ریحام خان کا  الیکشن لڑنے کا عندیہ ، کس جماعت کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے میں دلچسپی ہے؟ کھل کر بتا دیا 

 ریحام خان کا  الیکشن لڑنے کا عندیہ ، کس جماعت کی طرف سے انتخابات میں حصہ ...
 ریحام خان کا  الیکشن لڑنے کا عندیہ ، کس جماعت کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے میں دلچسپی ہے؟ کھل کر بتا دیا 

  

 لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ اور معروف اینکر پرسن  ریحام خان نے پاکستان پہنچنے کے چند دن بعد ہی  الیکشن لڑنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب پاکستان میں رہنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور عوام کے مسائل کو اجاگر کریں گی،جو بدترین مہنگائی اور خراب حکمرانی کا شکار ہیں،اختیارات دینے والی کسی فاتح پارٹی کی طرف سے پیشکش ہوئی تو الیکشن لڑنے میں دلچسپی لوں گی۔

لاہورپریس کلب کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریحام خان کا کہنا تھا کہ میں صرف پریس کلب کا وزٹ کرنے اور صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لئے لاہور آئی ہوں ،کیونکہ ساڑھے تین سال سے صحافت کے لئے بہت مشکل وقت رہا ہے، لاہور چونکہ حب ہے سیاست کا بھی اور صحافت کا بھی ،صحافت کی جو بھی اتھارٹیز ہیں وہ یہاں پر بیٹھتی ہیں ،آگے بھی بڑا مشکل وقت آئے گا لیکن آپ لوگوں نے گھبرانا نہیں ہے،ایف آئی آرز کٹیں گی ،ایف آئی اے پیچھے پڑے گی ،کورٹ کیسز ہوں گے ،گولیاں کھائیں گے ،میں صحافیوں کے ساتھ کھڑی ہوں کیونکہ پاکستان کو ہم نے بچانا ہے،اگر آج ہماری زبان بندیہ ہو جائے گی تو آپ کو پتا ہے کہ یہاں صحافی ہی ہے جو ایوان میں بل پڑھ کر جاتا ہے ،اراکین پارلیمنٹ تو بل بھی نہیں پڑھ کر جاتے ،انہیں تو پتا بھی نہیں ہوتا کہ سیالکوٹ میں کیا ہوا اور بہاولپور میں کیا ہوا ؟اگر ہمیں چپ کرا دیا گیا تو انہیں کون جگائے رکھے گا ؟۔

انہوں نے کہا کہ بار بار ہم سے سوال کیا جاتا ہے کہ نواز شریف کب واپس آئیں گے اور عمران خان کب جائیں گے ؟عام عوام کو اس سے غرض ہے کہ روپے کی قدر کب بہتر ہو گی ،روٹی کب سستی ہو گی ؟گیس مجھے ملے گی کہ نہیں ملے گی ؟ہمارے مسئلے یہ نہیں ہے کہ کون بنے گا وزیراعظم ؟وہ تو جو بھی وزیراعظم بنے گا آرڈر تو کہیں اور سے ہی آئے گا ،وزیراعظم اور وزیروں کا سوائے سیاسی بیان دینے کے علاوہ کوئی تعلق نہیں ۔

ریحام خان کاکہناتھاکہ پاکستان واپسی کےبعداب میں اپنےگاؤں میں اپنےعوام کےدرمیان  رہناچاہتی ہوں ،میرا یہ مسئلہ نہیں ہےکہ میں مستقل طور پر اسلام آباد میں رہوں ،میں سمجھتی ہوں کہ گراؤنڈ سے عوام کے جو مسائل ہیں پر توجہ دی جائے ،جہاں بھی کوئی عوامی مسئلہ درپیش ہوا ،آپ مجھے وہاں موجود پائیں گے اور ان کی نمائندگی کرتے ہوئے دیکھیں گے ،عوام کے جو نمائندے ہیں ،انہیں آگے سیاست میں لایا جائے گا ۔

ایک سوال کے جواب میں ریحام خان کا کہنا تھا کہ لاہور کے این اے 133 کے ضمنی انتخاب میں کون جیتے گا ؟یہ اتنا بڑا ایشو نہیں ہے ،ویسے یہ حلقہ مسلم لیگ ن کا ہے، ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ جیتنے والا کوئی بھی ہو ،کیا وہ عوام کی نمائندگی کر رہا ہے ؟اگر عوام کی نمائندگی ہو گی تو میرا خیال ہے کہ پرویز ملک نے بہت زیادہ کام کیا ہے اس حلقے میں اور ن لیگ کی یہ بڑی محفوظ سیٹ سمجھی جاتی ہے ،شائستہ بھابھی سے میرا ایک ذاتی بھی تعلق ہے ،وہ اس وقت سوگ کی کیفیت میں ہیں اور ان کے لئے یہ بڑا مشکل وقت ہے،انہیں ہمدردی کا ووٹ بھی ملے گا ۔ ریحام خان  سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے سوال گول کرگئیں اور کہا کہ سیاسی لیڈر سے فاصلہ رکھنا ضروری ہوتا ہے، لندن پلان کا پہلے کبھی حصہ رہی اور نہ ہی اب ہوں، نواز شریف واپس آئیں گے تو سیاست میں تبدیلی آئے گی، آج کی تاریخ تک مسلم لیگ ن فاتح پارٹی ہے اور اس کا ٹکٹ بھی فتح کانشان ہے۔ریحام خان نے کہا کہ ایک غلط ذاتی فیصلہ میں نے کیا اور ایک گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کیا،غلط فیصلے کے بارے میں مجھے چھ  ماہ میں ہی پتا چل گیا تھا، اسی طرح چوہدری سرور کو بھی چل گیا۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -