پیٹ پالنے کے 2 ہی طریقے ہو سکتے ہیں حلال کی مٹھائی یا حرام کی کمائی

 پیٹ پالنے کے 2 ہی طریقے ہو سکتے ہیں حلال کی مٹھائی یا حرام کی کمائی
 پیٹ پالنے کے 2 ہی طریقے ہو سکتے ہیں حلال کی مٹھائی یا حرام کی کمائی

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:68

معاشرے پر طنز کا انداز:

صدیق سالک کی مزاح نگاری کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ مختلف جہتوں میں ان کے ہاں طنز و مزاح کی آمیزش مختلف ہے۔مثلاً معاشرے کے مختلف رویوں ‘ برائیوںاور لوگوں کی اجتماعی عادات کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر ہمدردانہ ہے۔ وہ طنز کرتے ہیں لیکن نفرت نہیں‘ اس ضمن میں ان کا طنز مزاح کے پیچھے ہی رہتا ہے۔مثلاً:

 ”ہماری فضائی کمپنی سامان کی جانچ پڑتال پر بھی خاص توجہ دیتی ہے خاص طور پر ایسے سامان پر جس کے گم کرنے کا ارادہ ہو کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ بعض اوقات گم شدہ سامان میں سے میلے کپڑے‘ استعمال شدہ دوائیں اور دوسری بے کار چیزیں برآمد ہوتی ہےں اس سے ہمارے عملے کو اپنے گناہ بے لذت پر پشیمانی ہوتی ہے۔‘

یہاں وہ ادارے پر طنز تو کررہے ہیں لیکن ان کا رویہ بے رحم اور تلخ نہیں ہوتا وہ ایک سماجی برائی کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن مزاح کے پردے میں اسے مغضوب و معتوب نہیں کرتے وہ اپنے قلم سے اس خامی کی نشاندہی کرتے ہیں اس نشاندہی سے قاری کے ضمیر پر جو ہلکی سی چبھن ہوتی ہے وہ کسی واعظانہ اور ناصحانہ فہمائش سے بہت مؤثر ہوتی ہے۔

سفر ناموں میں صدیق سالک کا مزاح طنز کی تلخی پر حاوی ہو جاتا ہے بعض اوقات صدیق سالک مختصر سے جملے میں لوگوں اور قوموں کے مختلف رویوں کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ وہ تلخ حقائق سے چشم پوشی کریں اور یوں بھی نہیں کہ شخص مذکور یا قاری اس تلخی کو براہ راست محسوس کریں مثلاً پاکستان سے بے انتہا محبت کے باوجود وہ من حیث القوم ہماری خامیوں سے غافل نہیں‘ قانون شکنی ہماری قوم کا مزاج ہے سالک نے کس کمال سے ایک جملے میں اس قومی عادت کی تصویر دکھائی ہے گویا تصویر نہیں آئینہ دکھایا ہے لکھتے ہیں:

 ” ایمبیسی پہنچے تو واقعی بیس پچیس پاکستانی ایک ٹیڑھی میڑھی قطار میں کھڑے تھے“ 

 پاکستان میں یونیورسٹیوں میں آئے روز کی ہڑتال اور لندن کی آرٹ گیلری کے بارے میں دلچسپ فقرہ لکھا ہے:

”یہ یہاں کی سب سے بڑی آرٹ گیلری ہے اس وقت بند ہے (ہماری یونیورسٹیوں کی طرح) ورنہ عموماً یہاں جمگھٹا لگا رہتا ہے۔“

صدیق سالک مختصر سے جملوں میں کبھی اپنی کبھی دوسروں کی کمزوریوں یا معاشرتی ناہمواریوں پرلطیف طنز کرتے ہیں۔مثلاً:

1: ”مجھے ویسے بھی اپنی عصمت سے زیادہ اپنی شہرت کا خیال رہتا ہے۔ “

2:جب پہلی مرتبہ میں نے سکول میں سکندراعظم کا حال پڑھا تھا تو اسے ایک ”مسلمان سپہ سالار سمجھ کر اس کی بہت تعظیم کرنے لگا بعدازاں جب وہ غیر مسلم نکلا تو میں نے اسے نامور جرنیلوں کی فہرست سے نکال دیا کاش! وہ مسلمان ہوتا“

3:”ہمارے وقتوں میں دوسرے ملکوں کی تاریخ اپنی تاریخ سے زیادہ پڑھائی جاتی تھی (کیونکہ ہماری تاریخ ابھی لکھی نہیں گئی تھی)“

4:”رات کو میری نیند اسمبلی کے کورم کی طرح بار بار ٹوٹی“

5:”میزبانوں نے ہمیں خاموش رکھنے کے لیے مترجم ساتھ بٹھا دیا“

6:”مجھے اپنی عورتیں یاد آگئیں جو ان مغربی عورتوں کی نسبت اتنی پاک دامن اور باحیا ہوتی ہیں کہ کسی بری چیز کا نام زبان پر نہیں لاتیں حتیٰ کہ اپنے شوہر کو بھی نام سے نہیں پکارتیں“

اخلاقی اقدار پر طنز ایک مشکل امر ہے کیونکہ اس میں ایمان کا عمل دخل بھی ہوتا ہے سالک اس مرحلے سے باآسانی گزرے ہیں مثلاً:

”اس خوب صورت اور گول مٹول پیٹ کو پالنے کے 2ہی طریقے ہو سکتے ہیں حلال کی مٹھائی یا حرام کی کمائی“ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -