آغا سراج درانی کو سپریم کورٹ سے باہر نکلتے ہی نیب نے گرفتارکر لیا

آغا سراج درانی کو سپریم کورٹ سے باہر نکلتے ہی نیب نے گرفتارکر لیا
آغا سراج درانی کو سپریم کورٹ سے باہر نکلتے ہی نیب نے گرفتارکر لیا

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو نیب کی ٹیم نے سپریم کورٹ کی عمارت سے باہر نکلتے ہی گرفتار  کر لیا گیا ، آغا سراج درانی 4 گھنٹے تک سپریم کورٹ میں رہے جبکہ نیب ٹیم چار گھنٹے تک باہر انتظار کرتی رہی ۔

آج صبح عدالت میں ہونے والی کارروائی میں عدالت نے آغا سراج درانی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی ، عدالت نے ریمارکس دیے کہ آغا سراج درانی پہلے نیب کو سرنڈر کریں۔ عدالتی فیصلے کے بعد آغا سراج درانی 4 گھنٹے تک سپریم کورٹ میں رہے ، عدالت کا تحریری فیصلہ حاصل کرنے کے بعد آغا سراج درانی باہر آ گئے ۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق  آغا سراج درانی نے وکلاء گیٹ سے باہر نکلنے کی کوشش کی جس پر عدالتی عملے نے انہیں دروازہ استعمال کرنے کی اجازت نہ دی ۔ وہ جونہی مرکزی دروازے سے عدالت سے باہر نکلے تو باہر منتظر نیب ٹیم نے آغا سراج درانی کو گرفتار کیا اور روانہ ہو گئی۔

 واضح رہے کہ آج سپریم کورٹ میں آغا سراج درانی کی ضمانت سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی ، دوران سماعت جسٹس سجاد علی نے ریمارکس دیے کہ سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے گرفتاری کیوں نہیں دی؟ ،جب ہائیکورٹ نے ضمانت منسوخ کی تو آپ کو جیل میں ہونا چاہیے تھا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ کے حکم پر عمل کے بغیر سپریم کورٹ اس پر سماعت نہیں کرے گی۔

عدالت نے آغا سراج درانی کے وکیل کی ٹرائل کورٹ کے سامنے سرنڈر کرنے کی استدعا رد کرتے ہوئے نیب کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم دیا تھا ۔عدالت نے آغا سراج درانی کو احاطہ عدالت سے گرفتار نہ کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو خصوصی رعایت کیوں دیں؟ ۔ 

عدالت نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے میرٹس پر آغا سراج درانی کی ضمانت منسوخی کی ۔ سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -