وہ شہر کی ہر سڑک، ہر گلی میں بھوکا پیاسا کام کی بھیک مانگتا پھرا

وہ شہر کی ہر سڑک، ہر گلی میں بھوکا پیاسا کام کی بھیک مانگتا پھرا
وہ شہر کی ہر سڑک، ہر گلی میں بھوکا پیاسا کام کی بھیک مانگتا پھرا

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:95

وہاں اسی طرح ہوتا تھا۔ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے، کام بند کردیا جاتا تھا۔ ایک آدمی نے بتایا کہ پہلے بھی ایسا ہوتا تھا اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ دنیا کو جتنی ہارویسٹر مشینوں کی ضرورت تھی وہ بنائی جا چکی تھیں۔ اب نئی مشینیں بنانے کےلئے پرانی مشینوں کے خراب ہونے کا انتظار کیا جانا تھا۔ اس میں کسی کا قصور نہیں تھا، کام ایسے ہی چلتا تھا۔ ہزاروں عورتوں اور مردوں کو شدید جاڑے میں کام سے فارغ کردیا گیا تھا۔ اب انھیں اپنی بچت پر گزارہ کرنا تھا، وہ بھی اگر کسی کی تھی تب، ورنہ موت ان کا مقدر تھی۔ شہر میں پہلے ہی ہزاروں بے روزگار کام کی بھیک مانگتے پھر رہے تھے اب ان میں مزید کئی ہزار کا اضافہ ہوگیا۔

دل شکستہ یورگس اپنی اجرت کے ساتھ گھر لوٹا۔ اس کی آنکھوں سے ایک اور پٹی کھل گئی تھی۔ ایک اور دھوکے کی ٹٹی اس پر آشکار ہوگئی تھی۔ مالکوں کی ایسی مہربانی اور شائستگی کس کام کی تھی جو اسے روزگار نہ دے سکے ! کیا بے ہودہ مذاق تھا !کہ ایک آدمی ملک کے لیے کٹائی کی مشینیں بنانے کےلئے غلاموں کی طرح کام کرے اور پھر اسے اپنا کام محنت سے کرنے کے عوض فاقوں مرنے کےلئے نکال باہر کیا جائے۔

اس صدمے سے سنبھلنے میں اسے 2دن لگے۔ اس نے شراب کا ایک قطرہ بھی نہیں پیا کیوں کہ الزبیٹا نے اس کے پیسے لے کر محفوظ کر لیے تھے اور وہ اس سے ڈرنے والی بھی نہیں تھی۔ وہ اٹاری ہی میںچھپا بیٹھا رہا۔ نوکری ڈھونڈنے کی کوشش کا بھی کیا فائدہ تھا ! لیکن مجبوری یہ تھی کہ جو چار پیسے تھے وہ تیزی سے ختم ہورہے تھے اور ننھا آنٹاناس ہر وقت بھوک اور سردی سے روتا رہتا تھا۔دائی میڈم ہاپٹ بھی اپنے بقیہ پیسوں کےلئے اس کی جان کو لاحق تھی۔ چنانچہ وہ ایک بار پھر باہر نکلا۔

اگلے10 دن تک وہ شہر کی ہر سڑک، ہر گلی میں بھوکا پیاسا کام کی بھیک مانگتا پھرا۔ وہ دکانوں، دفتروں میں بھی گیا، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں بھی کوشش کی، ریل روڈ یارڈز اور گودیوں میں بھی گیا، گوداموں، ملوں اور کارخانوں میں، جہاں دنیا بھر کے لیے سامان بنتا تھا، جا کر منتیں کیں۔ اکثر جگہوں پر کام کے ایک دو امکان ہوتے تھے لیکن ایک امکان کے لیے سو سو مزدور موجود ہوتے اور اس کی باری ہی نہ آتی۔ وہ رات کو اِدھر اُدھر کونے کھدروں میں سمٹ کر وقت کاٹتا لیکن پھر موسم زیادہ شدید سرد ہونے لگا۔ برف پڑنے لگی۔ شام ہی سے درجہ حرارت منفی5ہوجاتا اور رات کے ساتھ ساتھ مزید گرتا جاتا۔ ایسے میں وہ ایک وحشی جانور کی طرح کسی نہ کسی صورت ہیریسن پولیس اسٹیشن میں گھسنے کی کوشش کرتا جہاں وہ رات گزارتا۔ وہاں بھیڑ کا یہ عالم تھا کہ ایک ایک زینے پر دو دو بے گھر لیٹتے تھے۔

ان دنوں وہ اکثر جھگڑوں میں ملوث ہونے لگا۔ یہ جھگڑے کبھی غنڈوں سے ہوتے یا کسی فیکٹری کے گیٹ کے پاس رہنے کے لیے ہوتے تھے۔ اس نے دیکھا کہ ریل روڈ کے مسافروں کا سامان اٹھانا کافی آسان کام تھا لیکن اس نے جب بھی ایسی کوشش کی آٹھ دس آدمی اور لڑکے اس پر ٹوٹ پڑے۔ پولیس والے بھی ان کا ساتھ دیتے تھے اس لیے ان سے مدد بھی نہیں لی جا سکتی تھی۔

اگر وہ اب تک مرا نہیں تھا تو اس کی وجہ وہ پیسے تھے جو بچے کسی نا کسی طرح کما لاتے تھے لیکن یہ آمدنی بھی یقینی نہیں تھی۔ سردی بچوں کی سہار سے زیادہ ہوگئی تھی اس کے علاوہ انھیں بھی مقابلے کے دوسرے بچوں سے بچنا پڑتا تھا جو اکثر ان کا سامان لوٹنے اور انھیں مارنے کےلئے تیار رہتے تھے۔ قانون بھی ان کے خلاف تھا۔ ننھا ویلیم ویسے تو 11سال کا تھا لیکن دیکھنے میںبہ مشکل 8 سال کا لگتا تھا، اسے ایک عینک والی عورت نے کام کرنے سے روک دیا اور کہاکہ ابھی وہ بہت چھوٹا ہے اور اگر وہ دوبارہ اخبار بیچتا نظر آیا تو وہ عورت بچوں پر نظر رکھنے والے ٹرواینٹ آفیسر (truant officer) کو اس کی شکایت کر دے گی۔ ایک دن ایک اجنبی آدمی نے ننھی کترینا کو بازو سے پکڑ کر ایک تاریک گلی میں لے جانا چاہا۔ وہ اس واقعے سے اتنا ڈری کہ اسے کام پر بھیجنا بھی مشکل ہوگیا۔( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -