شہریوں کی شکایات کےاَزالے کےلئےفالواَپ کو یقینی بنایاجائے،بدسلوکی ،بد کلامی اور غیر قانونی حراست برداشت نہیں کی جائے گی:آئی جی پنجاب

شہریوں کی شکایات کےاَزالے کےلئےفالواَپ کو یقینی بنایاجائے،بدسلوکی ،بد ...
شہریوں کی شکایات کےاَزالے کےلئےفالواَپ کو یقینی بنایاجائے،بدسلوکی ،بد کلامی اور غیر قانونی حراست برداشت نہیں کی جائے گی:آئی جی پنجاب

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیر نے کہا ہے کہ پولیس کے انٹرنل اکاؤنٹیبیلٹی سسٹم کو بہتر سے بہتر بنا نا میری ترجیحات میں سر فہرست ہے کیونکہ شہریوں کی شکایتوں کے حل میں دلچسپی نہ لینے اورپیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے افسران واہلکار کسی صورت میری ٹیم کا حصہ نہیں رہیں گے،لہذااِن کا بروقت احتساب فورس کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے ایڈیشنل آئی جی آئی اے بی کو ہدایت کی کہ جو ڈی ایس پیز شہریوں کی شکایات کے اَزالے میں دلچسپی نہیں لے رہے اُنہیں وارننگ لیٹرز جاری کئے جائیں جبکہ وارننگ لیٹر ملنے کے باوجود کارکردگی بہتر نہ بنانے والوں کو فیلڈ پوسٹنگ پر رہنے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ8787کمپلینٹ سنٹر میں موصول ہونے والی ہر کال پر سائلین سے خوش اخلاقی سے پیش آتے ہوئے اِنہیں درپیش مسائل کے حل کیلئے بھرپور محنت اور خلوص نیت سے کوششیں کی جائیں جبکہ مقدمات کے اندراج میں تاخیر کے ذمہ دار افسران و اہلکاروں کے خلاف کاروائی میں زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی جائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ 8787کمپلینٹ سنٹر میں بذریعہ کال، ایس ایم ایس، ای میل اور ڈاک موصول ہونے والی تمام درخواستوں کے فالو اپ کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کی درخواستوں کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ عوام کے مسائل اور پریشانیوں کا حل ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئیے کیونکہ بہترین پبلک سروس ڈلیوری سے ہی پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوسکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس میں انٹرنل اکاؤنٹیبلیٹی بیورو(آئی اے بی)کے محکمانہ امور سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ایڈیشنل آئی جی اظہر حمید کھوکھر نے آئی جی پنجاب کو انٹرنل اکاؤنٹیبلیٹی بیورو (آئی اے بی)کی کارکردگی اور ورکنگ بارے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سال رواں میں انٹرنل اکاؤنٹیبلیٹی بیورونے مجموعی طور پر1097انکوائریز کیں جن میں سے 855مکمل جبکہ242زیر سماعت ہیں ان انکوائریز کے بعد 166افسران و اہلکاروں کوسزائیں دینے کیلئے متعلقہ فیلڈ افسران کو سفارشات بھجوائیں گئیں۔ انہوں نے مزیدبتایا کہ انٹرنل اکاؤنٹیبلیٹی بیوروکی ٹیموں نے 862پولیس دفاتر، تھانوں، خدمت مراکز، ماڈل پولیس اسٹیشنز سمیت دیگر دفاتر کی انسپکشن کی جبکہ ایس پی کمپلینٹس نے شہریوں کی درخواستوں پر بروقت کاروائی کرتے ہوئے 5106ایف آئی آرز درج کروائیں گئیں۔ آئی جی پی کمپلینٹ سنٹر 8787کی کارکردگی کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سال رواں کے گیارہ ماہ میں 8787 کمپلینٹ سنٹر پرشہریوں نے بذریعہ کال، ایس ایم ایس، ڈاک، کھلی کچہریوں سمیت دیگر ذرائع سے مجموعی طور پر 95493 شکایات درج کروائیں جن پر 8787سٹاف نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے 89267شکایات کوفوری حل کر لیا جبکہ عوامی شکایات پر فوری اور بروقت ایکشن لیتے ہوئے 11529مقدمات کے اندراج کوبھی یقینی بنایا گیا،شہریوں کی باقی رہ جانے والی 6226شکایات پر بھی قانون کے مطابق کاروائی کی جا رہی ہے۔

آئی جی پنجاب نے ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ فورس کی پرفارمنس میں بہتری کیلئے ہر سطح پر جزاو سزا کے عمل کو فروغ دیا جائے اور غیر ذمہ داری کا مظاہر ہ کرنے والوں کے محاسبے کے ساتھ ساتھ بہترین کارکردگی دکھانے والوں کی بھرپور حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔انہوں نے تاکید کی کہ شہریوں سے بدسلوکی یا بد کلامی اور غیر قانونی حراست کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسا کرنے والے افسران خود کو کڑے احتساب کیلئے تیار رکھیں۔اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی آئی اے بی اظہر حمید کھوکھرڈی آئی جی آئی اے بی عمران محمود اور اے آئی جی کمپلینٹس عبادت نثار سمیت دیگر افسران موجود تھے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور