سندھ کی تہذیب کا جنم کہاں سے ہوا؟

سندھ کی تہذیب کا جنم کہاں سے ہوا؟
سندھ کی تہذیب کا جنم کہاں سے ہوا؟

  

مصنف: سرمور ٹیمر وھیلر

ترجمہ:زبیر رضوی

قسط:2

وادیٔ سندھ کا تمدّن(تقریباً 2500 سے 1700 قبل مسیح تک)

ارتقاءیافتہ شہری کے زندگی کے ابتدائی دور کا آغاز ہمالیہ کے نیچے کے خطے میں ہوا۔ اپنی اوّلین اور وسیع ترین جائے وقوع کی بناءپر اس تہذیب کا نام وادیٔ سندھ کا تمدّن پڑا۔1921ءکے بعد سرجان مارشل اور ان کے ساتھیوں نے جو آثار دریافت کیے ان سے ہندوستان کو ماقبل تاریخِ عہد کے تقریباً 2 ہزار زر یں سالوں کا اضافہ حاصل ہوگیا اور دنیا کو اس کی 3 قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک سب سے بڑی تہذیب کا علم ہوا۔ ہند اور پاکستان میں اب جو کھوج جاری ہے اس سے اس تہذیب کے بارے میں ہماری معلومات میں ٹھوس اضافہ ہورہا ہے۔ آئندہ صفحات میں نئی اور پرانی تحقیق کے نتائج کو ملا کر اور بہت زیادہ تخصیص کے بغیر اس موضوع کا ایک خاکہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔چنانچہ اس طرح جو ترمیم شدہ اور وسیع تر خاکہ سامنے آئے گا اس میں مسیح سے قبل کے 3سے لے کر2 ہزار برسوں کا عہد شامل ہوگا۔ مسیح سے قبل پہلے ہزار سالوں کی مدت کے متعلق بھی کچھ باتیں پیش کی جائیں گی۔

سندھ کی تہذیب کا جنم کہاں سے ہوا؟ اس کے متعلق 1965ءتک بہت کم نئی باتیں سامنے آئی ہیں۔ اگرچہ پرانی شہادتوں کو وقتاً فوقتاً پیٹ پاٹ کر نئی صورت دینے کی کوشش کی گئی ہے جو شہادتیں ملی ہیں ان کی عام نوعیت خاصی واضح ہے لیکن ان کی تفصیل کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مختصر لفظوں میں صورتحال کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔

قبل مسیح چوتھے اور تیسرے ہزار سالہ قرون میں ایران کی سطح مرتفع میں سیدھے اوپر اٹھتے ہوئے پہاڑ اور ان کے دونوں جانب نیچے پھیلتے ہوئے دجلہ فرات اور سندھ کے دریائی وادیوں والے میدانوں میں مختلف معاشرے کے لوگ آباد تھے۔ ان کی ٹیکنالوجی بنیادی طور پر متاخر حجری عہد کی تھی لیکن وہ دھیرے دھیرے پتھر‘ کانسے کے عہد Chaleo lithic کے انالیب ہند کی طرف ترقی کررہے تھے۔ ان لوگوں کے دیہات کا معاشرہ مویشی پالنے اور زراعت کرنے پر مبنی تھا اور اس وجہ سے یہ دیہات اس حد تک پائیداری حاصل کر چکے تھے کہ وہ(Tells) کی شکل اختیار کر لیں لیکن کسی حد تک خانہ بدوش زندگی کا بھی سلسلہ تھا جیسا کہ آج کل بھی اس طرح کے معاشرے میں رہنے والے لوگوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔

عام طور سے اس وسیع دیہی سماج کو میسوپوٹیمیا کے اوّلین شہری ارتقا کا آغاز تصور کیا جاتا ہے وہاں بابل کی پختہ تہذیب سے ٹھیک پہلے عبید تمدن کی ابتداءمشرق کی جانب سے آئے ہوئے‘ شاید (SUSA) کے راستے سے آئے ہوئے‘ اثرات میں تلاش کی گئی ہے اور اس کی مغربی توسیع کی توضیح ایک محفوظ مگر غیریقینی قیافے کے مطابق کسی طرح کے وسعت پذیر عمل اور اندرونی انضباط کے عنصر سے کی گئی جس نے جنوبی اور وسطی فارس کے قبائلی سماجوں کو اثرانداز کیا۔

سندھ اور میسو پوٹیمیا کی تہذیبوں میں جو بنیادی فرق ہے اسے دیکھتے ہوئے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ کسی نزدیکی ربط کے باعث تہذیبی اختلاط عمل میں آیا ہو‘ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ گنگا اور وسط ہند کے تمدنوں کے بارے میں ہماری معلومات اتنی کافی ہیں کہ اور زیادہ مشرق یا جنوب میں اس تہذیب کے آغاز کا امکان نظر نہیں آتا‘ چنانچہ ہم یہی نتیجہ اخذ کرپاتے ہیں کہ کم از کم اپنے مادی پہلوﺅں کے اعتبار سے سندھ کی تہذیب کا فوری آغاز بلوچ یا ایرانی سرحدی خطے سے ہوا۔ اس تہذیب کے نسبتاً مادی مگر اس قدر اہم پہلو ایک مختلف کہانی پیش کرتے ہیں۔( جاری ہے )

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -