موہن جوداڑو اور ہڑپہ کہاں واقع تھے ، تہذیب کیا تھی ؟

موہن جوداڑو اور ہڑپہ کہاں واقع تھے ، تہذیب کیا تھی ؟
موہن جوداڑو اور ہڑپہ کہاں واقع تھے ، تہذیب کیا تھی ؟

  

مصنف: سرمور ٹیمر وھیلر

ترجمہ:زبیر رضوی

قسط:3

سب سے پہلے سندھ کی تہذیب کی ہیئت اور جوہر کے بارے میں کچھ کہنا ہوگا۔ اس وقت اس کا سب سے واضح علم موہن جوداڑو (یا موئنجوداڑو) اور ہڑپہ سے ہوتا ہے جو اس تہذیب کے سب سے بڑے شہر تھے۔ موہن جوداڑو سندھ میں دریائے سندھ کے کنارے اور ہڑپہ اس سے کوئی 400 میل شمال مشرق کی سمت پنجاب میں اس کی معاون ندی راوی کی پرانی گزرگاہ کے پاس واقع تھے۔ دونوں شہر3میل سے زیادہ گھیرے میں پھیلے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں شہر منصوبہ بندی کے کچھ واضح اور ترقی یافتہ قاعدوں کے مطابق بنائے گئے تھے۔ موہن جوداڑو کا سب سے اونچا مقام ایک ٹیلہ تھا۔ اس کی اونچائی 50 فٹ تک تھی اور شاید وہ1 قلعہ تھا جو مستطیل بلاکوں سے بنی شطرنج کی بساط جیسے پلان پر بنائے ہوئے شہر کے ایک سرے پر واقع تھا۔ ہڑپہ میں بھی ایسا ہی ٹیلہ شناخت کیا گیا ہے۔ وہاں کافی الٹ پھیر ہوئی ہے پھر بھی گمان یہی ہے کہ وہ ٹیلہ بھی ویسے ہی محلوں کی ساخت کے ساتھ واقع تھا۔

موہن جوداڑو کا ٹیلہ پختہ اینٹوں اور ٹھوس میناروں کے ذریعے مضبوط کیا گیا تھا۔ جنوب مشرقی کونے پر کھدائی سے برآمد ہونے والے ایک مجموعے میں سب سے پہلے جو مینار ملا اس میں اینٹوں کے اندر لکڑی کی چنائی کی گئی تھی۔ ٹیلے کی چوٹی پر جن عمارتی ساختوں کا پتہ چلا ہے ان میں ایک حمام یا تالاب تھا جو بڑی ہوشیاری سے بنایا گیا تھا اور اس پر مسالے کا لیپ کیا گیا تھا، اس کے پاس اینٹوں کا ایک اونچا چبوترہ تھا جو قلعے کی ڈھلوان کے سر ے پر بنا تھا اس پر روشنی اور ہوا کے لیے بنائی گئی نالیوں کے ایک سلسلے کے اوپر لکڑی کا ایک بہت بڑا غلّہ گودام تعمیر کیا گیا تھا۔ اس گودام کے ایک طرف آدھی اونچائی پر ایک لدائی کا چبوترہ تھا، اس کے نیچے اندر کی طرف جگہ بنی ہوئی تھی جہاں آس پاس کے گاوﺅں سے آنے والی اناج کی گاڑیاں ہانک کر لے جائی جا سکتی تھیں، جنوب مشرقی مینار کی طرح اس گودام والے بڑے چبوترے کی ساخت کے اندر بھی لکڑی چن دی گئی تھی، یہ غلط کام کیا گیا تھا، پرانے زمانے ہی میں یہ لکڑی گل سڑ گئی تھی اور کہیں کہیں بوسیدہ لکڑی کی جگہ اینٹوں کے پیوند لگا دیئے گئے تھے، اگرچہ یہ اونچی اور ٹھوس عمارتی ساخت اپنے بنیادی مقاصد کے لحاظ سے لازمی طور پر ایک سرے پر بنی تھی اور اس تک پہنچنا آسان تھا پھر بھی وہ قلعے کے حفاظتی انتظام کا ایک مضبوط حصہ رہی ہو گی۔

ٹیلے پر بنی دوسری عمارتوں میں کھمبوں والے2 وسیع کمرے اور بڑے تالاب کے پاس (شاید مذہبی رسوم کے لیے) کوٹھریوں اور غسل خانوں کا ایک سلسلہ تھا۔ اس کے علاوہ ایک لمبی عمارت (78X230) فٹ تھی۔ اس کی کھدائی کرنے والے کئی شناخت کے مطابق یہ کسی بہت اونچے درجے کے افسر یا شاید اعلیٰ مذہبی پیشوا کی رہائش گاہ یا مذہبی رہنماﺅں کی درس گاہ ہوگی۔ کچھ بھی قیاس کرلیجئے۔ بہرحال یہ بات یقینی ہے کہ یہ کوئی معمولی مکان نہیں تھا۔ مستقبل میں کھدائی اور کھوج کرنے والوں کے لیے ابھی بہت کام باقی ہے لیکن جو آثار ملے ہیں وہ یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں کہ یہ قلعہ مذہبی اور غیرمذہبی دونوں طرح کے مقاصد کے لیے سب سے بڑا مرکز تھا۔ اس میں قرونِ وسطیٰ کے اور جدید ہند میں مذہبی رسوم کے لیے بنے تالابوں جیسا تالاب‘ لوگوں کے جمع ہونے کے ہال اور سرکاری غلہ گودام موجود تھے۔ اس گودام کی حیثیت ایک جدید قومی بینک جیسی تصور کی جاسکتی ہے۔ عام طور سے یہاں بادشاہ اور مذہبی پیشواﺅں کی جس ملی جلی طرز حکومت کا اندازہ ہوتا ہے وہ قبل مسیح تیسرے ہزار سالہ قرن کے طرز کے عین مطابق تھی۔( جاری ہے )

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -