اس کے بازو کسی انجن کی لوہے کی سلاخ کی طرح کام کرتے۔ بال بکھرے، آنکھیں باہر ابلی ہوئیں، چہرے سے پسینے کے ریلے بہتے ہوئے

اس کے بازو کسی انجن کی لوہے کی سلاخ کی طرح کام کرتے۔ بال بکھرے، آنکھیں باہر ...
اس کے بازو کسی انجن کی لوہے کی سلاخ کی طرح کام کرتے۔ بال بکھرے، آنکھیں باہر ابلی ہوئیں، چہرے سے پسینے کے ریلے بہتے ہوئے

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:94

یورگس کا دوست اوپر کی منزل پر کام کرتا تھا جہاں ڈھلائی کا کام ہوتا تھا۔ وہ سیاہ ریت ایک بیلچے سے ٹوکری میں ڈال کر مضبوطی سے بند کر دیتا اور پھر اس کے سخت ہونے کا نتظار کرتا۔ پھر اسے نکال کر اس میں پگھلا لوہا ملایا جاتا۔ اس آدمی کو فی سانچا پیسے ادا کیے جاتے تھے بلکہ صحیح کہیے تو بالکل درست ڈھلائی پر پیسے دئیے جاتے تھے۔ اس کی آدھی محنت تو یوں ہی ضائع ہوجاتی۔ وہ اور اس طرح کے دوسرے مزدور اس تن دہی سے کام کرتے جیسے انھیں کوئی جن چمٹ گیا ہو۔ اس کے بازو کسی انجن کی لوہے کی سلاخ کی طرح کام کرتے۔ بال بکھرے، آنکھیں باہر ابلی ہوئیں، چہرے سے پسینے کے ریلے بہتے ہوئے۔ وہ ٹھوک ٹھوک کر قالب ریت سے بھر لیتا تو اسے تیزی سے دبائی کرنے والے کے پاس لے جاتا۔ دن بھر وہ اسی طرح پاگلوں کی طرح کام کرتا۔ اس کی کوشش یہی رہتی کہ وہ 22 کی جگہ 23 ٹوکریاں بھر سکے اور آدھا سینٹ زیادہ کما لے۔ صنعت کا مالک شام کو تقریب میں فخر سے بتاتا کہ اس کے مزدور دوسرے مزدوروں سے دوگنا کام کرتے ہیں۔ اگر اس سورج کے نیچے ہم عظیم ترین قوم ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے مزدوروں کے کام کی رفتار آخری حد تک پہنچا دی ہے۔ ویسے تو ہم میں اور بھی عظیم خوبیاں ہیں جیسا کہ ہمارا مشروبات کا قومی بل جو سالانہ سوا ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے، وہ ہر10 سال میں دوگنا ہورہا ہے۔ 

یہاں مختلف مشینیں ہمہ وقت مصروف ِ کار رہتی تھیں۔ ان ڈھلے ہوئے آلات کو ٹرک پر لاد کر اس کمرے تک پہنچانا جہاں انھیں جوڑا جاتا تھا، یورگس کی ذمہ داری تھی۔اس کے لیے یہ بچوں کا کھیل تھا اور اسے یومیہ 1 ڈالر اور 75سینٹ ملتے تھے۔ہفتے کے روز وہ آنئیل کو رہائش کا کرایہ 75سینٹ فی ہفتہ کی شکل میں ادا کرتا۔ اس نے اپنا اوور کوٹ بھی رہن سے چھڑوا لیا جو الزبیٹا نے اس کے جیل کے دنوں میں رہن رکھوا دیا تھا۔ 

شکاگو کے وسط سرما میں اس کوٹ کا ہونا بہت بڑی نعمت تھی۔ یورگس کو کام پر آنے جانے کے لیے روزانہ پیدل یا سواری پر پانچ چھے میل طے کرنا ہوتے تھے۔ رات کو جب وہ تھکا ہارا سخت سردی میں کام سے چھٹی کرکے باہر آتا تو صبح کی طرح ہی ہر طرف اندھیرے اور سردی کا راج ہوتا۔ ایسے میں وہ دوسرے مزدوروں کے برعکس پیدل چلنے کو فوقیت دیتا۔ گاڑیوں والوں نے اجاردہ داری قائم کر کے گاڑیوں کی تعداد اتنی کم رکھی تھی کہ مزدور باہر پائےدان تک لٹکے ہوتے یا برف سے ڈھکی چھت پر لدے ہوتے۔ ایسی صورت میں دروازے بند کرنا ممکن نہیں ہوتا تھا چنانچہ گاڑی کے اندر بھی اتنی ہی ٹھنڈ ہوتی جتنی باہر ہوتی۔ کئی دوسرے مزدوروں کی طرح یورگس کا بھی خیال تھا کہ گاڑی کا کرایہ بچا کر1 گلاس شراب اور دوپہر کا کھانا جسمانی توانائی کے لیے زیادہ بہتر تھا۔

لیکن ڈرہم کھاد فیکٹری سے بچ نکلنے والے کے لیے یہ معمولی باتیں تھیں۔ یورگس کا حوصلہ ایک بار پھر بحال ہونے لگا اور مستقبل کے منصوبے بنانے لگا۔ اگر وہ مکان کھوچکا تھا تو کیا ہوا اس کے کندھوں سے ماہانہ قسط اور سود کا جوا بھی تو اتر گیا تھا۔ ماریا کی صحت ذرا بحال ہوجائے تو وہ دوبارہ پیسے بچانے کے لائق ہو سکتے تھے۔ جہاں وہ کام کرتا تھا وہاں اسی کی طرح ایک اور لیتھواینئین آدمی کام کرتا تھا جس کی محنت کی سب تعریف کرتے تھے۔ وہ دن بھر کام کرنے کے بعد رات کو ایک پبلک سکول میں انگریزی لکھنا پڑھنا بھی سیکھ رہا تھا۔ اس کے 8 بچے تھے جن کا گزارہ اس تنخواہ میں ہونا مشکل تھا چنانچہ وہ ہفتے اتوار کو چوکیداری بھی کرتا تھا۔ وہاں اس کا کام عمارت میں مخالف سمتوں میں لگے بٹنوں کو ہر 5 منٹ بعد دبانا ہوتا تھا۔ دونوں بٹنوں کے درمیان 2 منٹ کا فاصلہ تھا لہٰذا ہر پھیرے کے درمیان اسے پڑھنے کے لیے 3 منٹ مل جاتے تھے۔ یورگس کو اس سے حسد محسوس ہوا کیوں کہ دو تین سال پہلے تک وہ بھی اسی قسم کے خواب دیکھتا تھا۔ اگر اسے موقع ملتا تو وہ بھی یہ کام کرسکتا تھا۔ اگر ماریا کو اس کارخانے میں کام مل جائے جہاں گٹھے باندھنے کی سُتلیاں بنتی تھیں تو وہ اس علاقے میں منتقل ہوجاتے اس طرح یورگس کو موقع مل سکتا تھا۔ اس طرح کی امیدوں کے سہارے جینا آسان تھا۔ کوئی ایسی نوکری جہاں آپ سے انسانوں والا سلوک کیا جاتا ہو۔۔ اوہ خدایا ! وہ ثابت کر دیتا کہ وہ اس مہربانی کا حق دار ہے۔ وہ اس خوشگوار خواب پر خود ہی ہنس دیا۔

ایک سہ پہر جب وہ اپنا کوٹ لینے گیا تو اس نے ایک اعلان کے اشتہار کے گرد لوگوں کو کھڑے دیکھا۔ آگے بڑھ کر اس نے پوچھا کہ کیا اعلان لکھا ہوا ہے تو کسی نے بتایا کہ جس شعبے میں وہ کام کرتا ہے اسے تا اطلاع ثانی بند کر دیا گیا ہے۔( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -