روسو کند ذہن تھا ، اقدار پر سے اعتبار ختم ہوگیا تھا,اس نے تسلیم کر لیا کہ زندگی کا چلن ہی ناانصافی ہے

روسو کند ذہن تھا ، اقدار پر سے اعتبار ختم ہوگیا تھا,اس نے تسلیم کر لیا کہ ...
روسو کند ذہن تھا ، اقدار پر سے اعتبار ختم ہوگیا تھا,اس نے تسلیم کر لیا کہ زندگی کا چلن ہی ناانصافی ہے

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:51

روسو کا بھائی فانکوئیس، جو اس سے سات آٹھ سال بڑا تھا، ایک دن گھر سے ایسا بھاگا کہ پھر کبھی اس کی خبر نہ ملی۔ نہ تو گھر والوں نے اس کو ڈھونڈنے کی کوشش کی، نہ ہی اس نے دوبارہ رابطہ کیا۔ لگتا ہے کہ وہ روسو کے مشہور ہونے سے قبل ہی مر کھپ گیا ہوگا، ورنہ بھائی سے رابطہ تو کرتا۔

 اس وقت روسو نو دس برس کا تھا، جب اس کے شکاری والد کا ایک بار سوخ افسر سے قانونی جھگڑا ہوگیا۔ اندیشہ تھا کہ وہ ہار جائے گا۔ سو، وہ برن(Bern) کے علاقے میں واقع ایک جگہ نیون(Nyon) بھاگ گیا۔ جاتے ہوئے وہ روسو کی خالہ کو بھی ساتھ لیتا گیا، جس کے ساتھ اس نے وہاں جا کر شادی کر لی۔ اب روسو کی کہانی میں اس کے والد کا رابطہ اپنے بیٹے سے نہیں ہوگا… اب روسو کو اپنے چچا کے پاس رہنا ہے۔

 یہ1722ءکی بات ہے۔ اس وقت روسو 10 سال کا تھا، جب اس کے چچا نے اس کو سکول میں داخل کرا دیا۔ وہ کند ذہن تھا، اس لیے سکول اس کو کوئی تعلیم نہیں دے سکا، مگر وہ اس کی تربیت بھی نہیں کر سکا، بلکہ سکول میں ہونے والے ایک واقعے نے اس پر ہمیشہ کے لیے منفی اثرات مرتب کر دیئے۔ دراصل اسے ایک ایسے معاملے میں سزا دی گئی جس میں وہ غلطی پر نہیں تھا… روسو نے اس واقعے کو زندگی بھر نہیں بھلایا۔ اقدار پر سے اس کا اعتبار ختم ہوگیا اوراس نے تسلیم کر لیا کہ زندگی کا چلن ہی ناانصافی ہے۔

 طالب علمی کا زمانہ چند ماہ میں ختم ہوگیا… تو اب کیا کیا جائے؟ اس زمانے میں2 ہی باعزت پیشے تھے، پادری بننا یا پھر وکالت۔ اس کے چچا نے اس کو ایک وکیل کے دفتر میں بھیج دیا۔ مگر نہ تو وہ وکیل کو پسند آیا، نہ وکالت اسے اچھی لگی۔ اب اس کے لیے ایک نیا کام ڈھونڈا گیا اور وہ یہ تھا کہ اسے نقاشی کا کام سیکھنے کے لیے ایک نقاش کے پاس بھیج دیا گیا۔ نقاش ذرا ادرشت طبیعت کا مالک تھا، جس طرح کہ کاریگر استاد ہوتا ہے۔ وقت کی پابندی کے معاملے میں بھی ذرا سخت۔ اب بگڑا ہوا روسو مزید بگڑ گیا۔ اپنے آپ کو بچانے کے لیے جھوٹ بولنا، بہانے تراشنا اس کی عادت بن گئی۔ بلکہ یہاں وہ ایک اور بڑی علت کا بھی شکار ہوگیا۔ یہ چھوٹی موٹی چوری کی عادت تھی۔ اور پھر ایک دن اسے تمام مشقتوں سے نجات مل گئی… ہوا یوں کہ اتوار کی ایک شام وہ دوستوں کے ساتھ سیر و تفریح کرتے ہوئے شہر سے ذرا دور نکل گیا۔ واپس آیا تو دیر ہو چکی تھی اور شہر کے دروازے کرفیو کی وجہ سے بند تھے۔ یہ14مئی1728ءکی بات ہے۔ اس نے جنیوا سے کوئی چھ سات میل دور سوائے(Savoy) کا رخ کیا اور اب جو اسے پناہ ملی ہے تو سوائے کے رومن کیتھولک مرکز میں۔ یہ لوگ جنیوا کے پروٹسٹنٹ مذہبی پیشواﺅں سے سخت عداوت رکھتے تھے۔ اب انہیں ثواب کمانے کا ایک موقع میسر آگیا تھا۔ سو، انہوں نے پروٹسنٹ روسو کے عقیدے کی تبدیلی کے لیے تمام حربے استعمال کیے۔ اسے ٹھکانہ دیا، اعلیٰ شرابوں اور کھانوں سے اس کی تواضع کی اور پھر اپنے عقیدے کی سچائی کے لیے جوشیلے دلائل دئیے۔ روسو کو اور کیا چاہیے تھا۔ اس نے فوراً کیتھولک عقیدہ اختیار کرلیا۔ اس کے آبا ؤاجداد نے عقیدے کی سچائی کے لیے ترک وطن کیا تھا، مگر روسو نے زندگی کی آسودگی کے لیے عقیدہ بدل لیا۔ ممکن ہے نوجوان روسو کو اس وقت خود بھی علم نہ ہو کہ یہ واقعہ کتنا اہم ہے، مگر زندگی کے آخری دنوں میں اس نے کہا،”میں کیتھولک تو بن گیا تھا، مگر رہا ہمیشہ پروٹسٹنٹ مسیحی۔“

اب روسو کی زندگی کو ایک نئے دھارے پر چلنا تھا!

سوائے کے بشپ نے اپنا تعارفی خط دے کر نوجوان روسو کو مادام دے وارنز(De Warens) کے پاس بھیج دیا۔ وہ ایک سوئس خاتون تھی، جس کا کام کیتھولک دائرے میں داخل ہونے والے نوجوانوں کی ابتدائی تعلیم، تربیت اور دلجوئی تھا۔ یہ ملاقات1728ءہی میں ہوئی اور پھر یہ تعلق وقفے وقفے سے تمام عمر قائم رہا۔ تاہم شروع میں اس نے روسو کو اپنے پاس چند دن ہی رکھا اور پھر سوائے کے دارالحکومت تورین(Turin) کی مذہبی درس گاہ میں بھیج دیا(سوائے ان دنوں کے ان علاقہ جات پر مشتمل تھا جس میں آج کا اٹلی بھی شامل ہے)۔ اسی درس گاہ میں اس کو یہ سیکھنے کا موقع ملا کہ کس طرح مذہبی پیشوا مذہب کے نام پر سادہ عوام کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہیں پر اس نے ان لوگوں کی زندگی کے تاریک پہلوﺅں اور گمراہیوں کو قریب سے دیکھا۔ اس کے علاوہ اس کے ان لوگوں سے نظریاتی اختلاف بھی چھپے نہ رہ سکے۔ مثلاً یہ کہ وہ لوگ اس کی ماں کو پروٹسٹنٹ عقیدے پر مرنے کی وجہ سے بدعتی گردانتے ہوئے جہنمی کہتے تھے اور روسو یہ بات ماننے کے لیے ہر گز تیار نہ تھا۔ سو، اسے اس درس گاہ کو خیر باد کہنا پڑا۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -