حکومت کی نااہلی کی وجہ سے صرف ایک ماہ میں پاکستانیوں کو 5 ارب کا ٹیکہ لگ گیا

حکومت کی نااہلی کی وجہ سے صرف ایک ماہ میں پاکستانیوں کو 5 ارب کا ٹیکہ لگ گیا
حکومت کی نااہلی کی وجہ سے صرف ایک ماہ میں پاکستانیوں کو 5 ارب کا ٹیکہ لگ گیا

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ نے انکشاف کیا ہے کہ   وزارت پٹرولیم اور پاور  کے غلط اور تاخیر سے فیصلوں سے 122 ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہےاور وزیراعظم کے معاون خصوصی  ندیم بابر غلط بیانی سے کام لیتے آرہے ہیں، بار بار کہہ چکے تھے کہ سردیو ں میں گیس کی شدید کمی ہوگی لیکن وقت پر ایل این جی کے ٹیںڈر نہیں کیے گئے، ٹینڈر  ز میں تاخیر کی وجہ سے اربوں روپے کا نقصان کیاگیا، اگر بروقت ٹینڈر ہوتے  تو پاکستان 5ارب روپے سےزائد صرف ایک مہینے میں بچالیتا اور نقصان سےبچ جاتا  مگر غلطی صرف اس ایک مہینے پر نہیں رک جاتی۔

جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہزیب خانزادہ نے بتایا کہ "  ندیم بابر ایک بار پھر غلط بیانی کررہےہیں، کیوں کہ ثبوت بتارہے ہیں کہ پاکستان نے اکتوبر میں جا کر نومبر کے ٹینڈر کھولے۔ اورریٹ ملا اوسط 14فی صد یعنی 6 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یوسےاوپر۔ بھارت نے صرف تین ہفتے پہلے نومبر کےلیے ٹینڈر کیے اور 4.9ڈالر پر ایل این جی خرید لی۔ یعنی صرف تین ہفتے دیر کرنےکی وجہ سے نومبر کےمہینے میں بھارت کے مقابلے میں 12ملین ڈالرز زیادہ یعنی 2ارب روپے پاکستان نے زیادہ ادا کیے۔ یعنی بھارت صرف نومبر کے تین کارگوز پر 2ارب ڈالرز بچالئے، بھارت کی معیشت کورونا سے بری طرح متاثر تھی، کیسز بڑھ رہے تھے۔ معیشت 22فی صد منفی ترقی کررہی تھی۔ پاکستان میں کورونا کنٹرول میں تھا۔ معیشت کھل چکی تھی، انڈسٹری اور برآمدات کے بہتر نمبر آرہے تھے۔ پتہ تھا کہ سردیوں میں شدید کمی ہوگی پھر بھی۔ وزیراعظم ، ندیم بابر سے پوچھیں کہ اتنی دیر کیوں کی گئی۔ہمیں تو بھارت سے بھی دو سے تین مہینے پہلے ٹینڈرز کرلینے چاہیے تھے۔ اوراگر وہ کیے جاتے تو پاکستان 5ارب روپے سےزائد صرف ایک مہینے میں بچالیتا اور نقصان سےبچ جاتا۔ مگر غلطی صرف اس ایک مہینے پر نہیں رک جاتی۔

پاکستان نے یہ پتہ ہونے کے باوجود کہ سردیوں میں شدید کمی ہوگی۔ دسمبر کے لیے ٹینڈرز نومبر میں جاکر کئے اور چھ کارگوپر ساڑھے 16فی صد تک کی اور اوسط بڈزملیں، یعنی 7.1 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو گیس ملی۔ یعنی دیر کرنے کی وجہ سے 50ملین ڈالرز یا 8.3ارب روپے کا نقصان صرف ایک مہینے میں یعنی دسمبر میں کیا گیا۔

پروگرام کے میزبان نے بتایا کہ وزیراعظم چار سوال ندیم بابر صاحب سے پوچھیں۔ پہلا یہ کہ دسمبر میں 6کارگو منگوانے کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمینل بالکل خالی پڑا تھا۔ چھ کے چھ کارگو منگوانے کی گنجائش موجود تھی تو پھر کیوں کوئی بھی ایل این جی کارگو کا انتظام پہلے نہیں کیا گیا تھا۔دوسرا سوال یہ پوچھیں کہ جب خود وزیراعظم کو ان وزراء نے بتادیا تھا کہ سردیوں میں شدید گیس کی کمی ہوگی اوریہ بھی خود وزرا کہتے ہیں کہ سردیوں میں قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، تو نومبر میں جاکر دسمبر کےلئے ٹینڈرزکیوں کیے۔تیسرا سوال وزیراعظم ندیم بابر صاحب یہ پوچھیں کہ جب اکتوبر میں نظر آگیا تھا کہ قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور بھارت کی معیشت تباہ حالی کا شکار تھی اور کورونا پھیل رہاتھا اس کے باوجود کیوں بھارت نے نومبر کے لیے گیس پاکستان سے تین ہفتے پہلے آرڈر کرکے اربوں روپے بچالیے اور وزرات پیٹرولیم نےگنوادیئے۔چوتھا سوال وزیراعظم ندیم بابر صاحب سے پوچھیں کہ ایسا نہیں تھاکہ نومبر کے لیے اکتوبر میں دیر سے ٹینڈر کرنے والی غلطی پہلی غلطی تھی، جو دسمبرمیں دہرادی گئی۔

بلکہ یہ غلطی تو وہ اگست اورستمبر میں کرچکے تھے اور اربوں روپے کانقصان کرچکے تھے۔ تو اس سے سبق کیوں نہیں سیکھا گیا پروگرام میں بتایا گیا کہ پاکستان نے جولائی میں ستمبر کے لیے ٹینڈرکیا اور 5.73فی صد کاپاکستان کی تاریخ کی سب سے کم ایل این جی خریدنے میں کامیاب ہوا اور اگر اسی وقت اگست کے لیے دوسرا ٹینڈر کرلیتے تو 7.8فی صد پر بڈآئی تھی مگر نہیں لیا اور پھر اگست میں جاکر اچانک اگست کے لیے ٹینڈرکیا جو 9.3فیصدپر ملا۔ یعنی جولائی میں اگست کے لیے کیے گئے ٹینڈر سے 5ملین ڈالرزیا 80کروڑ روپے زیادہ ۔پھر ندیم بابر صاحب کہہ رہے ہیں کہ وقت سے پہلے ایل این جی کا ٹینڈر کرکے سستی ایل این جی خریدنے کی بات Stupidity ہے۔ حالاں کہ اس ٹینڈر کے آخر میں پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے لکھا کہ Urgently گیس کی ڈیمانڈ کا بتایا گیا تھا۔

اس کی ذمے داری پاکستان ایل این جی لمیٹڈ پر عائد نہیں کی جاسکتی۔ خود پاکستان ایل این جی بھی تاخیر سے فیصلے کی ذمے داری حکومت پر ڈال رہی تھی۔اگر اس غلطی سے بھی سبق سیکھ لیتے تو پاکستان کے اربوں روپے بچ جاتے مگر وزیراعظم ان سے پوچھیں کہ یہی غلطی کیوں ستمبر میں دہرائی ۔پاکستان نے اگست میں ستمبر کے لیے ٹینڈرز کیے توبڈز میں 6.95فی صد اور 7.96 فی صد۔ اس سے اگلی بڈ تھی 8.43 فی صد۔ مگر صرف دو کارگو آرڈر کیے، مگر پھر ستمبر میں جاکر اچانک ستمبر کے لیے ٹینڈرکیا تو ایل این جی خریدی 10.88فی صد پر، یعنی پھر 5ملین ڈالرز یا 80کروڑ روپے زیادہ،پھر وہی اگست والی غلطی ۔ پھر پاکستان ایل این جی نے آخرمیں لکھا کہ ہمیں بالکل ارجنٹ ڈیمانڈ بتائی گئی اور اس کی ذمے داری پاکستان ایل این جی پر نہیں ڈالی جاسکتی"۔

ان کا مزید کہنا تھاکہ وزیراعظم ندیم بابر صاحب سے پوچھیں کہ اگست میں پھر ستمبر میں اور اکتوبر، نومبر ، دسمبرمیں یہاں تک کے جنوری ، فروری تک کے کارگو کے لیے کیوں بار بار اربو ں روپے ضائع کیے گئے اور غلطیوں سے نہیں سیکھا گیا۔ ابھی ندیم بابر صاحب کہہ رہے ہیں کہ جلدی ایل این جی سستے داموں نہیں خریدی جاسکتی مگر جب پروگرام نے اگست اور ستمبر کی غلطی کی نشاندہی کی، تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ پہلے سستی ایل این جی نہیں خرید سکتے تھے بلکہ ذمے داری کے الیکٹرک پر ڈال دی۔ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ جس کی ذمے داری ہے ملک میں ایل این جی لایا۔ وہ بار بار وزارت پیٹرولیم کولکھ کر کہتی رہی کہ بہتر قیمت پر ایل این جی لینے کے لیے وقت پر ڈیمانڈ کا بتاکر جلدی ٹینڈر کرنے کا کہہ دیا کریں۔امید کرتے ہیں کہ وزیراعظم خود اس کی تحقیقات کرائیں کہ کیوں اس سب کے باوجود ملک کا 122ارب روپے کا نقصان کیا گیا"۔

شاہزیب خانزادہ کا کہناتھاکہ بالکل آخری وقت میں ٹینڈرز کیے گئے اور 7ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو گیس تک خریدی جارہی ہے۔ بجائے اس کہ ساڑھے 4 ڈالرز تک لے لی جاتی۔ محض تین ماہ میں 35سے 40ارب روپے کا اضافی نقصان۔ اور وہ بھی پہلی دفعہ غلطی کی وجہ سے نہیں، بلکہ جو غلطیاں 2018 میں کیں۔ اور یہ وعدہ کیا کہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔مگر پھر وہی غلطی دہرائی گئی۔

مزید :

بزنس -