محسنِ انسانیت ﷺکا ازواج مطہرات(رضی اللہ تعالی عنھن)کیساتھ حُسن سلوک۔۔۔!!!

محسنِ انسانیت ﷺکا ازواج مطہرات(رضی اللہ تعالی عنھن)کیساتھ حُسن سلوک۔۔۔!!!
محسنِ انسانیت ﷺکا ازواج مطہرات(رضی اللہ تعالی عنھن)کیساتھ حُسن سلوک۔۔۔!!!

  

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”ایمان کے لحاظ سے مومنوں میں سے اکمل وہ ہیں جو اُن میں سے اخلاق کے اعتبار سے بہت عمدہ ہیں اور تم میں سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہیں۔“ (ترمذی)

حضور نبی کریم ﷺ کی بیرونی اور خانگی زندگی کو محفوظ کر کے خوش اسلوبی کیساتھ امت محمدیہ ﷺ تک کماحقہُ پہنچانے والی دو عظیم جماعتیں جن میں حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور امھات المؤمنین ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنھن ہیں،جنہوں نے من وعن حضور نبی کریم ﷺ کے حالات و معمولات ،واقعات و معاملاتِ خلوت وجلوت اُمت کے سامنے پیش فرما دیئےتاکہ اُمت کیلئے اُسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہونا آسان ہو جائے۔

آپ ﷺ ازواج مطہراتؓ کے حقوق میں مساوات وعدل کو ہمیشہ ملحوظ رکھتے تھے، آپ ﷺ کے ازواجی تعلقات حسنِ معاشرت اور اخلاق کا اعلٰی نمونہ تھے۔ آپﷺ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے زانو سے ٹیک بھی لگا لیتے تھے،اسی حالت میں قرآن کی تلاوت بھی فرماتے،کبھی ایسا بھی ہوتا کہ وہ ایام سے ہوتیں مگر آپ ﷺ ان کی طرف التفات فرماتے۔ یہ سب آپ ﷺ کے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن کے ساتھ حسن اخلاق اور لطف وکرم کا نتیجہ تھا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”ایمان کے لحاظ سے مومنوں میں سے اکمل وہ ہیں جو اُن میں سے اخلاق کے اعتبار سے بہت عمدہ ہیں اور تم میں سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہیں۔“ (ترمذی 627  ، ابن حبان 1311، ابوداؤد 4682)

جب آپ ﷺ مدینہ طیبہ میں ہوتے تو روزانہ عصر کے بعد تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالی عنھن کے پاس تشریف لے جاتے اور ہر ایک کی ضرورت معلوم کر کے اس کی تکمیل فرماتے،جب سفر پر روانہ ہوتے تو ازواج مطھرات رضی اللہ تعالی عنھن کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے، جس کا نام نکل آتا اسے ساتھ لے جاتے، یہ بھی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنھن کی تالیفِ قلب کے لیے تھا۔

ایک مرتبہ آپ ﷺ باہر سے تشریف لائے، گھر کے صحن میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کو دیکھا کہ پیالہ سے پانی پی رہی ہیں، وہیں سے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے حمیرا(رضی اللہ عنھا)تھوڑا پانی میرے لیے بھی بچانا۔ غور فرمائیں! بیوی(رضی اللہ عنھا) اُمتی ہیں، شوہر نبیﷺ ہیں، برکتیں نبی ﷺکی ذات کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں مگر سبحان اﷲ! آپ ﷺ اپنی رفیقۂ حیات(رضی اللہ عنھا) کے بچے ہوئے پانی کو پینا چاہتے ہیں۔ جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے کچھ پانی بچا کر خدمت اقدس ﷺ میں پیش کیا تو نوش فرمانے سے پہلے معلوم کیا: اے حمیرا رضی اللہ عنھا ! تم نے اس پیالہ کے کس حصے سے لب لگا کر پانی پیا؟ تاکہ میں بھی اس جگہ سے پانی پیوں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں پانی پیتی، یا ہڈی چوستی، پھر میں آپ ﷺ کو دیتی تو آپ ﷺ اسی مقام سے نوش فرماتے اور ہڈی سے گوشت نکال کر کھاتے جہاں سے میں پیتی یا کھاتی۔ (مسلم و نسائی )

ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا جس طرح ابی زرع ، ام زرع سے پیار و محبت کرتے ہیں اسی طرح میں بھی تم سے محبت کرتا ہوں۔‘‘ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ماں باپ آپﷺ پرقربان۔آپ ﷺمیری نگاہ میں ام زرع کیلئے ابوزرع سےزیادہ محبوب و عزیز ہیں(بخاری شریف)حضورنبی کریمﷺسیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کو’عائشہؓ ‘کی بجائے پیارسے’عائش‘کہہ کربلاتےاور فرماتے’اے عائشؓ! حضرت جبرئیل امین(علیہ السلام )تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔(نوٹ)! مذکورہ بالا حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر کو بیوی کے سامنے محبت اور وفاداری کا اظہار کرنا چاہئے اور اسے پیار بھرے لہجے سے پکارنا چاہئے۔

جب حضور نبی کریم ﷺ اس قدر محبت کا معاملہ فرماتے تو جواباً سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بھی اسی قدر محبت کا معاملہ کرتیں، خود فرماتی ہیں کہ جب حضور اکرم ﷺ عشاء کے بعد میری باری میں گھر تشریف لاتے تو میں کبھی فرطِ محبت میں یہ اشعار پڑھتی، مفہوم ’’ایک سورج تو ہمارا ہے اور ایک سورج آسمان کا ہے، میرا سورج آسمان کے سورج سے بہتر ہے، کیوں کہ آسمان کا سورج تو فجر کے بعد طلوع ہوتا ہے اور میرا سورج عشاء کے بعد طلوع ہوتا ہے اور اس کی روشنی عشاء کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔

ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا کہ : جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو دونوں حالتوں کا علم مجھے ہوجاتا ہے ، اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے عرض کیا کہ : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ کو کس طرح علم ہوجاتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا! کہ جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو محمد ﷺ کے رب کی قسم کے الفاظ سے قسم کھاتی ہو اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو (سیدنا ) ابراہیم (علیہ السلام) کے رب کی قسم کے الفاظ سے قسم کھاتی ہو ،اس وقت تم میرا نام نہیں لیتیں  بلکہ حضرت(سیدنا)ابراہیم( علیہ السلام )کا نام لیتی ہو ، اس پر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے عرض کی کہ یا رسول اللہﷺ  ! میں صرف آپ ﷺ کا نام چھوڑتی ہوں۔نام کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑتی(یعنی میں دل میں آپﷺ ہی کی محبت وعقیدت ہوتی ہے ، میری نگاہ میں آپ ﷺ کا ادب واحترام ویسے ہی ہوتا ہے)(بخاری شریف کتاب الأدب: 6078 , 5228،مسلم شریف 2439) 

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے  مروی ہے کہ میں ایک سفر میں حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھی تو پیدل دوڑ میں آپ ﷺ کے ساتھ میرا دوڑ میں مقابلہ ہوا تو حضور ﷺ سے آگے نکل گئی، اس کے بعد جب (موٹاپے ) سے میرا جسم بھاری ہوگیا تو (اس زمانے میں بھی ایک دفعہ )ہمارا دوڑ میں مقابلہ ہوا تو آپ ﷺ جیت گئے ، اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا : یہ تمہاری اس جیت کا جواب ہوگیا(ابوداوٴد:کتاب الجہاد، 2578)

بعض اوقات ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنھن اِدھر اُدھر کے قصے یا گزرے ہوئے واقعات بیان کرتیں تو آپ ﷺ برابر سماعت فرماتے رہتے اور خود بھی کبھی اپنے واقعات سناتے۔کھانے پینے میں ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنھن کو کوئی روک ٹوک نہیں تھی، جو دستیاب ہوتا اس میں سے جو چاہتیں کھاتیں اور جو چاہتیں پہنتیں،اس زمانے میں ہاتھی کے دانتوں کے زیورات کا رواج تھا آپ ﷺ اس قسم کے زیور پہننے کا حکم فرماتے۔ بیویوں کا پاک صاف رہنا پسند فرماتے،ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنھن پر لعن طعن نہ فرماتے اور نہ ہی ان سے سخت اور درشت لہجہ میں گفتگو فرماتے،اگر کوئی بات ناگوار خاطر ہوتی تو التفات میں کمی فرما دیتے۔ 

اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں آپ ﷺکے پاس حریرہ لائی جو میں نے آپ ﷺ کیلئے تیار کیا،میں نے ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ تعالی عنھا سے جو وہاں موجود تھیں کہا کہ تم بھی کھاؤ،اُنہوں نے کسی وجہ سے کھانے سے انکار کیا۔میں نے کہا یا تو کھاؤ ورنہ میں اسے تمہارے منہ پر مل دونگی،اُنہوں نے پھر بھی انکار کیا تو میں نے حریرہ سے ہاتھ بھر کر انکے منہ پر مل دیا۔حضور نبی کریم ﷺ دیکھ کر مسکرائےاور(ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھافرماتی  ہیں کہ )آپ ﷺ نے مجھےاپنےہاتھوں سےمجھےدبایا(تاکہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھامدافعت نہ کرسکیں)اور آپ ﷺ نےاُم المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ تعالی عنھاسےفرمایا تم بھی حریرہ(سیدہ )عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنھا) کے منہ پر لگاؤ،اُنہوں نے حریرہ میرے منہ پر لگایا، تو آپﷺ مسکرائے۔ یہ قصہ آپ ﷺ کا ازواج مطہرات سے حسن سلوک اور ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنھن کا آپس میں بے تکلف اور محبت کا واضح ثبوت ہے۔

 اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے  روایت ہے بیان کرتی ہیں کہ خدا کی قسم ! میں نے یہ منظر دیکھا ہے کہ(ایک روز )حبشی نابالغ لڑکے مسجد میں نیزہ بازی کر رہے تھے،حضور نبی کریم ﷺ اُن کا کھیل مجھے دکھانے کے لیےمیرے لیےاپنی چادر کا پردہ کرکےمیرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوگئے(جو مسجد میں کھلتا تھا)میں آپﷺ کے کاندھے کےدرمیان سے اُن کا کھیل دیکھتی رہی ، آپ ﷺ میری وجہ سے مسلسل کھڑے رہے،یہاں تک کہ(میرا جی بھر گیا)اور میں خود ہی لوٹ آئی۔(مسلم شریف،892 ، بخاری شریف 5236,ترمذی شریف 3691)

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ جب بھی گھر کے اندر تشریف لاتے نہایت ہی خندۂِ پیشانی کیساتھ مسکراتے ہوئے داخل ہوتے۔( متفق علیہ )

حضور نبی کریم ﷺ نے بیویوں کو مارنے پیٹنے یا ان کو کسی بھی قسم کی تکلیف دینے سے سختی سے منع فرماتے،چنانچہ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو اس طرح نہ پیٹنے لگے جس طرح غلام کو پیٹا جاتا ہے اور پھر دوسرے دن جنسی میلان کی تکمیل کے لیے اس کے پاس پہنچ جائے(بخاری: کتاب النکاح, 2908)

ایک مرتبہ حضور نبیِ کریم ﷺ سے بیویوں کے حقوق کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جب تم کھاوٴ تو اس کو کھلاوٴ ، اور جب تم پہنو تو اس کو پہناوٴ ،نہ اس کے چہرے پر مارو اور نہ برا بھلا کہو اور نہ جدائی اختیار کرو ، (ابوداوٴد: کتاب النکاح، 2143)

حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی بیویوں کو مارنے پیٹنے والوں کو خراب (برے) لوگ قرار دیا چنانچہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا : اپنی بیویوں کو مارنے والے اچھے لوگ نہیں ہیں ،(ابن حبان :باب معاشرة الزوجین، حدیث 1489) اور خود حضور نبیِ کریم  ﷺ نے اپنی بیویوں(ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنھن) میں سے کسی پر کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا،(مسلم شریف 2348 )

حضور نبیِ کریم ﷺ ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن کی معاونت فرماتے ہوئے گھر میں آٹا گوندھ دیتے ،گھر کی دیگر ضروریات پوری فرما دیتے ،سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے حضور نبی کریم ﷺ کے گھر میں معمولات کے بارے میں پوچھا گیا ، تو انھوں نے بتایا کہ آپ ﷺ اپنی بکری کا دودھ دوہتے، اپنے کام خود کر لیتے حتی کہ اپنے کپڑے سی لیتے ،اپنے جوتے سی لیتے اور وہ تمام کام کرتے جو مرد اپنے گھر میں کرتے ہیں، آپ ﷺ اپنے گھر والوں ( رضی اللہ تعالی عنھن) کے کام میں معاونت فرماتے،حتی کہ جب نماز کا وقت ہوتا تھا تو آپ ﷺ چھوڑ کر چلے جاتے۔(ترمذی شریف 2489)۔ 

ایک صحابیؓ نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے دریافت فرمایا کہ آپ ﷺ جب گھر پر تشریف فرما ہوتے تو ان کی کیا مصروفیت ہوتی تھیں؟ تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے بیان فرمایا کہ آپﷺ اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنھن کے کاموں میں شریک ہوتے تھے ( بخاری شریف)۔ایک روایت میں آتا ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ حضور نبی کریمﷺ جب گھر تشریف فرما ہوتے تو اپنا کام خود انجام دیتے ، اپنا کپڑے سیتے ، بکریوں کا دودھ دوہتے اوراسی طرح دوسرے کام بھی انجام دیتے تھے (مسند احمد)

ایک مرتبہ سفر کے دوران ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنھا کا اونٹ بیمار پڑ گیا تو آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا کہ تمہارے پاس دو اونٹ ھیں ، ایک اونٹ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنھا کو دے دو ۔ اس پر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے پلٹ کر عرض کیا کہ بھلا میں یہودی کی بچی کو اونٹ دیتی ھوں !!! اللہ کے رسولﷺ نے اس بات کو بہت محسوس فرمایا اور آپ ﷺ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے ناراض ھو گئے اور تأدیب کے لئے ان سے کلام کرنا چھوڑ دیا ، یہ بات سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کو بہت گراں گزری ۔۔ انہوں نے سب سے پہلے تو اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنھا سے معافی مانگ کر انہیں راضی کیا ،پھر انہیں کہا کہ اگر وہ حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ ان کا راضی نامہ(صلح ) کرا دیں تو وہ اپنی اگلی باری سیدہ صفیہ رضی اللہ عنھا کو دے دیں گی ،اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنھا نے حضور نبی کریم ﷺ سے بات چلائی کہ(سیدہ)عائشہؓ (صدیقہ) نے مجھ سے معافی مانگ لی ھے اور آپ ﷺ بھی اس سے راضی ھو جائیں ۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا اس سفارش کی کوئی شرط بھی طے ہوئی ہے ؟اُم المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنھا نے عرض کیا کہ جی انہوں نے اگلی باری مجھے دے دی ،، آپﷺ مسکرا دیئے اور یوں صلح ھو گئی۔۔۔ اور بعض کتب میں وارد ہوتا ہےکہ اُم المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہو گیا، اُم المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ضرورت سے زیادہ اونٹ تھے آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ایک اونٹ (سیدہ) صفیہ رضی اللہ عنہا کو دیدو؛ انہوں نے عرض کہا: کیا میں اس یہودیہ کواپنا اونٹ دے دوں؟ اس پر حضور نبی کریم ﷺ ان سے اس قدر ناراض ہوئے کہ دومہینے تک ان کے پاس نہ گئے (الاصابہ) صلی اللہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ وازواجہ و بناتہ وبارک وسلم 

ایک مرتبہ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان کی قدوقامت کی نسبت چند جملے کہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے یہ ایسی بات کہی ہے کہ اگرسمندر میں چھوڑدی جائے تواس میں مل جائے (ابوداؤد شریف :2/193) یعنی سمندر کوبھی گدلا کرسکتی ہے۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ھیں کہ ایک دن اللہ کے رسول ﷺ جوتا گانٹھ رھے تھے اور میں چرخہ کات رھی تھی اس دوران میری نظر جو حضور نبی کریم ﷺ کی طرف اٹھی تو کیا دیکھتی ھوں کہ پسینے کے قطرے آپ ﷺ کے چہرہ انور پہ جگمگا رھے ھیں ،ہر قطرے میں ایک نور کا تارا سا بنتا جو پھیلتا چلا جاتا ،میں اس منظر پہ مبہوت ھو کر رہ گئی اور نظر جما کر مسلسل دیکھتی رہی تھی کہ اچانک حضور نبی کریم ﷺ کی نظر مجھ پر پڑی اور میری کیفیت دیکھ کر آپ ﷺ بھی چونک گئے ،، پوچھا عائشہ رضی اللہ عنھا یوں کیا گھورے چلی جا رھی ھو ؟میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ ﷺپر قربان !آپﷺ کا چہرہ تاروں کا مسکن بنا ھوا ھے، اک نور آ رھا ھے ، اک جا رھا ھے ،لگتا ھے بجلیاں کوند رھی ھیں ،بخدا اگر ابو کبیر ھذلی آج آپ ﷺ کو دیکھ لیتا تو اسے معلوم ھو جاتا کہ اس کے اشعار کا صحیح مصداق تو آپ ﷺ ہی ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا ھذلی کے وہ اشعار کونسے ھیں؟ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے وہ اشعار پڑھ دیئے،جن کا ترجمہ ھے کہ !میں نے اس کے رخِ تاباں پہ نظر ڈالی تو اس کی شان درخشندگی ایسی تھی کہ گویا بدلی کا کوئی ٹکڑا ھے کہ جس میں بجلیاں کوند رھی ھیں !!

یہ سننا تھا کہ آپ ﷺ نے سارا سامان ایک طرف رکھ دیا اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی پیشانی کو چوم کر فرمایا " عائشؓ ، جو سرور مجھے تیرے کلام نے پہنچایا ھے ، اس قدر سرور تجھے میرے نظارے سے حاصل نہیں ھوا ھو گا۔۔۔ ( سبحان اللہ!بیشک آپ(ﷺ)اخلاق کے اعلٰی پیمانے اور مرتبے پر فائز ہیں)

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ آپﷺ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنھا کے گھر میں بیمار ہو گئے تو آپﷺ نے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنھن سے اس کی اجازت چاہی کہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے گھر میں میری تیمار داری کی جائے۔اُن سب نے اجازت دے دی، (حدیث مبارکہ )

اس سے تین باتیں معلوم ہوئی نمبر ایک کہ آپ ﷺ ہمیشہ اپنی بیویوں (ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنھن) سے مساوات وعدل فرماتے،دوسری بات مردوں کیلئے نصیحت ہیکہ اگر شوہر دوسری بیوی کے گھر رہنا چاہے تو پہلی سے اجازت لے لے ،تیسری بات یہ کہ بیوی بھی ایسے امور میں اپنے خاوند کی رعایت کرے۔ اس سے ثابت ہوتا ہےکہ سیرت طیبہ ﷺ کی روشنی میں اگر خاوند اپنی بیوی کو پیار دے، اس کے ساتھ حسن سلوک اور دل جوئی کا معاملہ کرے تو ضرور وہ بھی محبت کا جواب محبت ہی سے دے گی، پہلے کوئی ابتداء تو کرے، اس لیے کہ عورت کی فطرت میں یہ بات ہےکہ اس کے ساتھ محبت اور نرمی کا معاملہ کیا جائے تو وہ جان تک قربان کر دیتی ہے۔۔۔

حضور نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ مسلم اُمّہ کےہرفرد کے لیے کامل و اکمل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ امت کو اپنے عمل سے بتایا کہ تمہیں اہل خانہ کے ساتھ اس طرح حسن سلوک سے پیش آنا ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں حضور نبی کریم ﷺ کے اُسوۂ حسنہ کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العلمین۔

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -