’ یہ کام نہ کیا تو  7 دن  بعد  یہاں میں نہیں ہوں گا‘ سردار ایاز صادق نے دھمکی دے دی، مگر کس کو؟ آپ بھی جانئے

’ یہ کام نہ کیا تو  7 دن  بعد  یہاں میں نہیں ہوں گا‘ سردار ایاز صادق نے دھمکی ...
’ یہ کام نہ کیا تو  7 دن  بعد  یہاں میں نہیں ہوں گا‘ سردار ایاز صادق نے دھمکی دے دی، مگر کس کو؟ آپ بھی جانئے

  



اسلام آباد(صباح نیوز) سابق سپیکر سردار ایازصادق نے وزارت سمندر پار پاکستانیز کے عدم تعاون پر پی اے سی ذیلی کمیٹی  کی سربراہی چھوڑنے کی دھمکی دے دی،سات دن میں جو سوالات پوچھے ان کے جوابات کمیٹی کو فراہم کریں ورنہ  سات دن  بعد  یہاں میں نہیں ہوں گا کوئی اور ہی  کنوئینر آئیگا،اگر کچھ نہ ہوسکا تو اپنی سزا خود تجویز کیجئے گا۔

 کمیٹی کا اجلاس ایاز صادق کی صدارت میں ہوا۔ وزارت سمندر پار پاکستانی کے آڈٹ پیراز زیر غور آئے ۔ آپریشنل معاملات میں 3 کروڑ 75 لاکھ لاسز کے معاملے کو ڈی اے سی میں جانا تھا  مگر چار ماہ سے محکمانہ آڈٹ کمیٹی کا اجلاس ہی نہیں ہوا ۔  ذیلی کمیٹی نے چار ماہ میں ایک ڈیپارٹمنٹل اکاؤنٹ کمیٹی اجلاس نہ بلانے پر اظہار برہمی کیا ہے ۔ایازصادق نے کہا کہ یہ بتائیں کہ ڈی اے سیز کیوں نہیں ہو رہیں؟وزارت سمندر پار پاکستانی کے افسران کے غیر تسلی بخش جوابات پی اے سی ذیلی کمیٹی کے رکن نور عالم خان نے کمیٹی سے احتجاج واک آٹ کر دیا۔

نور عالم خان   نے کہا کہ جس  وزارت اور اداروں کا حال ہے، میرا خیال ہے آج کے بعد میں بھی اس کمیٹی کو چھوڑ دوں، سردار ایاز صادق  نے کہا کہ سات دن میں جو سوالات پوچھے ان کے جوابات کمیٹی کو فراہم کریں، سات دن میں یہاں نہیں ہوں گا کوئی اور ہی چیئرمین آئیگا،سات دن بعد اگر کچھ نہ ہوسکا تو حکام اپنی سزا خود تجویز کیجئے گا۔

ایاز صادق نے کہا کہ  وزارت اگر پیپرا سے کوئی تصدیق نہیں کراسکتی تو اسکا وجود قائم رکھنے کی کوئی ضرورت ہے وزارت اووسیز کو اگر کچھ پتا نہیں توپھر سارے پیراز کو سیٹل کردیتے ہیں۔ ایم ڈی فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی  زیلی کمیٹی کے اجلاس میں عدم حاضری پر شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا ہے ۔  ,کنوینئر ایاز صادق  نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خط لکھا جائے کہ ایم ڈی ایف ڈی اے کی ترقی نہ کی جائے وژن ڈویلپرز میں خرد برد کا معاملہ زیر بحث  ہے ۔غریب ورکرز کے 40 ارب کا فیصلہ نہیں ہوسکا اسکا ذمہ دار کون ہے ۔سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے قبل ہی ایف آئی آر سے دوبندوں کے نام کیسے نکال دئیے گئے لگتا ہے کہ ایف آئی اے بھی ملوث ہے ۔نیب کوایف آئی اے کا کیس دے رہا ہوں۔

ایاز صادق  نے کہا کہ کبھی تو ایسا بھی ہو کہ نیب ایف آئی اور ایف آئی اے نیب کی تحقیقات کرے۔ایف آئی اے دستاویز میں ردوبدل کرتا رہا ہے۔تحقیقات چل رہی تھیں تو صرف دولوگوں کو کیوں نکالا گیا سب کو نکال دیتے۔کیا ان دولوگوں نے ایف آئی اے کو زیادہ پیسے لگائے بتا دیں, ایاز صادق  نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ مجھے اس کمیٹی سے استعفی دے دینا چاہئیے

مزید : علاقائی /اسلام آباد