نئی فلمی پالیسی پرشوبز حلقوں میں بحث کا آغاز ہوگیا

  نئی فلمی پالیسی پرشوبز حلقوں میں بحث کا آغاز ہوگیا

  

لاہور(فلم رپورٹر)شوبز حلقوں میں حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی نئی فلمی پالیسی کو لے کر بحث کا آغاز ہوگیا ہے یہ پالیسی کیا اور کیسی ہوگی اس بارے میں کوئی بھی حتمی رائے قائم کرنے میں قاصر ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے فلم پالیسی تیار کرلی ہے، تاہم اس پر مزید غور و فکر کیا جا رہا ہے اور کوشش ہے کہ اسے آئندہ سال مارچ تک اسے نافذ کردیا جائے۔وزیر اعظم نے رواں برس ستمبر میں فلم انڈسٹری کی بحالی کے لئے نئے اقدامات اٹھانے کی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ اداروں اور حکام کو جلد پالیسی بنانے کی ہدایات کی تھیں۔نئی پالیسی کے تحت فلم اور سنیما انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کو مراعات دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور ساتھ ہی معیاری فلمیں بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تھا۔اس حوالے سے وزیر اطلاعات  شبلی فرازنے بتایا تھا کہ وزیر اعظم کی ہدایات کے بعد فلم پالیسی تیار کی جا چکی ہے، جس پر مزید غور و فکر جاری ہے اور کوشش کرکے اسے مارچ 2021 تک نافذ کردیا جائے گا۔شبلی فراز نے یہ بتایا  تھاکہ چوں کہ پالیسی ہر روز نہیں بنائی جاتی، اس لئے تیار کی گئی پالیسی کو مزید بہتر کرنے کا کام جاری ہے۔فلم پالیسی کے بارے میں شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات سینئر اداکار قوی خان، مسعود اختر، جاوید شیخ،سید نور،جاوید شیخ،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،مدیحہ شاہ،صائمہ نور،میگھا،آغا قیصر عباس،عتیق الرحمن،اشعر اصغر،آغا عباس،صائمہ نور،خالد معین بٹ،مجاہد عباس،ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک،،صومیہ خان،حمیرا چنا  نعمان اعجازنے کہا کہ پاکستان میں فلم انڈسٹری کو صنعت کا درجہ 28 سال قبل 1992 میں ہی دیا گیا تھا مگر افسوس اس پر عمل نہیں ہوسکا اور فلمی صنعت کو اہمیت نہیں دی گئی۔موجودہ حکومت وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے عین مطابق فلم سازوں اور سینما مالکان کی مالی معاونت سے متعلق بھی اقدامات اٹھائے گی۔

، تاہم ہر کام حکومت نہیں کر سکتی، اس ضمن میں انڈسٹری کے لوگوں کو خود بھی آگے آنا پڑے گا۔شوبز شخصیات نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حکومت فلم اور سینما انڈسٹری کے لوگوں کو ٹیکس سے مکمل استثنیٰ نہیں دے سکتی، البتہ انہیں ریلیف فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کو ملک میں فلم انڈسٹری کے بگاڑ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے شوبز شخصیات کاکہنا ہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق اور صوبوں میں الگ الگ سنسر بورڈز قائم کئے گئے تھے، جن سے مسائل پیدا ہوئے، تاہم اب انہیں یکجا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔تاہم سنسر شپ کے حوالے سے ایک باضابطہ طریقہ موجود ہونا چاہیے، کسی ایک شخص کی ذاتی پسند یا ناپسند پر سنسرشپ کے فیصلے نہ ہوں۔شوبز شخصیات نے فلموں کو تخلیقی عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلموں کے ذریعے مقامی ہیروز کو بھی سامنے لایا جانا چاہیے۔

مزید :

کلچر -