پاکستانی بینکوں نے حکومتی ہدایات پر صارفین کے اکاﺅنٹس کی نگرانی شروع کی تو نتیجہ کیا نکلا؟ ہر پاکستانی کے لئے انتہائی حیران کن خبر آگئی

پاکستانی بینکوں نے حکومتی ہدایات پر صارفین کے اکاﺅنٹس کی نگرانی شروع کی تو ...
پاکستانی بینکوں نے حکومتی ہدایات پر صارفین کے اکاﺅنٹس کی نگرانی شروع کی تو نتیجہ کیا نکلا؟ ہر پاکستانی کے لئے انتہائی حیران کن خبر آگئی

  



کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی بینکوں میںرقوم کی مشکوک منتقلی کی شرح تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ ویب سائٹ ’پروپاکستانی‘ کے مطابق حکومت کی طرف سے بینکوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ رقوم کی ترسیل کی کڑی نگرانی کی جائے اور اس حوالے سے مرکزی بینک کو آگاہ رکھا جائے۔ گزشتہ دنوں بینکوں کی طرف سے اپنی رپورٹس میں جو بتایا گیا ہے اس کے مطابق گزشتہ ایک سال میں مشکوک ٹرانزیکشنز کی تعداد بڑھ کر 14ہزار 545ہو گئی ہے۔

2017ءمیں یہ تعداد 5ہزار 548تھی۔ 2018ءمیں بڑھ کر 8ہزار 708ہو گئی اور 2019ءمیں مشکوک ٹرانزیکشنز کی تعداد میں لگ بھگ دو گنا اضافہ ہوا اور یہ 14ہزار 545تک پہنچ گئیں۔ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”مشکوک ٹرانزیکشنز کی تعداد بڑھ جانے کا یہ مطلب نہیں کہ اب زیادہ مشکوک ٹرانزیکشنز ہونے لگی ہیں، اب چونکہ نگرانی کا نظام انتہائی سخت کیا جا چکا ہے چنانچہ مشکوک ٹرانزیکشنز زیادہ پکڑی جا رہی ہیں۔“ واضح رہے کہ 2014ءسے اب تک 41ہزار 255مشکوک ٹرانزیکشنز پکڑی جا چکی ہیں۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی