سپریم کورٹ نےفواد حسن فواد کی ضمانت کی درخواست واپس لینے پر نمٹا دی

سپریم کورٹ نےفواد حسن فواد کی ضمانت کی درخواست واپس لینے پر نمٹا دی
سپریم کورٹ نےفواد حسن فواد کی ضمانت کی درخواست واپس لینے پر نمٹا دی

  



اسلام آباد(صباح نیوز)سپریم کورٹ نے آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کے مقدمے میں فواد حسن فواد کی ضمانت کی درخواست واپس لینے پر نمٹاکر قراردیا ہے کہ درخواست گزار نئے نکات کے ساتھ ضمانت کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔ دوران سماعت چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے ریما رکس دیے کہ اگر سپریم کورٹ نے ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ منی ٹریل کے بارے عدالت مطمئن نہیں ہوئی تو ٹرائل کورٹ میں درخواست گزار کا کیس متاثر ہوگا۔

منگل کو تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تو فواد حسن فواد کے وکیل اشتہر علی اوصاف نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ جس پلازے کی بنیاد پر ان کے موئکل کے خلاف اثاثوں کا کیس بنایا گیا ہے وہ پلازہ ان کی ملکیت ہی نہیں۔انھوں نے کہا کہ پلازہ سپرنٹ سروسز کی ملکیت ہے اور  درخواست گزار کے بھائی ،اہلیہ اور بھابی حصہ دار ہیں۔عدالت کے استفسار پر انھوں نے بتایا کہ پلازے کے لئے ایک ارب سترہ کروڑ روپیہ کی زمین خریدی گئی اور پلازے کی تعمیر کے لئے بینک سے قرض لیا گیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ پلازہ زیر تعمیر ہے اور اس پر دو ارب ستر کروڑ کی لاگت آئے گی،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بینک اتنی بڑی رقم تو نہیں دیتا،ظاہر ہے  انھیں پتہ تھا کہ آدمی طاقتور پوسٹ پر ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ زمین کب خریدی گئی اورخریداری کے لئے اتنی بڑی رقم کہاں سے آئی۔وکیل نے کہا کہ زمین 2013میں خریدی گئی اور درخواست گزار کے بھائی،اہلیہ اور بھابی 1986سے مشترکہ کاروبار کرہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کے پاس اس سے پیسے ہیں ،اللہ ان کو اور بھی دے لیکن ہمیں بتائے کہ ان کے پاس پیسے کہاں سے آئے۔اشتہر اوصاف نے کہا کہ مشترکہ کاروبار کے پانچ سو میلین روپیہ ریٹرنز میں ظاہر کئے گئے ہیں۔عدالت کے استفسار پر وکیل نے کہا کہ فواد حسن فواد کے بھائی وقار احمد ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کرتے تھے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ارب پتی ٹیکس نہیں دیتا؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر منی ٹریل کے بارے ہم مطمئن نہیں ہوئے تو ٹرائل کورٹ میں درخواست گزار کا کیس متاثر ہوگا ،جس پر وکیل نے کہا کہ وہ اپنی درخواست پر زور نہیں دیں گے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہائی کورٹ نے حقائق پر فیصلہ نہیں کیا۔عدالت نے درخواست واپس لینے پر کیس نمٹا دیا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد