ایک مختصر سی نوکری نے روسو کی شخصیت کے کئی پوشیدہ گوشوں سے پردے اٹھا دئیے

ایک مختصر سی نوکری نے روسو کی شخصیت کے کئی پوشیدہ گوشوں سے پردے اٹھا دئیے
ایک مختصر سی نوکری نے روسو کی شخصیت کے کئی پوشیدہ گوشوں سے پردے اٹھا دئیے

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:52

 اب اس نے ایک بوڑھی مقامی جاگیردار خاتون کی ملازمت اختیار کرلی۔ مگر ابھی اس ملازمت کو3 ماہ ہی ہوئے تھے کہ مادام اگلے جہان سدھار گئیں۔ مادام تو چلی گئیں، مگر اس مختصر سی نوکری سے وابستہ ایک واقعے نے روسو کی زندگی پر انمٹ اثرات مرتب کیے اور اس کی شخصیت کی نفسیاتی ترکیب کے کئی پوشیدہ گوشوں سے پردے اٹھا دئیے۔ ہوا یوں کہ مادام کی وفات کے بعد اس کے لواحقین کی طرف سے اس کے تمام ملازمین کو فارغ کر دیا گیا، مگر جب اس کے چھوڑے ہوئے سامان کی فہرست بنائی جا رہی تھی تو معلوم ہوا کہ مرحومہ کا ایک قیمتی ربن غائب ہے۔ جب تلاشی لی گئی تو ربن روسو سے برآمد ہوگیا، مگر روسو نے بھرے مجمعے میں کہا کہ ربن اس نے نہیں چرایا، بلکہ مادام کی ایک نوجوان ملازمہ میرین نے اسے تحفے میں دیا تھا۔ اب میرین وہی خوش شکل نوجوان ملازمہ ہے جس سے وہ محبت کا ابھی دعویدار ہے۔ بعد میں بزدل روسو نے اپنے اس شرمناک فعل کا جواز”اعترافات“ میں یہ کہہ کر پیش کیا:

”میں نے اس لڑکی پر الزام لگایا تو شاید یہ بات واہیات محسوس ہو، لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ میری محبت میرے اس فعل کا باعث بنی تھی۔ وہ میرے ذہن پر چھائی ہوئی تھی، میرے دل میں بسی ہوئی تھی۔ جب وہ میرے سامنے آئی تو میرا دل کٹ کر رہ گیا، لیکن بہت سے لوگوں کی موجودگی کا دباﺅ اس قدر زیادہ تھا کہ میں اپنی غلطی کا اعتراف نہ کر سکا۔ مجھ کو سزا کا خوف زیادہ نہ تھا، بے عزتی کا خیال زیادہ تھا۔“

یہ تو درست ہے کہ وہ یہ عذر بھی پیش کرتا ہے کہ وہ اس زمانے میں بالغ نہیں تھا اور یہ ایک بچگانہ حرکت تھی، مگر ایک تو یہ سفید جھوٹ ہے۔ اس وقت اس کی عمر کم و بیش 18 برس تھی اور دوسرے عزت بچانے کے لیے محبت ہی کو سولی پر چڑھا دینا… یہ اس کی شخصیت کے ٹیڑھے پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ خیر، بعد میں اس بہتان طرازی کے احساس جرم نے اس کا عمر بھر پیچھا کیا اور اگر وہ کہتا ہے کہ”اعترافات“ لکھنے کی اولین وجہ یہی واقعہ ہے تو درست ہی کہتا ہے۔

ابھی ہم پیچھے مادام وارنز کا ذکر کر رہے تھے، وہ جس نے اسے تورین کی درس گاہ بھیجا تھا اور جہاں سے نکل کر وہ اس جاگیردار خاتون کا نوکر ہوا تھا، جہاں اوپر بیان کیا گیا چوری کا واقعہ پیش آیا۔ آیئے اس خاتون کا تذکرہ ذرا تفصیل سے بیان کریں، کیونکہ یہ روسو کی زندگی کی کہانی کا اہم کردار ہے۔ اس سے روسو کی تادم آخر وابستگی رہی اور اس نے بھی روسو کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا۔

 مادام دے وارنز ایک سوئس خاتون تھی، جو بیک وقت اپنے شوہر اور عقیدے کو ترک کرکے کیتھولک فرقے میں داخل ہوگئی تھی۔ وہ عجیب شخصیت کی مالک خاتون تھی۔ تصوف سے اسے دلچسپی تھی۔ کیمیا گری کا شوق وہ رکھتی تھی اور سٹے بازی کے مرض میں مبتلا تھی۔ بنیاد پرست کیتھولک عقیدہ تو اس نے اختیار کر لیا تھا، مگر مذہبی شعائر کی پابندی کے بارے میں آزاد خیال تھی۔ اور نوجوان لڑکوں سے تعلقات کے معاملے میں تو اور بھی کھلی ڈلی۔ وہ ظاہر ہے کہ ایک خوبصورت خاتون تھی، مگر روسو سے عمر میں 10 سال بڑی۔ جب روسو سے اس کی پہلی ملاقات ہوئی تو اس کو چرچ نے مذہبی تربیت کے لیے اس کے پاس بھیجا تھا اور اس کی عمر اس وقت تقریباً اٹھارہ انیس سال تھی۔ وہ پہلی ہی ملاقات میں اس کی شخصیت کا اسیر ہوگیا۔ ظاہر ہے،اسے ایک ایسی شخصیت مل گئی تھی جو ایک استاد کی طرح اس کی رہنمائی کرتی تھی۔ ایک سرپرست کی طرح مالی پریشانیاں دور کرنے کی سعی کرتی تھی اور ایک ماں کی طرح خبر گیری کرتی تھی۔ وہ خود بھی اسے ایک ماں کی طرح لیتا تھا اور"Maman" کہہ کر پکارتا تھا، مگر روسو کی ابتدائی جوانی کے ایام اور مادام کی اپنی ساحرانہ شخصیت کا کرشمہ… یہ تعلق غالباً ایک سال کے بعد ہی جنسی رشتے میں بدل گیا اور پھر تادم آخر یہ تعلق قائم رہا۔ وہ”اعترافات“ میں لکھتا ہے:

”وہ دن جس کا مجھے انتظار سے زیادہ خوف تھا، بالآخر آ پہنچا… پہلی بار میں نے خود کو کسی عورت کی بانہوں میں پایا اور وہ بھی ایک ایسی عورت، جس کی میں عزت کرتا تھا… کیا میں خوش تھا؟ نہیں! مجھے اپنی خوشی میں ایک ناقابل تسخیر دکھ کی ملاوٹ کا احساس تھا۔ “(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -