”بوڑھوں کی یونین“

 ”بوڑھوں کی یونین“
 ”بوڑھوں کی یونین“

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:69

اسی طرح من حیث القوم مسلمانوں کی اجتماعی خامیوں پر لطیف طنز کیا ہے جسے پڑھ کر اوّل تبسم اور پھر ندامت پیدا ہوتی ہے۔یہی طنز اور مزاح کا مقصد ہے مثلاً: ”مجھے امید ہے کہ اگر ہم نے افطار پارٹیوں کے بندوبست اور حاضری میں اسی لگن اور جانفشانی کو اپنائے رکھا تو ایک دن ہم روزے بھی رکھنا شروع کر دیں گے انشااللہ۔“

اس اقتباس میں اس روئیے کی نشاندہی کی ہے کہ ہم مذہب کی روح کے بجائے ظاہری تکلفات پر زیادہ زور دیتے ہیں ہمارے نزدیک خدا کی خوشنودی کے بجائے نمودونمائش اہم ہوتی ہے یہاں سالک کا طنز اس معیار کو چھو رہا ہے جو آل احمد سرور نے قائم کیا ہے لکھتے ہیں:

”اعلیٰ طنز میں ظرافت اور ادبی حسن دونوں ضروری ہیں خالص ظرافت نشیب و فراز کا احساس دلا کر مسرت و انبساط پیدا کرتی ہے طنز میں مسرت اور خوشی ملی جلی ہوتی ہے۔ اسلوب کی طرح طنز و ظرافت کا حسن بھی یہی ہے کہ اسکے غازہ و رنگ پر نظر نہ پڑے یعنی تلوار کر جائے کام اپنا پر نظر نہ آئے۔ “

صدیق سالک معاشرے کے مختلف پیشوں پر طنز کرتے ہیں لیکن ان کا مقصد اس پیشے سے وابستہ خامیاں ہوتی ہیں ان سے نفرت نہیں کیونکہ مجموعی طور پر وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں۔زیر نظر اقتباس میں سالک نے ڈاکٹری کے پیشے کے تقدس اور بڑے ڈاکٹروں کی بڑی فیس کے تضاد پر خوب صورت طنز کیا ہے لکھتے ہیں:

 ”آپ نے سنا ہو گا کہ ڈاکٹری مبینہ طور پر ایک مقدس پیشہ ہے میں بھی اس کی تائید کرتا ہوں اس پیشے کے تقدس کو برقرار رکھنا چاہیے اور یہ تقدس اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے کہ عوام کو ڈاکٹروں سے حتی الامکان دور رکھا جائے کیونکہ جہاں پر ہر ایرے غیرے کو رسائی ہو جائے وہاں تقدس مجروح ہو جاتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ بعض اعلیٰ ڈاکٹر اور سرجن بڑی بڑی فیسوں کے ذریعے اس تقدس کو برقرار رکھ رہے ہیں“

صدیق سالک طنز کے ساتھ مزاح بھی کرتے ہیں لفظی مزاح کے ساتھ ان کے ہاں خالص مزاح کی مثالیں بھی عام ملتی ہیں مثلاً:

”جیبی بٹوے کی قیمت بھی اتنی زیادہ نکلی کہ اگر میں اسے خرید لیتا تو بٹوے میں رکھنے کے لیے کچھ نہ بچتا“

ایک اور مثال دیکھیں:

 ”ماہِ رمضان میں اکثر شہروں میں ساری رات دکانیں کھلی رہتی ہیں تاکہ لوگ عبادت نہ کر سکیں اور دن کو سارا وقت بند رہتی ہیں تاکہ کوئی خریداری نہ کر سکے واقعی اللہ نے تیل دے رکھا ہو تو تمام اللّے تللّے چل جاتے ہیں۔“

صدیق سالک الفاظ کے ہیرپھیر سے مختلف صورتحال کو بڑے اچھے انداز میں بیان کر تے ہیں مثلاً :

”یہاں کامواصلاتی نظام با سلیقہ کاروں اور ناتراشیدہ ڈرائیوروں کے رحم و کرم پرہے کاروں کی ٹینکیاں پٹرول سے اور ڈرائیوروں کے دماغ غرور سے بھرے رہتے ہیں۔“

”ہمارے یہ ساتھی جن کی انگریزی اور بینائی دونوں کمزور تھیں۔“

صدیق سالک ایک درد مند انسان ہیں بعض اوقات ان کے مزاح کے پیچھے دکھ اور کرب کے سائے نظرآتے ہیں ”تادم تحریر“ کے مضمون ”بوڑھوں کی یونین“ میں لکھتے ہیں:

”اس یونین کا رکن بننے کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ امیدوار زندگی کی ایسی منزل پر پہنچ چکا ہو جہاں وہ گھر والوں کے لیے مالی لحاظ سے بوجھ اور سماجی طور پر باعثِ شرم بن چکا ہو۔“( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -