میانمار کی فوجی عدالت نے 7 طلبہ کو سزائے موت سنادی

میانمار کی فوجی عدالت نے 7 طلبہ کو سزائے موت سنادی
میانمار کی فوجی عدالت نے 7 طلبہ کو سزائے موت سنادی
سورس: Pexels

  

ینگون (ڈیلی پاکستان آن لائن)  میانمار کی آمرانہ حکومت نے اس ہفتے کم از کم سات افراد کو  سزائے موت سنائی ہے۔  اقوام متحدہ کے مطابق سزائے موت پانے والوں کی تعداد 139 ہوگئی ہے۔ اقوام متحدہ نے میانمار کی آمریت  پر سزائے موت کو 'اپوزیشن کو کچلنے کے آلے' کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ فروری 2021 میں ایک فوجی بغاوت میں آنگ سان سوچی کی سویلین حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے میانمار افراتفری کا شکار ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے ایک بیان میں کہا کہ یونیورسٹی کے کم از کم سات طلباء کو  میانمار کی  ایک فوجی عدالت نے بند دروازوں کے پیچھے موت کی سزا سنائی۔ مقامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ینگون میں مقیم یونیورسٹی کے طلباء کو اپریل میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر بینک پر فائرنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ ڈیگن یونیورسٹی کی طلبہ یونین نے ایک بیان میں کہا کہ 'طلباء پر سزائے موت کا نفاذ فوج کی طرف سے انتقامی کارروائی ہے۔' 

مزید :

بین الاقوامی -