میرے لئے اس کی آخری آواز بہت دکھ کا باعث ہے،اس کے بعد وہ خاموش ہی ہو گیا پھر کچھ نہیں بو لا، صرف مجھے ہی اس کے آنسو نظر آ رہے ہیں 

میرے لئے اس کی آخری آواز بہت دکھ کا باعث ہے،اس کے بعد وہ خاموش ہی ہو گیا پھر ...
میرے لئے اس کی آخری آواز بہت دکھ کا باعث ہے،اس کے بعد وہ خاموش ہی ہو گیا پھر کچھ نہیں بو لا، صرف مجھے ہی اس کے آنسو نظر آ رہے ہیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:شہزاد احمد حمید
 قسط:206
 میرے لئے اس کی آخری آواز بہت دکھ کا باعث ہے۔اس کے بعد وہ خاموش ہی ہو گیا پھر کچھ نہیں بو لا۔ صرف مجھے ہی اس کے آنسو نظر آ رہے ہیں۔ میرے لئے یہ منظر ایسا ہی ہے جیسے میرا کوئی اپنا زندگی کی بازی دھیرے دھیرے ہاررہا ہو۔ تکلیف دہ اور ناقابل برداشت۔ زندگی کی اس ہار کے سامنے سبھی بے بس ہیں، لاچار ہیں دوست۔         
سندھو کے ڈیلٹا میں کچھ جزیرہ نما مقامات ہیں جیسے کیٹی بندر، سکھی بندر، کوچین۔ وغیرہ۔ کوچین معروف نام ہے۔ محمد بن قاسم کے ہندوستان پر حملے کے وقت کوچین مشہور بندر گا ہ تھی۔ آج بھی یہاں زندگی کے آثار ملتے ہیں مگر یہ جزیرہ اب سکڑ کر اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ کھجور کے باغات کو سمندر کا نمکین پانی اجاڑ چکا ہے۔ زندگی کی رونقیں ماند پڑ چکی ہیں۔کچھ ایسا ہی حال قدیم کیٹی بندر اور سکھی بندر کا ہے۔سکھی سندھی زبان کالفظ ہے مطلب ”امیر،خوشحال“۔ کبھی یہاں کے رہنے والوں پر خوشحالی تھی۔ لوگ عمدہ سوتی کپڑا تیارکرتے جو دور دور تک مشہور تھا۔ اب ماضی جیسا یہاں کچھ بھی نہیں رہا ہے۔ سمندر نے سب کچھ برباد کر دیا ہے۔ کسی حاسد کی بری نظر نے اس بستی کو اجاڑ کر ماضی کا قصہ بنا دیا ہے۔یہاں بیتے دنوں کی یاد دلاتے کچھ اجڑے ہوئے ویران کھنڈر ہیں۔کیٹی کی بندرگاہ کو تو سندھو رخ بدل کر صفحہ ہستی سے ہی مٹا چکا ہے۔میرا دوست سندھوبھی کمال ہے،کسی کو برباد کر دیتا ہے اور کسی کوزیادہ غصہ دکھا کر صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیتا ہے۔ کبھی خوش ہو تو کوئی نئی جگہ اگل دیتا ہے۔لوگ کل بھی اس سے ڈرتے تھے اور آج بھی اس سے خوف کھاتے ہیں۔
مشہور یونانی مورخ ”ہیرو ڈوس“ لکھتا ہے؛
 ”جیسے مصر دریائے نیل کی بخشش ہے کچھ ایسی ہی بات سندھو کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔پنجاب اور سندھ کے زرخیز میدان اسی کی بخشش ہیں۔ وادی سندھ میں لوگ آج بھی آباد ہیں اورکل بھی رہیں گے۔ اس کے کناروں پر دنیا کی قدیم ترین تہذیب آباد تھی۔ قدیم سندھ اور آج کے سندھ میں لوگوں کی کثیر تعداد کی خوشحالی اور استحکام کا واحد سبب بھی سندھو ہی ہے۔ اس کے کنارے آباد لوگوں کے دلوں میں اس دریا(سندھو) کی بڑی اہمیت اور تقدیس ہے۔ اس کا پانی جسمانی اور روحانی طہارت مذہبی رسومات اور مردوں کے غسل کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے اور رہے گا۔ قدیم دورمیں تو اس کے پانی کوگندہ کرنا گناہ (پاپ) سمجھا جاتا تھا اور قدیم لوگ اس بات پر فخر بھی کرتے تھے کہ سندھو کا پانی پاک ہے۔“
 آج یہ بھی بدل گیا ہے۔ میرا دوست سندھو زندگی کا اولین سر چشمہ سمجھا جاتا رہاہے۔لوگوں کا اس پر ایمان تھا اور شاید آج بھی ہے کہ سندھو خشک سالی سے ان کی حفاظت کرتاہے۔ سندھو کے کنارے آبادمچھروں کی اپنی موسیقی ہے، اپنے مخصوص آلات اور اپنے ہی گیت ہیں۔سندھو کے گیت۔ کبھی اس کے سیلاب کو بھی مقدس خیال کیا جاتا تھا کہ دور دور تک اس کا پانی زرعی لحا ظ سے عمدہ مٹی کھیتوں میں بکھیر دیتا ہے۔ اس کے سیلاب میں بھی زرخیزی ہے۔ دریائے نیل پر بھی قدیم مصری قربانی دیتے تھے اور سندھو پر قدیم سندھی اور ہندوستانی۔ البتہ اس قربانی کا مقصد ایک ہی ہوتا تھا کہ یہ دریاان کو زیادہ خوش حالی، بھلائی اور استحکام بخشیں۔“
 ان دونوں دریاؤں سے وابستہ بہت سی کہانیاں ہیں، کچھ حقیقت اور کچھ فسانے۔ فرعونوں کی تہذیب اہل مصر کو بیشمار رسم و رواج دے گئی اسی طرح سندھو بھی وادی سندھ کو بہت سی رسوم دے گیا ہے جیسے ”نیل کی دلہن“ کا تہوار15اگست کو منایا جاتا ہے توسندھو کا تہوار 15جون کو۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -