اپنے دوستوں اور دیگر افراد کواپنی ازدواجی زندگی کے منفی اورناخوشگوار پہلو سے کبھی آگاہ نہ کیجیے، شریک حیات کو بھی اپنی تنقید اور مذمت کا نشانہ مت بنائیں 

اپنے دوستوں اور دیگر افراد کواپنی ازدواجی زندگی کے منفی اورناخوشگوار پہلو ...
اپنے دوستوں اور دیگر افراد کواپنی ازدواجی زندگی کے منفی اورناخوشگوار پہلو سے کبھی آگاہ نہ کیجیے، شریک حیات کو بھی اپنی تنقید اور مذمت کا نشانہ مت بنائیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: ڈاکٹر جوزف مرفی
مترجم: ریاض محمود انجم
قسط:119
ازدواجی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کیا ہے:
ازدواجی زندگی کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ آپ اپنے ہمسایوں اور رشتہ داروں سے اپنی گھریلو اور ازدواجی زندگی کے مسائل کے متعلق گفتگو کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر فرض کریں کہ اگر ایک بیوی اپنی ہمسائی سے کہتی ہے: ”جان مجھے پھوٹی کوڑی بھی نہیں دیتا، وہ میری ماں کے ساتھ نفرت اور کراہت انگیز سلوک کرتا ہے، بے تحاشا شرا ب نوشی کرتا ہے، اور وہ مسلسل گالیاں بکنے کے علاوہ میری تحقیر و توہین بھی کرتا رہتا ہے۔“
اپنے اس طرزعمل کے ذریعے، اپنی پڑوسیوں اور رشتہ د اروں کی نظر میں یہ بیوی اپنے خاوند کا مقام گرا رہی ہے، دوسروں کی نظر میں اپنے خاوند کی تحقیر و تذلیل کر رہی ہے۔ یہ خاوند اب اپنی بیوی کی نظروں میں غیرپسندیدہ شخصیت اختیار کر چکا ہے۔ یاد رکھیے کہ اپنے ازدواجی مسائل کے متعلق، کسی تربیت یافتہ اور کہنہ مشق مشیر اور ماہر فرد کے علاوہ کسی دوسرے شخص سے ہرگز گفتگو نہ کیجیے۔ بہت سے لوگ آپ کے شادی کے متعلق منفی انداز میں سوچتے ہیں؟ مزیدبرآں، جب آپ اپنے خاوند کی کمزوریوں اور خامیوں کے متعلق دوسرے لوگوں سے گفتگو کرتی ہیں، اور ان کمزوریوں اور خامیوں کو نظرانداز نہیں کرتیں تو اس طرح دراصل، یہی صورتحال، آپ اپنی ذات میں پید اکر رہی ہوتی ہیں۔ اس صورتحال کے متعلق کون سوچ بچار میں مبتلا ہے او رکون اسے محسوس کر رہا ہے؟ صرف آپ! جس طرح آپ سوچتی اور محسوس کرتی ہیں، آپ کی کیفیت بھی وہی ہو جاتی ہے۔
عام طور پر اور اکثر آپ کے رشتہ د ار اور عزیز، آپ کو غلط مشورہ ہی دیں گے۔ ان کا یہ مشورہ عام طور پر جانبداری اور تعصب پر مبنی ہوتا ہے کیونکہ ان کا طرزفکر ذاتی مفادکا حامل نہیں ہوتا۔ ایک سنہری اصول، جو ایک کائناتی اور عالمگیر قانون بھی ہے، اس کے خلاف ہر قسم کی تجویز اور مشورہ، نہ تو اچھائی پر مبنی ہے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی بہتری موجود ہے۔
یہ امر اور حقیقت بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے دو انسان، کبھی بھی چھوٹے موٹے لڑائی جھگڑوں سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اس ضمن میں، اپنے دوستوں اور دیگر افراد، اپنی ازدواجی زندگی کے منفی اورناخوشگوار پہلو سے کبھی آگاہ نہ کیجیے۔ اپنی ازدواجی زندگی کے جھگڑے اور اختلاف، اپنے تک ہی محدود رکھیں۔ اپنے شریک حیات کو بھی اپنی تنقید اور مذمت کا نشانہ مت بنائیں۔
اپنی بیوی کی فطری عادت بدلنے کی ہرگز کوشش نہ کیجیے:
اپنی بیوی کی فطری عادت بدلنے کی ہرگز کوشش نہ کیجیے۔ بیوی کی طبع کو تبدیل کرنے کی مصلحت آمیز کوشش بیوی کیلئے پریشانی کا سبب ہوتی ہے۔ اس قسم کی کوششیں ہمیشہ احمقانہ ثابت ہوتی ہیں اور اکثر اوقات ان کا انجام شادی کی منسوخی پر منتج ہوتا ہے۔ بیوی کی فطرت کو تبدیل کرنے کی کوشش اس کے فخر، غرور اور عزت نفس کو نقصان پہنچانے کا سبب ہوتی ہے، اور بیوی کے دل میں ختلاف اور ناراضگی کے احساسات پیدا ہو جاتے ہیں، اور یہ صورتحال شادی کے عہد اور بندھن کیلئے نہایت ہی مہلک ہے۔
بلاشبہ بیوی اور خاوند، دونوں کوایک دوسرے کی عادات کے مطابق ڈھال لینا چاہیے لیکن اگر آپ اپنے ذہن کو کھنگال کر دیکھیں اور اپنے کردار اور رویے کا جائزہ لیں، تو آپ کو اپنی ذات میں بہت سی کمزوریاں اور خامیاں نظر آئیں گی جو آپ کو آپ کی بقایازندگی میں مصروف رکھیں گی۔ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ میں اسے اپنی عادت کے مطابق ڈھال لوں گا، تو پھر آپ جھگڑے اور اذیت کے علاوہ طلاق کی بناء ڈال رہے ہیں، آپ تباہی و بربادی کو دعوت دے رہے ہیں۔ آپ کو یہ کڑوی گولی نگلنی ہو گی کہ اپنی ذات میں تبدیلی صرف آپ ہی لا سکتے ہیں۔(جاری ہے) 
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -