خصوصی عدالت پراسیکیوٹر کو سنے بغیر سنگین غداری کیس کافیصلہ جاری نہیں کرسکتی ، اسلام آبادہائیکورٹ نے تفصیلی حکم نامہ جاری کردیا

خصوصی عدالت پراسیکیوٹر کو سنے بغیر سنگین غداری کیس کافیصلہ جاری نہیں کرسکتی ...
خصوصی عدالت پراسیکیوٹر کو سنے بغیر سنگین غداری کیس کافیصلہ جاری نہیں کرسکتی ، اسلام آبادہائیکورٹ نے تفصیلی حکم نامہ جاری کردیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کا فیصلہ روکنے کا تفصیلی حکم نامہ جاری کردیا ہے ،حکم نامہ میں کہا گیاہے کہ خصوصی عدالت پراسیکیوٹر کو سنے بغیر فیصلہ جاری نہیں کرسکتی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کا فیصلہ روکنے کا تفصیلی حکم نامہ جاری کردیا ہے ،حکم نامہ میں کہا گیاہے کہ خصوصی عدالت پراسیکیوٹر کو سنے بغیر فیصلہ جاری نہیں کرسکتی،غداری کیس میں منفرد،غیرمعمولی اوربے مثال حالات ہیں،غداری کیس میں وفاقی حکومت اور پراسیکیوشن کااہم کردارہے، وفاقی حکومت کو پراسیکیوٹر اور پراسیکیوشن ٹیم کے تقررکامکمل اختیار ہے۔ فیئر ٹرائل ملزم کے ساتھ تھ ساتھ پراسیکیوشن کا بھی حق ہے۔

حکم نامے میں کہاگیا ہے کہ حکومت نے 1999 کی بغاوت کے بجائے صرف 2007 کی ایمرجنسی کی شکایت کی، اس عمل نے عدلیہ پر فیئر ٹرائل کا بوجھ مزید بڑھادیاہے۔غداری کیس کے آغاز سے اختتام تک ٹرائل پراسیکیوشن پر انحصار کرتا ہے، خصوصی عدالت پراسیکیوٹر کو سنے بغیر غداری کیس کا فیصلہ نہیں کرسکتی، فیصلے سے قبل وفاقی حکومت کو دلائل کیلئے مناسب وقت دیا جائے۔ حکم نامے کے مطابق پرویز مشرف کواشتہاری ہونے کے باوجوددفاع کے حق سے محروم نہیں کیاجاسکتا،سپریم کورٹ نے پرویزمشرف کی بریت کی درخواست پر فیصلے سے نہیں روکا،اگر پرویز مشرف پیش نہیں ہوتے تو صفائی کابیان ریکارڈ نہیں کیا جاسکتا۔

مزید : اہم خبریں /قومی