈ کے جرأتمند اور اچھے کردار کے حامل پولیس افسر ہیں اور ان کا پورا کیریئر طاقتور لوگوں کے سامنے ڈٹ جانے سے بھرا ہوا ہے۔ چونکہ ہر بات کی ایک قیمت ہوتی ہے اس لئے انہوں نے وہ قیمت چکائی لیکن اچھائی اور قانون کا راستہ نہ چھوڑا۔ بشیر میمن اپنے دور ملازمت کے دوران غیر قانونی احکامات کیخلاف مزاحمت کی علامت رہے۔ عمرچیمہ نے اپنے آرٹیکل کو ٹویٹر پر شیئر کرتے ہوئے کچھ نہایت حیران کن دعوے بھی کیے جس نے ہر طرف کھلبلی مچا کر رکھ دی ہے ۔

عمر چیمہ نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو کہا گیا کہ ”اصغر خان کیس ختم نہیں ہونا چاہیے ،بے شک کوئی شہادت نہ ملے اس میں نواز شریف اور جاوید ہاشمی کو پکڑنا ہے، شہبازشریف کو گرفتار کرو اسکے لیے ثبوت خود تلاش کرو ،جب ان کی جانب سے انکار کیا تو پھر نیب کو کہا گیا۔

سینئر صحافی کے مطابق سابق ڈی جی ایف آئی اے کو کہا گیا کہ "دیکھو میں نے چیئرمین نیب کو ایک دفعہ فون کیا اس نے شہباز شریف کو گرفتار کر لیا" اب تو میں خود بھی نہیں کہتا میرا اسسٹنٹ ہی اسے ڈیل کرلیتا ہے "دیکھو ہمارے لوگ ٹی وی پر جس اپوزیشن کے بندے کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ گرفتار ہو گا دو دن کے اندر نیب اسے پکڑ لیتی ہے ،اسے کہتے ہیں وفاداری"۔

عمر چیمہ کے مطابق بشیر میمن کو پیغام دیا گیا کہ "تم کسی کو گرفتار نہیں کر پا رہے" ،رانا ثناءاللہ جب بھی اسمبلی میں تقریر کرتا اوپر سے حکم آتا اسے گرفتار کر لو، سر، کس کیس میں؟ کوئی بھی کیس بنا دو بس گرفتار کر لو، مریم نواز کو ویڈیو سکینڈل پریس کانفرنس کرنے پر گرفتار کر لو، "سر، کیس نہیں بنتا" یار پھر پرویز رشید کو گرفتار کرلو۔”شاہد خاقان عباسی پر کیس بناو ائیر بلیو میں کوئی کرپشن کے معاملات دیکھ لو اسکے ساتھ علی جہانگیر صدیقی کو بھی پکڑ لو اور نہیں تو اسکے دور کی پاکستان کے امریکہ سفارتخانے کی کرپشن نکال لو جب اس پر وزارت خارجہ کیطرف سے اعتراض آیا کہ ایسا نہ کریں تو کہا گیا کہ معترص پر بھی کیس بناو۔“

سابق ڈی جی ایف آئی اے سے کہا گیا کہ خواجہ آصف پر کیس بناو کہ اسکے پاس اقامہ تھا وزیر خارجہ ہوتے ہوئے ملکی راز باہر بھیجے ہیں، "سر ثبوت کہاں سے لائیں" آپ پریس ریلیز ہی جاری کر دو کہ تفتیش کر رہے ہیں ڈی جی بولا "اگر اسطرح کیس بنے تو جناب وزیراعظم پر بھی بنے گا کہ اسکے بیٹے برطانوی شہری ہیں اور اسکے پاس ٹھہرتے رہے"۔

احسن اقبال اور مریم اورنگزیب کو پکڑو، انکی ہمت کیسے ہوئی پاکستان میں رہ کر میرے خلاف باتیں کرنے کی، میں تجھے اگلی دفعہ سعودی عرب ساتھ لیکر چلوں گا وہاں دیکھنا، محمد بن سلمان کی حکومت، کسی کی جرات نہیں کہ اسکے خلاف زبان کھولے

ایک دفعہ پی آئی اے بارے بریفنگ تھی ائیر بس کمپنی سے کوئی رقم واپس لینا تھا سوال ہوا "اچھا یہ بتاو اس میں کسی سیاستدان نے پیسے نہیں لئیے؟" جواب نفی میں تھا پھر شروع ہو گئے "یہ اپوزیشن کے سیاستدان بھونکنے والے کتے ہیں ان سب کو جیل میں ہونا چاہئیے"

صحافی کا اپنے پیغام میں کہناتھا کہ ” جب علیم خان پکڑا گیا تو فرمایا اس نے کچھ غلط نہیں کیا خواہ مخواہ پکڑ لیا "اب نیب نے ہمارے بندے پکڑنا شروع کر دئیے ہیں" عارف نقوی کا اربوں روپے کی انکوائری ایف آئی اے کے پاس ہے پوچھا کہ عارف نقوی کو جانتے ہو؟ "اس نے پی ٹی آئی کی الیکشن میں فنڈنگ کی تھی" اس کا کیس بند کرو۔“

مزید : قومی