پڑوسی کے مرغے نے ہمارے مورچے کے پاس آ کر انتہائی بدتمیزی کی،جواب میں ہم نے اس کی لاش اور 10کا نوٹ ٹرے میں رکھ کر ہمسائے کے گھر پہنچا دیئے

 پڑوسی کے مرغے نے ہمارے مورچے کے پاس آ کر انتہائی بدتمیزی کی،جواب میں ہم نے ...
 پڑوسی کے مرغے نے ہمارے مورچے کے پاس آ کر انتہائی بدتمیزی کی،جواب میں ہم نے اس کی لاش اور 10کا نوٹ ٹرے میں رکھ کر ہمسائے کے گھر پہنچا دیئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:114
 شفیق اپنے اس مورچے کو لے کربہت حساس تھا۔ایک روز ہمارے پڑوسی سرخرو خان کے دیو ہیکل مرغے نے آکر مورچے کے اردگرد چہل قدمی شروع کر دی، وہاں ٹھہرکر انتہائی بدتمیزی سے بانگیں دیں اور خوراک کی تلاش میں پہلے سے کھدی ہوئی مٹی کو دوبارہ کھود کر ادھر ادھربکھیرنے لگا جو ظاہر ہے اندر بھی گری ہوگی۔شفیق کو اس کی یہ حرکت ایک آنکھ نہ بھائی،اسے ششکارا،لیکن وہ باز نہ آیا اور اس وقت توحد ہی ہوگئی جب اس نے شفیق کی طرف پشت کر کے انتہائی بیہودہ انداز میں رفع حاجت کی پچکاری ماری جو سیدھی مورچے میں گئی۔اب تو اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا،اس نے قریب ہی بیٹھے ہوئے اباجان کی طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھا،انھوں نے اثبات میں سر ہلادیا۔ایک لمحے کا توقف کیے بغیر اس نے پاس ہی پڑا ہوا بھاری جوتا اٹھایا اورتاک کرٹھیک ٹھیک نشانہ لگایا جو کچھ زیادہ ہی زور سے لگ گیااور مرغ گر کر تڑپنے لگا،اباجان نے اس کی حالت غیر ہوتی دیکھی تو چھری پھیرکر اسے کشمکش دہر سے آزاد کر دیا۔اب مسئلہ یہ تھا کہ لاش کا کیا کیا جائے،آخر طے پایا کہ اسے ایک ٹرے میں 10 روپے کے نوٹ کے ساتھ رکھ کر اس پر کپڑا ڈال کرسرخرو خان کے گھر بھیج دیا جائے اور بڑا مجرم ہونے کی وجہ سے یہ ذمہ داری بھی شفیق کو ہی سونپی گئی، جو اس نے انتہائی ایمانداری سے پوری کی اور مقتول کو پورے احترام کے ساتھ مالک کے حوالے کر کے واپس بھاگ آیا۔بعد میں جو بھی ہوا وہ ابا جان اور سرخرو خان کے بیچ ہی ہوا،سنا تھا کہ اس نے 10 روپے واپس کر دئیے اورصبر شکر کر کے بیٹھ گیا۔ایک ماتحت اس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا تھا۔
ابا جان رات دیر سے گھر آتے تھے اور اکثر خاموش ہی رہتے تھے میں انھیں مجبور کرتا تھا کہ وہ جنگ کی صحیح اور اندر کی خبریں ہمیں بتائیں کیونکہ وہ خود آرمی سے منسلک تھے۔لیکن وہ دو چار عام سی باتیں بتا دیا کرتے تھے جو میں اگلے دن بڑھا چڑھا کر ان کے حوالے سے آگے پھیلا دیتا تھا۔ خیال رکھا جاتا تھا کہ ایسی کوئی بات نہ ہو جس سے نوجوانوں کا جذبہ جنون جو اس وقت درجہ ئ کامل پر پہنچا ہوا تھا کسی طرح کم ہو جائے۔ 
ایک دن خلاف معمول ابا جان جلدی گھر آ گئے، وہ واضح طور پر پریشان نظر آ رہے تھے۔ انھوں نے جلدی جلدی کھانا کھایا اور ہم دونوں بھائیوں کو بٹھا کر اطلاع دی کہ ان کی یونٹ کو فوری اور مستقل طور پر راولپنڈی کے لیے روانہ ہونا ہے۔ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ آخری دنوں میں داخل ہو گئی تھی۔ ایسے حالات میں ان کا یوں چلے جانے کا تصور ہی محال تھا۔ دو 3 دن میں انھیں سب کچھ سمیٹنا تھا اور ایک خصوصی فوجی ٹرین نے ان کو لے کر ہمیشہ کے لیے کراچی سے رخصت ہوجانا تھا۔انتہائی عجلت میں انھوں نے قصر صدارت کی سٹاف کالونی میں ہم دونوں بھائیوں کے رہنے کا بندوبست کیا اور ایک چھوٹا سا 2 کمروں پر مشتمل کوارٹر الاٹ کروا دیا۔ چونکہ صدر صاحب اب مستقل طور پر راولپنڈی منتقل ہو چکے تھے اور ان کا تقریباً سارا عملہ بھی اُن کے ساتھ ہی چلا گیا تھا اس لیے سٹاف کالونی میں کثیرتعداد میں گھر خالی پڑے تھے۔
مجھے اور شفیق کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے ابھی کچھ عرصہ مزید کراچی میں ہی رکنے کا عندیہ دے دیا۔ جس کا تصور بھی پریشان کن تھا۔میں تو بڑا تھا اپنے آپ کو سنبھال گیا، شفیق نے رو رو کر بُرا حال کر لیا اور وہ مسلسل ان کے ساتھ جانے کی ضد کرنے لگا۔ پہلے تو ابا جان نے انکار کر دیا لیکن جب اس کی حالت دیکھی تو ساتھ لے جانے پر رضا مند ہو گئے۔ اوراب مجھے تنہا ہی اس شہر میں رہنا تھا۔اور اس بار یہ تنہائی بڑی ہی گہری ہونے والی تھی۔
جس رات ان کی ٹرین کو روانہ ہونا تھا وہ سارا دن کراچی سٹی سٹیشن پر سامان اور جوانوں کوگاڑی تک پہنچانے کی نگرانی میں مصروف تھے اور صبح سے مسلسل سٹیشن کے چکر لگا رہے تھے۔ شام کو وہ ہمارے کوارٹر میں آئے شفیق کا سامان بھی جیپ میں رکھا، مجھے کچھ نصیحتیں کیں، کچھ پیسے دئیے اور جب وہ مجھے وہاں چھوڑ کر سٹیشن جانے لگے تو میرے آنسو نکل آئے اور میں نے اصرار کیا کہ میں بھی سٹیشن تک جاؤں گا۔ پہلے تو انھوں نے انکار کر دیا کہ حالات بہت خراب ہیں، بمباری بھی ہو رہی ہے، اور تھوڑی دیر میں رات ہوتے ہی بلیک آؤٹ بھی ہو جائے گا۔ مگر پھر کچھ سوچ کر مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیا۔شفیق بہت خوش تھا ایک تو اس کی ساتھ جانے کی خواہش پوری ہوئی دوسرا ٹرین کا سفر ہمیشہ ہی اس کے لیے خوشی اور کشش کا باعث بنتا تھا، یہاں تو خصوصی ٹرین تھی جس نے خراماں خراماں کئی دن بعد منزل مقصود تک پہنچنا تھا۔ گویا اگلے چند دن تک اس کا اوڑھنا بچھونا ٹرین کا ڈبہ ہی تھا۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -