عمران خان کی مشروط مذاکرات کی پیشکش کے بعد مسلم لیگ (ن) کا جواب آ گیا

عمران خان کی مشروط مذاکرات کی پیشکش کے بعد مسلم لیگ (ن) کا جواب آ گیا
عمران خان کی مشروط مذاکرات کی پیشکش کے بعد مسلم لیگ (ن) کا جواب آ گیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف  عمران خان کی جانب سے  وفاقی حکومت کو مشروط مذاکرات کی پیشکش کے بعد  مسلم لیگ (ن) نے  دو ٹوک انداز میں جواب دے دیا ہے کہ مذاکرات ہونے چاہیں، لیکن مشروط نہیں ، اور  مذاکرات عمران خان کی ضرورت ہے اس لیے اس کافیصلہ اتحادی حکومت کرے گی ۔

 تفصیلات کے مطابق  عمران خان کی مشروط مذاکرات کی  پیشکش پر وزیر اعظم  ہاؤس  لاہور میں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم رہنماؤں کا اجلاس منعقد ہوا ، جس  کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے  وفاقی وزیر اور سینئر سیاستدان خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ  مذاکرات سیاست کا حصہ لیکن بات کرنے کاسلیقہ ہوتا ہے، مشروط مذاکرات نہیں ہوتے، یہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں اور ہمیں کہتے ہیں کہ ہم الیکشن سے ڈرتے ہیں ، انہیں اجازت ہے توڑ دیں اسمبلیاں لیکن ہم اس غیر آئینی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے ، ہم نے آئینی اور قانونی طریقے سے پی ٹی آئی کی حکومت کا خاتمہ کیا۔

 خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ اگر عمران خان مذاکرات چاہتے ہیں تو پھر "پی ڈی ایم "کی مرضی سے ہوں گے، مذاکرات کی ضرورت ان کو ہے ہمیں نہیں، قومی مفاد میں ہم بات کر سکتے ہیں ، مذاکرات کیلئے ماحول بنانا پڑتا ہے، اگر عمران خان سنجیدہ بات چیت کریں گے تو سنجیدہ جواب دیا جائے گا، پی ٹی آئی کو میثاق معیشت کی پیشکش کی گئی تھی، عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے میثاق معیشت کا مذاق بنایا ۔

ہمارے کچھ ساتھی عمران خان سے مذاکرات کیلئے راضی نہیں ہیں، یہ باقاعدہ رابطہ کریں  پی ڈی ایم  کے سامنے معاملات رکھیں گے اس کے بعد فیصلہ ہو گا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -