15ویں عالمی اردو کانفرنس تحقیقی،تنقیدی ،ادبی سیشنز کے بعد آخری مراحل میں داخل

15ویں عالمی اردو کانفرنس تحقیقی،تنقیدی ،ادبی سیشنز کے بعد آخری مراحل میں ...
15ویں عالمی اردو کانفرنس تحقیقی،تنقیدی ،ادبی سیشنز کے بعد آخری مراحل میں داخل

  

 کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) شہر قائد میں جاری پندرویں  عالمی اُردوکانفرنس  تنقیدی ،تحقیقی  اور ادبی گفتگو کے بعد آخری مراحل میں داخل  ہو چکی ہے ، کانفرنس   میں دنیا بھر سے محققین اور  ادیبوں  کے ساتھ  اردو ادب سے  محبت کرنے والوں نے شرکت کی ۔

"روزنامہ جنگ "کے مطابق آرٹس کونسل کراچی میں جاری ادبی میلہ میں آج دن کا پہلا سیشن صبح 11بجے اردو تنقید معاصر منظر نامہ سے شروع ہوا، اردو غزل نئی تشکیلات، پاکستانی معیشت کے 75 سال اور عصری ایجنڈا، پختون اور سندھی زبان و ادب بھی سیشن کا حصہ بنے ، آج ادبی میلے میں 6 کتابوں کی رونمائی بھی کی جائے گی، پاکستانی صحافت کا جائزہ، "میں اور پاکستان "، انور مقصود کے ساتھ کی جانے والی گفتگو ادبی میلے کی رونقوں کو بڑھائے گی۔

صدر آرٹس کونسل آف پاکستان احمد شاہ نے کہا کہ اس شہر میں پورے برصغیر سے لوگ آکر آباد ہوئے، پاکستان کا ایک مقصد تھا ایک روشن خیال معاشرے میں مسلمان امن و سکون سے رہیں۔کلچر سے بڑا نہ ایٹم بم ہے اور نہ کوئی اسلحہ ہے۔ آئندہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول گوادر، لاہور، اسلام آباد، مظفرآباد پشاور اور گلگت بلتستان کے بعد امریکا، کینیڈا اور دیگر ملکوں میں بھی ہوں گے۔ 

برطانیہ سے آئی ڈاکٹر ایلکس بیلم نے کہا کہ مجھے عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کرنے پر فخر ہے، انہوں نے پاکستان کی علاقائی زبانوں کے نام گن گن کر بتائے اور کہا کہ پاکستان زبانوں کے معاملے میں بہت امیر ہے، زبان ہی ثقافت ہے اور آپ کی پہچان ہے، دنیا بھر میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں اور زبان ہی ابلاغ اور مکالمہ کا بہترین ذریعہ ہے۔

مزید :

قومی -ادب وثقافت -