خودکشیاں ، عام غریبوں نے عزت نفس بچانے کا ”محفوظ راستہ “ ڈھونڈ لیا 

خودکشیاں ، عام غریبوں نے عزت نفس بچانے کا ”محفوظ راستہ “ ڈھونڈ لیا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

وہاڑی(بیورورپورٹ)غربت افلاس بے روزگاری اور بیماریوں سے تنگ مزدور کی بیوی بچوں سمیت خودکشی دراصل حکمرانوں اور معاشرے کے اہل ثروت لوگوں کے احساس کی موت ہے ۔ فیصل آباد میں قرض سے تنگ شخص کے بیوی اور تین بچیوں کو قتل کرکے خودکشی کرنے (بقیہ نمبر14صفحہ6پر )

کے سانحہ پر دہلتے دلوں کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے انجمن تاجران وہاڑی کے چئیرمن حاجی ساجد مسعود مغل نے کہا کہ اس سانحہ کی ذمہ داری حکمرانوں کی طرح اپنے اردگرد کی صورتحال اور بےکس لاچار اور مجبور طبقوں سے لاعلم رہنے والے صاحب ثروت افراد پر بھی عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بحیثیت معاشرہ اپنی اخلاقی بے حسی کے عروج پر ہیں۔ ہومیو ڈاکٹر قاضی شمس الدین نے کہا کہ بظاہر ہمارا ملک اسٹیبلشمنٹ ۔ بیوروکریسی ۔ ججز اور سیاستدانوں کیلئے ہی بنا ہے اس کے علاہ کسی شہری کے کوئی حقوق نہیں ہیں وہ تو قرضوں بے روزگاری مہنگائی بیماری کی وجہ سے خودکشیوں پر مجبور ہو کر رہ گئے ہیں اس میں برابر کے ذمہ دار ہم عوام بھی ہیں جو اللہ اور کے رسول کی نافرمانیوں میں لگے ہوئے ہیں انجمن حقوق کاشتکاراں کے مرکزی رہنما سید سخی حسین شاہ نے کہا کہ اگر ایک خلیفہ وقت فرات کے کنارے بھوک اور پیاس سے مرنے والے جانور تک کی ذمہ داری لے رہا ہے توآ ج کا حکمران طبقہ اور اور حکومت کے تمام عہدیداران معاشرے میں پڑنے والے بگاڑ اور غربت سے تنگ لوگوں کی خودکشیوں اور بھوک سے بلکتے بچوں کی ذمہ داری سے سبکدوش کیسے ہو سکتے ہیں۔ تاجر رہنما شیخ ثاقب سعید نے کہا کہ ہم معاشرتی طور پر غیر زمہ دار اور بے حس ہو چکے ہیں۔ ہمارے اردگرد لوگ فاقوں پر مجبور اور قرضوں بےروزگاری اور بدحالی کی وجہ سے اپنے بچوں کو قتل کرکے خود کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں اور ہمیں کچھ پتہ بھی نہیں ہے۔