’ اگر میاں بیوی کے درمیان اچھا تعلق قائم نہیں ہورہا تو راہیں جدا کرلینا بہتر، کوئی شخص خوشی سے اپنا گھر برباد نہیں کرنا چاہتا‘ طوبیٰ انور کھل کر بول پڑیں

’ اگر میاں بیوی کے درمیان اچھا تعلق قائم نہیں ہورہا تو راہیں جدا کرلینا ...
’ اگر میاں بیوی کے درمیان اچھا تعلق قائم نہیں ہورہا تو راہیں جدا کرلینا بہتر، کوئی شخص خوشی سے اپنا گھر برباد نہیں کرنا چاہتا‘ طوبیٰ انور کھل کر بول پڑیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی (آئی ین پی )پاکستان کے نامور اسلامک اسکالر مرحوم عامر لیاقت کی سابق اہلیہ اور اداکارہ طوبی انوار کا کہنا ہے کہ اگر میاں بیوی کے درمیان اچھا تعلق قائم نہیں ہورہا تو بہتر ہے کہ وہ عزت کے ساتھ راہیں جدا کرلیں، کوئی شخص خوشی سے اپنا گھر برباد نہیں کرنا چاہتا، لوگوں کو صفائیاں دینے کے بجائے ماضی میں اپنے نجی مسائل خود حل کرنے کی کوشش کی۔

طوبی انوار نے پوڈکاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے ماضی میں آنے والی مشکلات سے نکلنے تک کے سفر کے بارے میں کھل کر گفتگو کی۔ تاہم انہوں نے اپنے پورے انٹرویو میں عامر لیاقت کو مخاطب نہیں کیا بلکہ بالواسطہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ خیال رہے کہ طوبی انور نے 2018 میں خاموشی سے مرحوم عامر لیاقت سے شادی کی تھی، ان سے شادی کے بعد وہ اداکاری کے میدان میں بھی آئیں، تاہم 2022 میں انہوں نے خلع لے لی تھی۔ خلع کے کچھ ہفتوں بعد عامر لیاقت نے دانیہ ملک نامی لڑکی سے تیسری شادی کرلی تھی، انہوں نے پہلی شادی ڈاکٹر بشری سے کی تھی، جنہیں انہوں نے 2020 میں طلاق دی تھی اور وہ جون 2022 میں اچانک انتقال کر گئے تھے۔

پوڈکاسٹ کے شروع میں طوبی انوار نے اپنی زندگی کے مشکل حالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی طور پر مجھے لگتا ہے کہ میں خوش قسمت رہی ہوں کیونکہ میری فیملی نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے، میں نے اپنی زندگی میں مشکل ترین وقت دیکھا ہے جہاں میں نے محسوس کیا کہ اب میں زندہ نہیں رہوں گی، بس ختم ہوجاں گی، ایسا وقت بھی آیا کہ 6، 6 ماہ تک کسی سے بات نہیں کرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میرے قریبی لوگ بالخصوص میرے والدین میرے ساتھ تھے، میرے کچھ کہے بغیر بھی وہ سب کچھ سمجھ جاتے، میں ان کے سامنے گھنٹوں رو رہی ہوتی اور وہ میرے سامنے صرف بیٹھے ہوتے تھے اور یہی میرے لیے سب کچھ تھا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی مشکلات نے ان کی زندگی کو بدل دیا ہے، میرا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں ہے، کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون کیا کررہا ہے، 8 ماہ پہلے آپ مجھ سے بات کرتیں تو شاید میری ذہنی حالت بالکل مختلف ہوتی، اب میں زندگی میں بہت آگے بڑھ چکی ہوں، ایسا لگتا ہے کہ اللہ نے میرے لیے بہت سارے دروازے کھول دیے ہیں، تو پھر میں کیوں نہ اس کا شکر ادا کروں؟

اپنی ماضی سے سبق سیکھنے سے متعلق سوال پر طوبی انوار نے کہا کہ میں اب دل سے زیادہ دماغ سے کام لیتی ہوں، پہلے میں رشتے اور دوستیاں نبھانے کی میں ہر ممکن کوشش کرتی تھی اور جب دل ٹوٹتا تھا تو بہت زیادہ جذباتی ہوجاتی تھی اس لیے اب میں مزید اپنا دل نہیں توڑ سکتی، اب میں کوشش کروں گی کہ دماغ سے کام لوں۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -