"زرداری کیلئے ضیا الدین ہسپتال میں کمرہ تیار لیکن زنجیر کھولنے والے بضد ہیں کہ ۔ ۔ ۔" سینئر صحافی نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

"زرداری کیلئے ضیا الدین ہسپتال میں کمرہ تیار لیکن زنجیر کھولنے والے بضد ہیں ...

  



اسلام آباد(ویب ڈیسک) سابق صدر آصف علی زرداری اسیری کی زندگی گزار  رہے ہیں، وہ اس سے قبل بھی مختلف اداروں میں قید کی سزا بھگت چکے لیکن اپنی ضد پر ڈٹے آصف علی زرداری نے درخواست ضمانت دائر کرنے کی بھی حامی نہ بھری البتہ علاج کے لیے ذاتی ڈاکٹر تک رسائی اور کراچی منتقلی کے خواہاں تھے لیکن اس کی اجازت نہ مل سکی، اب تازہ اطلاعات ہیں کہ ان کی طرف سے درخواست ضمانت دائر کردی گئی ، ایسے میں سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے درخواست ضمانت دائر ہونے سے قبل ہی دعویٰ کیا کہ ضیاالدین ہسپتال میں زرداری کے لیے کمرہ اور ڈاکٹر تیار ہیں لیکن مقتدر قوتیں انہیں بیرون ملک بھیجنا چاہتی ہیں۔

روزنامہ جنگ میں بلاول کا نام لیے بغیر سہیل وڑائچ نے لکھا کہ " سرخ انقلاب کے پہلے شہید بھگت سنگھ کی سرفروشی پھر سے داد وصول کر رہی ہے مگر تم کہاں ہو؟ یہ سارے کام تو تمہارے کرنے کے تھے، صرف تمہارے حامی بیان سے کام نہیں چلے گا۔ تمہیں تو ان تحریکوں کی قیادت کرنا تھی، تم نے تو نانا اور والدہ کی طرح غریبوں کے اندھیرے گھروں میں چراغ جلانا تھے مگر تم اقتدار کے قمقموں کی روشنی کو پانے کی سعی کرنے لگے"۔

انہوں نے آصف علی زرداری کے بارے میں لکھا کہ "سنا ہے کہ سوتیلا سوکھ کر کانٹا ہو چکا ہے، اٹھنے بیٹھنے اور چلنے کے لئے اس کو سہارے کی ضرورت پڑتی ہے۔ فی الحال سوتیلا بیرونِ ملک جانے اور ہمیشہ وہیں رہنے کے لیے مان نہیں رہا۔ سُنا ہے تم بھی یہی چاہتے ہو مگر سوتیلا اڑا ہوا ہے کہ وہ ہر صورت کراچی جائے گا۔

ضیاء الدین ہسپتال میں اس کیلئے کمرہ اور ڈاکٹر تیار ہیں مگر پائوں کی زنجیر کھولنے والے بضد ہیں کہ کراچی نہیں بھیجنا، باہر جائو۔ پوچھنا یہ تھا کہ تم صیاد کے ہم نوا بن کر سوتیلے سے اختلاف کیوں کررہے ہو؟

تاریخ کے صفحات میں سب لکھا ہے کہ کیسے جہانگیر نے اپنے باپ مہابلی اکبر اعظم کو بے دست و پا کرکے وراثت لے لی تھی۔ توقع ہے کہ تم ایسا نہیں کرو گے، اگلے چند دن کے معاملات میں بھی تمہارے کردار کا پتا لگ جائے گا۔ چند دن کی بات ہے تمہارے جمہوری لبادے پر داغ لگ سکتا ہے، دھیان سے چلنا وگرنہ سب کو پتا لگ جائے گا تم کہاں کھڑے ہو"۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور /قومی /اسلام آباد